انڈیا میں کامیاب فلموں کے سیکوئل بنانے کا رُجحان نیا نہیں ہے لیکن کچھ فلمیں اِس لیے بھی بنائی جاتی ہیں کہ ان کا سیکوئل بنایا جائے۔
اِن میں سے کچھ فلمیں صرف کہانیاں نہیں رہتیں، بلکہ وہ اپنے کرداروں کے ساتھ فلم بینوں کے ذہن میں ایک مستقل جگہ بنا لیتی ہیں اور فلم 'دریشیم' بھی ایسی ہی ایک فلم سیریز ہے، جس میں جرم سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ سچ کو چھپانے کے لیے انسان کس حد تک جا سکتا ہے؟
بالی وڈ کے معروف اداکار اجے دیوگن ایک بار پھر وجے سالگاؤںکر بن کر پردۂ سیمیں پر واپس آ رہے ہیں، مگر اس مرتبہ فلم ساز کا وعدہ یہ ہے کہ یہ فلم اس کہانی کا آخری باب ہوگا۔
مزید پڑھیں
انگریزی روزنامہ دی انڈین ایکسپریس کے مطابق ’دریشیم: دی کنکلوژن‘ انڈیا کے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے یوم پیدائش پر یعنی آج 2 اکتوبر 2026 کو ریلیز ہو رہی ہے اور اسے ہندی فرنچائز کی تیسری اور آخری فلم قرار دیا گيا ہے۔
ہدایت کار ابھیشیک پاٹھک نے بھی واضح کیا ہے کہ اس کے بعد اس ہندی سلسلے کی کوئی چوتھی فلم نہیں بنائی جائے گی۔
کہانی وہیں سے آگے بڑھتی ہے جہاں ’دریشیم 2‘ کا اختتام ہوا تھا۔
وجے سالگاؤںکر نے اپنے خاندان کو بچانے کے لیے قانون اور پولیس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا جو منصوبہ بنایا تھا، اس کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ لیکن اِس بار اس کے سامنے صرف پرانے سوالات نہیں بلکہ ایک نیا حریف بھی ہے۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اداکار جے دیپ اہلاوت ایس پی کرائم برانچ افسر راج ویر سنگھ تومار کے کردار میں نظر آئیں گے، جو وجے کے راز تک پہنچنے کے لیے پوری قوت لگا دیتا ہے۔ فلم میں ادکارہ تبو بھی میرا دیش مُکھ کے کردار میں واپسی کر رہی ہیں، جبکہ جنوبی ہند کے معروف اداکار پرکاش راج ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر لوگ ان کی کامک ٹائمنگ کے لیے پرجوش ہیں۔
اس فلم کی سب سے بڑی کشش یہ ہے کہ ہندی زبان میں بننے والی یہ فلم اب کسی موجودہ ملیالم کہانی کی صرف ایک نقل نہیں ہے۔ ہدایت کار ابھیشیک پاٹھک کے مطابق ’دریشیم: دی کنکلوژن‘ کے لیے ایک نئی اور طبع زاد کہانی تیار کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلم بینوں کے لیے انجام پہلے سے جانا پہچانا نہیں ہوگا۔
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق جنوبی انڈیا کی بااثر ملیالم فلمی دنیا میں موہن لال کی ’دریشیم‘ سیریز اپنی الگ راہ پر چل رہی ہے، جبکہ اجے دیوگن سٹارر ہندی فلم کا انجام مختلف رکھا گیا ہے۔

اور ناظرین کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ’دریشیم‘ میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ اہم ہے تو وہ ہے اختتام۔
ہدایت کار ابھیشک پاٹھک نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے فلم کا کلائمیکس محفوظ رکھنے کے لیے انٹرنیٹ اور ریڈٹ پر گردش کرنے والی مداحوں کی تھیوریز تک کا مطالعہ کیا، تاکہ وہ ایسے موڑ سے بچ سکیں جو فلم بین پہلے ہی سوچ چکے ہوں۔
فلم کے کلائمیکس کو اس حد تک راز میں رکھا گیا ہے کہ عملے کے بعض ارکان کو بھی فلم کے مکمل سکرپٹ تک رسائی فراہم نہیں کی گئی۔
دوسری جانب اجے دیوگن کے لیے بھی وجے سالگاؤںکر صرف ایک اور کردار نہیں رہا۔ اس کردار میں ان کی اداکاری کا انداز خاص طور پر کم گوئی، چہرے کے تاثرات اور مشکل ترین حالات میں غیر معمولی پُرسکون رہنا ہے۔
دی ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، اداکار نے حالیہ گفتگو میں کہا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ’دریشیم: دی کنکلوژن‘ ان کی پچھلی فلم سے ایک قدم آگے ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس فلم کو اداکار موہن لال کو دکھانا چاہتے تھے، کیونکہ ملیالم ورژن نے ہی ہندی میں اس پوری کہانی کی بنیاد رکھی تھی۔
اداکارہ تبو کی موجودگی فلم کی سنجیدگی میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ میرا دیش مُکھ کی شخصیت پہلی دو فلموں میں ذاتی صدمے، غصے اور انصاف کی تلاش سے جڑی رہی ہے، اور فلم ناقدین کے مطابق تیسری فلم میں یہ کشمکش ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
جے دیپ اہلاوت کی کہانی میں آمد ایک مختلف قسم کا دباؤ پیدا کرتی ہے۔ جے دیپ اہلاوت نے خود کہا ہے کہ وہ ایک ایسی فلمی دنیا میں داخل ہوئے جو پہلے ہی ناظرین میں مقبول ہے، اس لیے ان کے لیے یہ کردا ادا کرنے میں اس دنیا کے مخصوص مزاج کو سمجھنا اہم تھا۔
فلم کی ریلیز سے قبل اس کی تجارتی مانگ بھی خاصی نمایاں ہے۔
یکم اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق قومی سطح کی بڑی سنیما چینز میں فلم کی ایڈوانس بکنگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا کہ مختلف مراکز کو ملا کر فلم نے 11 لاکھ سے زیادہ ٹکٹوں کی پیشگی فروخت کا ہندسہ چھو لیا ہے۔
ایک اور اہم فلمی ویب سائٹ بالی وڈ ہنگامہ کے مطابق صرف پی وی آر، آئی نوکس اور سینی پولس جیسی تین بڑی قومی چینز میں ایک مرحلے پر تقریباً اڑھائی لاکھ ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں۔













