انڈونیشیا بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانے والا جنوب مشرقی ایشیا پہلا ملک بن گیا
ایمنیسٹی انٹرنیشنل انڈونیشیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عثمان حمید نے کہا کہ بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی ایک پیچیدہ مسئلے کا انتہائی سادہ حل ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انڈونیشیا نے سنیچر کو ملک بھر میں بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی نافذ کرنا شروع کر دی، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے یہ پابندی لاگو ہوگی۔
عرب نیوز کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں سائبر بلنگ اور انٹرنیٹ کی لت کو کم کرنے کی کوششیں بڑھ رہی ہیں۔
انڈونیشیا میں تقریباً سات کروڑ لوگ 16 سال سے کم عمر کے ہیں، جہاں سوشل میڈیا کے روزمرہ زندگی میں بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سائبر بولنگ، فحش مواد، آن لائن فراڈ اور کمپلسِو سکرین استعمال کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
یہ پالیسی ابتدا میں ان 16 سال سے کم عمر صارفین پر مرکوز ہوگی جو انڈونیشیا کی حکومت کی طرف سے ’ہائی رسک‘ قرار دی گئی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں، جن میں یوٹیوب، ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام، تھریڈز، ایکس، بیگو لائیو اور روبلوکس شامل ہیں۔
یہ پلیٹ فارمز نابالغ صارفین کی رسائی کو روکنے اور اکاؤنٹس کو ہٹانے یا غیر فعال کرنے کے پابند ہوں گے۔
وزیر مواصلات اور ڈیجیٹل امور، میوتیا حافِد پریس بریفنگ میں کہا کہ ان قوانین پر پابندی میں کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔ انڈونیشیا میں کام کرنے والا ہر کاروبار موجودہ قوانین کی پابندی کرے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایکس، بیگو لائیو، ٹک ٹاک اور روبلوکس نے نئی پالیسی کی تعمیل کے لیے تبدیلیاں کی ہیں یا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تعمیل نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
یہ اقدام اس پابندی کے بعد آیا ہے جو آسٹریلیا نے متعارف کروائی تھی، جو دنیا کا پہلا ملک بنا جو دسمبر میں ایسا کیا۔ دیگر ممالک بھی اس پر غور کر رہے ہیں، جن میں برطانیہ، ملائشیا، ڈنمارک، یونان، سپین، آئرلینڈ اور آسٹریا شامل ہیں۔
انڈونیشیا کے حکام نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل جگہوں میں خطرات کے حوالے سے بار بار انتباہ کر رہے ہیں۔ 2023 کی اقوام متحدہ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ تقریباً نصف نابالغوں نے سوشل میڈیا پر جنسی تصاویر دیکھی ہیں، جبکہ تقریباً نصف نے آن لائن بولئنگ کا سامنا کیا۔
ابیگیل، 13 سالہ ایک بچی، جو ویسٹ کالیمانتان صوبے سے ہے، نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پابندیاں نافذ ہونے سے اس کے روزمرہ معمولات پر بڑا اثر پڑے گا۔
آٹھویں جماعت کی طالبہ نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’میرے لیے، سوشل میڈیا بنیادی طور پر معلومات حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے، اور یہ تفریح کا بھی ذریعہ ہے۔‘
اگرچہ وہ جانتی ہے کہ انٹرنیٹ کا بہت زیادہ استعمال ذہنی صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے، لیکن وہ پابندی سے متفق نہیں ہے۔
’میری رائے میں، مکمل پابندی کے بجائے عمر کے مطابق کنٹرولز لگانا بہتر ہوگا۔‘
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل انڈونیشیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عثمان حمید نے کہا کہ بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی ایک پیچیدہ مسئلے کا انتہائی سادہ حل ہے۔
انہوں نے بیان میں کہا کہ ’توجہ ڈیجیٹل جگہوں کو محفوظ بنانے پر ہونی چاہیے، نہ کہ بچوں کو ان سے خارج کرنے پر۔
یہ پالیسی آج سے ؤنافذ ہو رہی ہے، بہت سے والدین اور بچے یہ نہیں جانتے کہ پابندی پر کس طرح عمل کیا جائے گا۔
32 سالہ ماں فرانسسکا انجیلینا، جن کی دو بیٹیاں 16 سال سے کم عمر ہیں، نے عرب نیوز کو بتایا ’میں اس کی نفاذ کے بارے میں سوچ رہی ہوں، یہ کتنا سخت ہوگا؟ کیا بچے پھر بھی رسائی حاصل کرنے کا راستہ تلاش کر لیں گے؟‘
انہوں نے کہا ’میری رائے میں، حکومت کی طرف سے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کے بجائے، سب سے اہم کام گھر پر والدین کا کردار ہے، جیسے محدود کرنا، نگرانی کرنا، اور صحت مند انٹرنیٹ استعمال کے بارے میں تعلیم دینا۔‘
