Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کے بی سی 18: کیا اجمل قصاب امیتابھ بچن سے ملنے آیا تھا؟ اجّول نکم کی چونکا دینے والی یادیں

امیتابھ بچن نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ’اگر اجمل قصاب اُن کے گھر تک پہنچ جاتا تو واپس نہ جا پاتا‘ (فائل فوٹو: سکرین گریب)
انڈیا کے مقبول ٹی وی شو ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ کا سیزن 18 ہر ہفتے معلومات، تفریح اور جذبات کا نیا امتزاج پیش کر رہا ہے۔
امیتابھ بچن کی میزبانی میں جاری مقبول کوئز شو کی 25 ستمبر کی خصوصی قسط میں اداکار راج کمار راؤ، وامیکا گبّی اور معروف سرکاری وکیل اجّول نِکم ایک ساتھ ہاٹ سیٹ پر نظر آئے۔
یہ تینوں شخصیات اپنی آنے والی فلم ’پرہار: دی اَن ٹولڈ سٹوری آف اجول نکم‘ کی تشہیر کے لیے ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ شو میں پہنچی تھیں۔
انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے مطابق دلچسپ بات یہ رہی کہ فلم کے مرکزی کردار کی حقیقی زندگی سے تعلق رکھنے والے اجول نکم خود بھی سوالوں کے جواب دینے کے لیے راج کمار اور وامیکا گبی کے ساتھ شریک ہوئے۔ 
تینوں نے انعام میں 12 لاکھ 50 ہزار روپے جیتے اور ساری رقم نابینا بچوں کے لیے کام کرنے والی جلگاؤں کی تنظیم ’منوبل‘ کو عطیہ کر دی۔
اس کوئز کے دوران معلومات کے ساتھ ساتھ تینوں کی ذاتی زندگیوں کے ایسے پہلو بھی سامنے آئے جنہوں نے اس قسط کو عام کوئز شو سے بہت مختلف بنا دیا۔
بہرحال پروگرام کا سب سے سنجیدہ اور چونکا دینے والا حصہ اجول نکم کی ممبئی میں 26 نومبر 2008 کے ’دہشت گرد‘ حملوں کے ملزم اجمل قصاب سے متعلق یادیں تھیں۔
اجول نکم نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد اجمل قصاب نے اپنی شناخت، گرفتاری کی تاریخ اور ممبئی آنے کی وجہ کے بارے میں کئی مختلف دعوے کیے تھے۔ 
سرکاری وکیل کے مطابق اجمل قصاب نے یہ بھی کہا تھا کہ ’وہ ہندی فلموں کا مداح ہے اور امیتابھ بچن کا گھر دیکھنے یا اُن سے ملنے ممبئی آیا تھا۔‘ 
’اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسے انڈیا کے خفیہ ادارے را (آر اے ڈبلیو یعنی ریسرچ اینڈ اینالسس ونگ) نے گرفتار کیا۔‘
این ڈی ٹی وی کے مطابق اجول نکم کے اس بیان کے بعد امیتابھ بچن کا برجستہ ردِعمل بھی شو کا نمایاں لمحہ بن گیا۔ 
سرکاری وکیل نے بتایا کہ قصاب نے ان سے ملنے کی بات کہی تھی تو امیتابھ بچن نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ اگر وہ اُن کے گھر تک پہنچ جاتا تو واپس نہ جا پاتا۔ اس گفتگو کو متعدد میڈیا اداروں نے شو کے نمایاں لمحات میں شمار کیا۔

راج کمار راؤ اور وامیکا گبّی فلم ’پرہار: دی اَن ٹولڈ سٹوری آف اجول نکم‘ کی تشہیر کے لیے شو میں آئے تھے (فائل فوٹو: آئی ایم ڈی بی)

دی ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق شو کے میزبان امیتابھ بچن نے کہا کہ ’ہم تو اسے وہیں گولی مار دیتے۔‘
واضح رہے کہ انڈیا میں 26 نومبر  2008 کو ایک ’دہشت گردانہ حملہ‘ ہوا تھا جس میں 166 افراد مارے گئے تھے جن میں 26 غیر ملکی بھی شامل تھے۔
امیتابھ بچن نے پوچھا کہ آخر اجمل قصاب کو سزا دینے میں اتنی دیر کیوں لگی؟ انہوں نے کہا کہ ’اسے تو وہیں گاڑ دینا چاہیے تھا، اتنا وقت کیوں لگا؟‘
اجول نکم نے بتایا کہ ’اجمل قصاب جب عدالت میں آیا تو وہ مجھے گھور رہا تھا اور میں اسے گھور رہا تھا۔۔۔۔ آپ کو تعجب ہوگا جو اس نے کہا کہ میں تو امیتابھ جی کو دیکھنے کے لیے آيا تھا یہ سچ میں ہوا ہے۔‘
اس پر امیتابھ بچن نے کہا کہ ’نہیں نہیں سر، اگر وہ آیا ہوتا تو وہ ہمارے گھر سے جانے والا نہیں تھا۔ وہیں ہم اسے گولی مار دیتے۔‘
ایک دلچسپ انکشاف راج کمار راؤ کی جانب سے ہوا۔ دو لاکھ روپے کے سوال پر مختلف ملکوں کے جھنڈوں کے ساتھ اُن کے قومی کھیل دیے گئے تھے۔
جنوبی کوریا کے جھنڈے کے حوالے سے ’تائیکوانڈو‘ کا جواب سامنے آیا تو راج کمار نے بتایا کہ ’اس کھیل سے اُن کا رشتہ محض معلومات تک محدود نہیں۔‘

اجول نکم نے بتایا کہ ’اجمل قصاب نے کہا کہ میں تو امیتابھ جی کو دیکھنے کے لیے آيا تھا یہ سچ میں ہوا ہے‘ (فائل فوٹو: وِکی پیڈیا)

اداکار کے مطابق ’فلموں میں آنے سے پہلے وہ دو مرتبہ قومی سطح پر تائیکوانڈو چیمپیئن رہ چکے ہیں۔‘ یوں کے بی سی کا ایک عام سا سوال اچانک راج کمار کی زندگی کے ایک کم معروف باب کا انکشاف بن گیا۔
راج کمار نے شو میں اپنے ابتدائی دنوں کی جدوجہد بھی یاد کی۔ انہوں نے بتایا کہ ممبئی آنے کے بعد وہ کبھی امیتابھ بچن کے بنگلے اور کبھی شاہ رخ خان کے ’منت‘ کے باہر کھڑے ہُوا کرتے تھے۔ 
شاہ رُخ خان کی نئی دہلی سے ممبئی اور پھر سپرسٹار بننے کی کہانی نے انہیں خاص طور پر متاثر کیا تھا۔ امیتابھ بچن نے بھی شاہ رُخ خان کے عزم اور دوسروں کا حوصلہ بڑھانے کی صلاحیت کی تعریف کی۔
اداکارہ وامیکا گبّی کے لیے بھی ’کے بی سی‘ کا یہ سفر جذباتی تھا۔ اداکارہ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ بچپن میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ ٹی وی پر ’کے بی سی‘ دیکھا کرتی تھیں اور پھر ایک دن خود اسی ’ہاٹ سیٹ‘ پر بیٹھ گئیں۔
اُن کے والدین بھی سٹوڈیو میں موجود تھے۔ وامیکا کے مطابق ’اس لمحے انہیں یوں محسوس ہوا جیسے ٹی وی کے سامنے بیٹھنے والا ان کا سارا خاندان اب پروگرام کے اندر آگیا ہو۔‘
 اُن کی یہ بات خاص طور پر متوسط طبقے کے ان خاندانوں سے جُڑی جن کے لیے ’کے بی سی‘ برسوں سے خاندانی ٹی وی یادداشت کا حصہ رہا ہے۔

شیئر: