النصلہ کو ارضیاتی عجوبہ اور بھرپور تاریخی ورثے کی حامل چٹان کیا بناتا ہے؟
چٹانوں کے درمیان حیرت انگیز طور پر سیدھی اور تنگ دراڑ ہے (فوٹو: ایس پی اے)
تبوک کی تیما کمشنری کے جنوب مغرب میں دو چٹانیں ایک ساتھ جڑی ہوئی کھڑی ہیں جنہیں ’النصلہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ان چٹانوں کے درمیان حیرت انگیز طور پر ایک سیدھی اور تنگ دراڑ ہے جو یوں محسوس ہوتی ہے جیسے چٹان کو انتہائی درستگی سے کاٹا گیا ہو۔ اسی وجہ سے اسے اکثر ’جڑواں چٹان‘ بھی کہا جاتا ہے۔
النصلہ کا نام عربی لفظ ’نصلت‘ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے ’الگ ہونا جو ارد گرد کے پہاڑوں سے اس چٹان کی لاتعلقی کی عکاسی کرتا ہے۔‘
تقریباً آٹھ میٹر بلند یہ تشکیل دو قدرتی چٹان کی بنیادوں پر کھڑی ہے۔ غیرمعمولی ارضیاتی ساخت، قدیم نقوش اور چٹان کی سطح پر تراشے گئے آرٹ نے اسے تیما کے اہم ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک بنا دیا ہے۔

ہیریٹیج کمیشن کے مطابق النصلہ ایک ایسے وسیع علاقے میں واقع ہے جو اپنے متنوع آثارِ قدیمہ اور چٹانوں پر کندہ تحریروں کے لیے مشہور ہے جو خاص طور پر تبوک ریجن اور تیما کی تاریخی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اس چٹان کے قریب دیگر چٹانوں پر عہد ثمود کے آثار بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ آثار جانوروں کی مختلف شکلوں اور قدیم نقوش کی صورت میں موجود ہیں۔

صدیوں تک تیما کمشنری شمال مغربی عرب سے گزرنے والے قدیم تجارتی راستوں پر ایک اہم پڑاؤ رہی ہے۔ جڑواں چٹان نے مملکت کے منفرد ترین قدرتی ارضیاتی لینڈ مارک میں سے ایک کے طور پر شہرت حاصل کی۔
اس چٹان کی منفرد ساخت اور قدیم نقوش ایک بھرپور ورثے کی کہانی سناتے ہیں کہ کس طرح قدرتی عوامل نے وقت کے ساتھ اس منظرنامے کو تراشا، یہی چیز اسے ایک ارضیاتی عجوبے اور تاریخی ورثے کی علامت بناتی ہے۔
