پاکستان میں سائبر کرائم میں مسلسل اضافہ، اراکینِ پارلیمنٹ بھی نشانے پر
پاکستان میں سائبر کرائم میں مسلسل اضافہ، اراکینِ پارلیمنٹ بھی نشانے پر
منگل 27 جنوری 2026 19:34
پاکستان میں سائبر جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس بار جعلسازوں کے نشانے پر اراکینِ پارلیمنٹ بھی آ گئے ہیں۔
این سی سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق 11 سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ آن لائن فراڈ کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کے اجلاس میں این سی سی آئی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اراکینِ قومی اسمبلی اور سینیٹرز کی جانب سے آن لائن فراڈ سے متعلق شکایات موصول ہوئی ہیں۔ این سی سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق جعلسازوں نے منظم طریقے سے زیادہ تر ممبرانِ پارلیمنٹ کو دھوکہ دہی کے ذریعے نشانہ بنایا۔
سائبر کرائم ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ملزمان نے رکنِ قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا سے چار لاکھ نوے ہزار روپے دھوکے سے ہتھیا لیے۔
اس کے علاوہ سینیٹر فلک ناز سے بھی شوکت خانم ہسپتال کے نام پر چار لاکھ 85 ہزار روپے وصول کیے گئے جبکہ سینیٹر بلال احمد مندوخیل سے بھی گورنر کے نام پر رقم ہتھیائی گئی۔
این سی سی آئی اے کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سینیٹر پلوشہ خان سے بھی آن لائن سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی کی گئی۔ اسی طرح ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سید لال خان کی جعلی آئی ڈی بنا کر ان کے نام پر بھی دھوکہ دہی کی گئی۔
اردو نیوز کو دستیاب این سی سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق آن لائن مالی فراڈ سے متعلق مقدمات میں ملزمان نے معروف شخصیات کے نام استعمال کر کے شہریوں سے رقم بٹورنے کی کوشش کی، کچھ مقدمات میں رقم کی برآمدگی بھی ہوئی ہے جبکہ چند مقدمات اس وقت زیرِ تفتیش بھی ہیں۔
سینیٹر فلک ناز سے منسوب کیس میں شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو کا روپ دھار کر مبینہ طور پر آن لائن رقم وصول کی گئی، جس کی مالیت چار لاکھ 85 ہزار روپے بنتی ہے۔ این سی سی آئی اے نے ملزم کو گرفتار کر لیا اور رقم بھی برآمد کر لی ہے۔
اسی طرح سینیٹر بلال احمد مندوخیل سے متعلق کیس میں ملزمان نے کسی اور کا روپ دھار کر رقم ہتھیائی۔ این سی سی آئی کی جانب سے ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں گورنر کے نام کا بھی استعمال کیا گیا۔
سینیٹر میر دوستین ڈومکی کو بھی سوشل میڈیا پر بدنامی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا (فوٹو: فیس بک)
این سی سی آئی اے کے مطابق ایک اور کیس میں سینیٹر نیاز احمد کے نام کو استعمال کرتے ہوئے ان کے جاننے والے فرد سے رقم ہتھیائی گئی۔ اس کیس میں بھی سائبر ایجنسی نے ملزمان کو گرفتار کرتے ہوئے رقم برآمد کی ہے۔
فہرست میں ارکانِ پارلیمنٹ سے متعلق دیگر نوعیت کے مقدمات بھی شامل ہیں، جن میں ممبر قومی اسمبلی راجہ خرم نواز کو ہراساں کیے جانے جبکہ ناز بلوچ کی جانب سے ہتکِ عزت کی شکایت درج کروائی گئی۔
این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سید لال خان کے نام پر جعلی آئی ڈی بنائی گئی، جسے این سی سی آئی اے نے بلاک کروا دیا۔
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک اور سینیٹر میر دوستین ڈومکی کو بھی سوشل میڈیا پر بدنامی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، جس میں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق سینیٹر پلوشہ خان سے متعلق بھی آن لائن جعل سازوں کی جانب سے مبینہ مالی فراڈ کی کوشش کی گئی، جو اس وقت زیرِ تفتیش ہے، جبکہ سینیٹر فیصل رحمان کے حوالے سے دو الگ انکوائریاں آن لائن ہراسانی کے معاملے پر زیرِ غور لائی گئیں۔