Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کون بنے گا کروڑ پتی کا 18واں سیزن؛ اس بار صرف جواب نہیں،’سوچنا پڑے گا‘

تقریباً دو دہائیوں تک ٹیلی ویژن کی دنیا میں لوگوں کی مستقل دلچسپی برقرار رکھنا کوئی کھیل نہیں۔ اگر یہ منفرد کارنامہ انڈیا میں سلمان خان کے ریئلٹی شو بگ باس‘ کو حاصل ہے تو یہ معلومات عامہ کے پروگرام کون بنے گا کروڑ پتی‘ کو بھی حاصل ہے۔
ٹیلی ویژن کی دنیا میں کچھ پروگرام ایسے ہوتے ہیں جو محض تفریح نہیں رہتے بلکہ وقت کے ساتھ ایک روایت بن جاتے ہیں اور کون بنے گا کروڑ پتی‘ (کے بی سی) بھی ایسا ہی ایک نام ہے۔
تقریباً دو دہائیوں سے ناظرین کو سوال، جواب، امید اور جذبات کے اس سفر سے جوڑنے والا یہ پروگرام ایک بار پھر اپنے 18ویں سیزن کے ساتھ واپس آ رہا ہے اور اس مرتبہ اس کے میزبان بھی وہی ہیں جن کی آواز اور انداز اس شو کی شناخت بن چکے ہیں، یعنی امیتابھ بچن، دیویو اور سجنوں ان کا تالیوں کی گونج کے ساتھ استقبال کیجیے۔
اس نئے سیزن کا آغاز وہ مسٹر پرفیکشنسٹ‘ یعنی عامر خان اور سنی دیول کے ساتھ کر رہے ہیں اور اس کی وجہ ان دونوں کی مشترکہ پیشکش فلم بٹوارہ 1947‘ ہے۔
کئی برسوں سے کے بی سی اور امیتابھ بچن ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھنے لگے ہیں، گوکہ اسے کبھی ارشد وارثی اور بالی وڈ کے بادشاہ‘ شاہ رخ خان بھی پیش کر چکے ہیں۔  
لاک کیا جائے؟‘،کیا یہ آپ کا آخری جواب ہے‘ سے لے کر امیدواروں کے ساتھ ان کی سنجیدہ گفتگو اور کبھی اچانک مزاحیہ فقرے سے بچن نے اس کوئز شو کو محض سوال جواب کا پروگرام نہیں رہنے دیا۔ اب سیزن 18 میں وہ ایک نئے وعدے کے ساتھ سامنے ہیں اور وہ وعدہ ہے سوچنا پڑے گا۔‘
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا بدل گیا ہے کہ جواب دینے سے پہلے سوچنا ضروری ہوگیا؟
کے بی سی کا نیا موضوع سوچنا پڑے گا‘ دراصل آج کے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل دور کی ایک بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایسے زمانے میں جب دنیا کی بیشتر معلومات ایک موبائل فون پر چند سیکنڈ میں دستیاب ہو جاتی ہیں، محض معلومات یاد رکھ لینا شاید پہلے جتنی بڑی خوبی نہیں رہی۔ اصل امتحان یہ ہے کہ انسان اس معلومات کو سمجھتا کیسے ہے، مختلف باتوں کو آپس میں جوڑتا کیسے ہے اور صحیح موقع پر اسے استعمال کیسے کرتا ہے۔
دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سیزن میں توجہ محض صحیح جواب جاننے‘ کے بجائے معلومات کے تجزیے، فہم، ربط اور عملی استعمال پر ہوگی۔ امیتابھ بچن کے نئے پروموز میں بھی اس کا اظہار نظر آتا ہے کہ جواب جیب میں موجود موبائل فون تک پہنچ چکا ہے، مگر صحیح جواب تک پہنچنے کے لیے عقل اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت اب بھی ضروری ہے۔

کے بی سی کا نیا موضوع ’سوچنا پڑے گا‘ دراصل آج کے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل دور کی ایک بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے (فوٹو: سونی ٹی وی)

یعنی کے بی سی میں اب سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ آپ کو جواب معلوم ہے؟‘ بلکہ شاید یہ بھی ہوگا کہ آپ اس جواب تک پہنچے کیسے؟‘
امیتابھ بچن بمقابلہ عامر خان
نئے سیزن کے افتتاحی پروگرام نے پہلے ہی ناظرین کی توجہ حاصل کر لی ہے کیونکہ پہلی قسط میں بالی وڈ کے دو بڑے سٹارز عامر خان اور سنی دیول امیتابھ بچن کے سامنے ہوں گے۔
پرومو میں عامر خان اپنے مخصوص انداز میں سب سے پہلے وہ سوال پوچھ بیٹھتے ہیں جو شاید کے بی سی دیکھنے والے ہر ناظر کے دل میں ہو سکتا ہے۔
عامر پوچھ بیٹھتے ہیں کہ آپ نے پرومو میں کہا ہے کہ سوچنا پڑے گا‘ تو سر! بتا دیجیے کہ کیا سوچنا پڑے گا؟‘
عامر کے سوال کا امیتابھ بچن جس انداز میں جواب دیتے ہیں، وہ پرومو کی جان بن جاتا ہے۔ بگ بی‘ کہتے ہیں: ایسا ہے سر، مجھے دیکھنے سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔‘
بات یہیں ختم نہیں ہوتی، بچن مزید خبردار کرتے ہوئے کہتے ہیں: اتنا آسان نہیں ہونے والا ہے۔‘
عامر بھی فوراً بات سمجھ لیتے ہیں اور مسکرا کر کہتے ہیں: واقعی سوچنا پڑے گا۔‘
روزنامہ دی ہندوستان ٹائمز کے مطابق عامر خان اور امیتابھ بچن کے درمیان یہ مختصر سی گفتگو اس سیزن کے مزاج کی ایک دلچسپ جھلک دکھا دیتی ہے۔ ایک طرف امیتابھ بچن کا تجربہ اور حاضر جوابی ہے تو دوسری طرف عامر خان کی وہی تجسس بھری شخصیت، جس کے لیے ہر چیز کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔
کے بی سی میں سنی دیول کی پہلی بار آمد

نئے سیزن کے افتتاحی پروگرام میں بالی وڈ کے دو بڑے سٹارز عامر خان اور سنی دیول امیتابھ بچن کے سامنے ہوں گے (فوٹو: سونی ٹی وی انسٹا گرام)

اگر عامر خان پہلے بھی اس شو کی زینت بڑھا چکے ہیں لیکن سنی دیول کی شرکت اس شو کے لیے ایک خاص لمحہ ہے۔ لیکن خاص بات یہ ہے کہ اس شو میں سنی دیول ان کے ساتھ عامر خان بھی موجود ہوں گے اور دونوں اپنی آنے والی فلم ’بٹوارہ 1947‘ کی تشہیر کے لیے وہاں موجود ہوں گے۔
اگرچہ کے بی سی کی ہاٹ سیٹ‘ اس مرتبہ محض ایک کوئز شو کا پلیٹ فارم نہیں ہوگی بلکہ بالی وڈ کے تین الگ مزاج رکھنے والے اداکاروں کی ملاقات کا مرکز بھی ہوگی۔ ایک طرف امیتابھ بچن کی دہائیوں پر محیط دلکش شخصیت، دوسری طرف عامر خان کی ذہانت اور تجسس، اور تیسری جانب سنی دیول کی جارح اور جذباتی شبیہ۔ ایسے میں یہ امتزاج خود بخود دلچسپی کا باعث ہوگا۔
سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے خاصا جوش دکھائی دیا۔ ایک صارف نے لکھا: عامر اور سنی دونوں کو ہاٹ سیٹ پر دیکھنا قابل دید ہوگا۔‘
عامر اور سنی کی یہ موجودگی اس لیے بھی اہم ہے کہ دونوں ایک ایسی فلم کے ساتھ آرہے ہیں جس کا تعلق تقسیم ہند جیسے حساس اور تاریخی موضوع سے ہے۔ اس فلم کے پروڈیوسرز میں عامر خان شامل ہیں جبکہ سنی دیول نے اس میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ فلم ’بٹوارہ 1947‘ میں تقسیم کے درد کو پیش کیا گيا ہے۔
اس سے قبل جون میں ریلیز ہونے والی اداکار دلجیت دوسانجھ کی فلم ’میں واپس آؤں گا‘ بھی اسی موضوع پر بننے والی فلم تھی اور تنازع کے باوجود اس فلم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
بٹوارہ 1947‘ راج کمار سنتوشی کی ہدایت میں بننے والی تاریخی فلم ہے جسے عامر خان نے اپنے پروڈکشن ہاؤس کے تحت پیش کیا ہے۔
فلم 1947 کی تقسیم، پنجاب کی تقسیم اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی المیے کے پس منظر میں بنائی گئی ہے۔ اس میں سنی دیول کے ساتھ پریتی زنٹا، شبانہ اعظمی، کرن دیول، علی فضل اور ابھیمنیو سنگھ سمیت متعدد فن کار شامل ہیں۔
اس فلم کے ساتھ ہی راج کمار سنتوشی اور سنی دیول کی جوڑی تقریباً تین دہائیوں بعد دوبارہ پردے پر اپنا جادو بکھیرنے کے لیے تیار ہے۔ اس سے قبل ان دونوں کی فلمیں ’گھائل‘، ’دامنی‘ اور ’گھاتک‘ میل کا پتھر ثابت ہوئی تھیں۔
فلم کی موسیقی اے آر رحمان نے ترتیب دی ہے جبکہ گیت جاوید اختر نے لکھے ہیں۔ فلم کو سنسر بورڈ سے بغیر کسی کٹ کے منظوری مل چکی ہے اور اس کی ریلیز 14 اگست 2026 مقرر ہے جسے پاکستان میں یومِ آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق یہ فلم پہلے لاہور 1947‘ کے نام سے بن رہی تھی لیکن بعد میں اسے بٹوارہ 1947‘ کا نام دیا گیا۔
کون بنے گا کروڑ پتی کا نیا سیزن سوموار یعنی 10 اگست سے شروع ہو رہا ہے۔

شیئر: