وینزویلا: اردن کے امدادی کارکنان نے زلزلے کے چھ روز بعد ملبے سے تین سالہ بچے کو زندہ نکال لیا
وینزویلا کی پارلیمان کے صدر جارج روڈریگیز کے مطابق زلزلے کے بعد سے اب تک 6 ہزار 461 افراد کو ملبے سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں کے چھ روز بعد دارالحکومت کاراکاس میں ملبے تلے دبے تین سالہ بچے کو زندہ نکال لیا گیا، جسے امدادی کارروائیوں میں مصروف اردن کی ریسکیو ٹیم نے معجزانہ طور پر بچا لیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اردن کے محکمہ سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ ریسکیو اہلکاروں نے بچے کو ملبے سے نکالنے کے فوراً بعد ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور اسے ہسپتال منتقل کر دیا۔
جاری کردہ ویڈیوز میں امدادی کارکن بچے کو ملبے سے زندہ نکالنے پر خوشی کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ایک اور ویڈیو میں بچے کا چہرہ صاف کرتے اور ایمبولینس میں کمبل اوڑھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
سول ڈیفنس کے بیان کے مطابق بچے کی طبی حالت مستحکم ہے اور اس کی زندگی کی بنیادی علامات معمول کے مطابق ہیں، جبکہ اس کامیاب ریسکیو سے مقامی حکام کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق زلزلے کے بعد ابتدائی 72 گھنٹے ملبے تلے دبے افراد کو زندہ نکالنے کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں، اس لیے چھ روز بعد بچے کا زندہ ملنا ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
گذشتہ ہفتے وینزویلا میں 7.2 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس میں تقریباً دو ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے، ہزاروں لاپتا ہو گئے اور متعدد رہائشی عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو گئیں۔
دارالحکومت کے شمال میں واقع لا گوائرا کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں پوری کی پوری رہائشی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔
وینزویلا کی پارلیمان کے صدر جارج روڈریگیز کے مطابق زلزلے کے بعد سے اب تک 6 ہزار 461 افراد کو ملبے سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔