اس سے قبل آپ نے ’فاریسٹ مین آف انڈیا‘ اور ’تری مین آف انڈیا‘ کی کہانی پڑھی ہو گی اور آپ نے اردو کے معروف شاعر منور رانا کا نام بھی سنا ہو گا جن کے ’ماں‘ کے متعلق کہے گئے اشعار نے انہیں شہرت دوام بخشی ہے۔
اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ایک طرف تو ہم درختوں اور جنگلوں کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف ماں کی تو اس میں حیرت کی بات نہیں کیونکہ بالی وڈ کے ایک ادکار نے اپنی ماں کے لیے ایک خواب دیکھا اور پھر اس خواب کو زمین پر اتار لائے۔
کہتے ہیں کہ انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر کی سرزمین پر جب گرمی اپنے عروج پر ہوتی ہے، زمین کی دراڑیں کسی زخمی دل کی مانند دکھائی دیتی ہیں۔ کہیں خشک کنویں، کہیں پیاسے کھیت، کہیں دھوپ میں جھلسے ہوئے چہرے۔ مگر انہی ویران مناظر کے درمیان اداکار سایا جی شنڈے نے سبز خواب دیکھنے کی ہمت کی۔
مزید پڑھیں
آپ نے اگر فلم ’شُول‘، ’سرکار راج‘ اور ’سنجو‘ دیکھی ہوگی تو آپ ان کی منفرد اداکاری سے متاثر بھی ہوئے ہوں گے۔ وہ جنوبی ہند کی بے شمار فلموں میں آج بھی نظر آتے ہیں۔
بہرحال آج اس کی اصل پہچان پردۂ سیمیں سے کہیں آگے جا چکی ہے۔ اب لوگ انہیں درختوں کا عاشق، زمین کا بیٹا اور ماں کی محبت کو جنگلوں میں بدل دینے والا انسان کہتے ہیں۔
مہاراشٹر کے ضلع ستارا کے ایک کسان خاندان میں پیدا ہونے والے سایاجی نے بچپن ہی سے محرومی اور جدوجہد کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔
سنہ 1978 میں حکومت نے ڈیم تعمیر کرنے کے لیے ان کے خاندان کی زمین لے لی۔ بدلے میں خاندان کو صرف وعدے ملے اور سایاجی کو محکمہ آبپاشی میں چوکیدار کی نوکری۔
وہ زمین جس کا وعدہ کیا گیا تھا 35 برس بعد ایک طویل انتظار کے بعد جا کر ملی۔ اس طویل انتظار نے سایاجی کے دل میں ایک قسم کی تلخی پیدا کر دی تھی۔
وہ اکثر کہا کرتے ہیں کہ حکومت نے غریب کسانوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
وقت گزرتا گیا۔ سایاجی شندے فلموں میں آئے اور اپنی بے مثال اداکاری سے پورے ملک میں جانے گئے۔ شہرت، دولت، گاڑیاں، بنگلے، سب کچھ حاصل ہو گیا، لیکن دل کے اندر ایک خلا باقی رہا۔ انہیں محسوس ہوتا تھا کہ زندگی کا اصل مقصد صرف نام اور دولت جمع کرنا نہیں ہو سکتا۔
پھر سنہ 2016 میں جب مہاراشٹر شدید خشک سالی کی لپیٹ میں تھا تو سایاجی کچھ دیہاتوں میں امدادی کاموں کے سلسلے میں گئے۔ ایک جگہ انہوں نے دیکھا کہ تپتی دھوپ میں سینکڑوں لوگ ایک کھلے میدان میں بیٹھے ہیں اور دور دور تک کسی درخت کا نام و نشان نہیں۔ اس منظر نے انہیں اندر تک ہلا دیا۔ انہیں اچانک احساس ہوا کہ اگر گاؤں کو بچانا ہے تو سب سے پہلے درخت اگانے ہوں گے۔
اسی دوران ان کی زندگی میں ایک اور جذباتی کیفیت جنم لے رہی تھی۔ ان کی والدہ اس وقت بانوے برس کی ہو چکی تھیں۔ سایاجی اپنی ماں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور انہیں کھونے کا خیال ہی ان کے دل کو توڑ دیتا تھا۔

انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک دن وہ اپنی ماں کے پاس بیٹھے تھے۔ وہ ان سے بڑی بے بسی سے بولے: ’میں آپ کو ہمیشہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتا۔ موت کو روکنے کی طاقت میرے پاس نہیں۔ لیکن شاید میں آپ کی محبت کو کسی اور شکل میں زندہ رکھ سکوں۔‘
اسی لمحے ان کے ذہن میں ایک عجیب مگر خوبصورت خیال آیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ماں کے وزن کے برابر بیج تولیں گے اور انہیں پورے مہاراشٹر میں بوئیں گے۔
وہ کہتے ہیں ’جب یہ بیج درخت بنیں گے، پھول دیں گے، پھل دیں گے، سایہ دیں گے، تو ان کی خوشبو میں مجھے اپنی ماں کا احساس ہو گا۔ اس طرح میری ماں ہمیشہ زندہ رہے گی۔‘
یہ صرف ایک خیال نہیں تھا بلکہ ایک تحریک کی ابتدا تھی۔
سایاجی نے حیدرآباد سے دو ٹرک پودے منگوائے۔ ہر ٹرک پر لاکھوں روپے خرچ ہوئے، مگر انہیں اس کی پروا نہ تھی۔ اسی زمانے میں انہیں انڈیا کی قدیم روایت ’دیورائی‘ کے بارے میں معلوم ہوا۔
دیورائی دراصل ایسے مقدس جنگلات کو کہا جاتا ہے جنہیں لوگ عبادت اور احترام کے جذبے سے محفوظ رکھتے تھے۔ سایاجی نے اسی تصور کو نئی زندگی دی اور ’سہیا دری دیورائی‘ کے نام سے جنگلات اگانے شروع کیے، جو انہوں نے اپنی ماں کے نام منسوب کیے۔

ابتدا میں لوگوں نے اسے ایک فلمی اداکار کا جذباتی شوق سمجھا مگر جلد ہی یہ شوق عوامی تحریک میں بدلنے لگا۔ گاؤں کے لوگ ان کے ساتھ جڑتے گئے۔ کہیں بچے پودوں کو پانی دیتے، کہیں بزرگ ان کی نگرانی کرتے، کہیں خواتین انہیں اپنے بچوں کی طرح سنبھالتیں۔
ایک گاؤں جو ساٹھ برس سے بالکل بنجر تھا، وہاں سایاجی کے ایک دوست نے ایک لاکھ روپے دے کر شجرکاری مہم شروع کی۔ رفتہ رفتہ پورا گاؤں اس مہم میں شریک ہو گیا اور 17 لاکھ روپے جمع ہو گئے۔ آج وہاں 16 ہزار درخت لہلہا رہے ہیں۔ وہ پہاڑ جو کبھی مردہ دکھائی دیتے تھے، اب سبز چادر اوڑھے کھڑے ہیں۔
سایاجی صرف ماحولیات کی بات نہیں کرتے بلکہ دیہات کی معیشت بدلنے کا خواب بھی رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی گاؤں میں ایک ہزار املی کے درخت لگا دیے جائیں تو 15 برس بعد وہی درخت کروڑوں روپے کی آمدنی دے سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک درخت صرف سایہ نہیں دیتے بلکہ روزگار بھی پیدا کرتے ہیں۔
انہوں نے مذہبی روایت میں بھی ایک خوبصورت تجویز پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مندروں میں مٹھائی کے بجائے پودے بطور پرساد تقسیم کیے جائیں۔ لوگ انہیں عقیدت سے گھر لے جائیں گے، لگائیں گے اور حفاظت بھی کریں گے۔

سایاجی شندے کا خواب صرف پودے لگانے تک محدود نہیں۔
انہوں نے دو سو سے زیادہ برگد کے درختوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کروایا تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ ترقی کے نام پر ہر درخت کاٹنا ضروری نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برگد کے ایک درخت پر دو سو سے زیادہ پرندے، کیڑے اور تتلیاں انحصار کرتے ہیں۔ اگر ایک درخت کٹتا ہے تو دراصل ایک پوری دنیا اجڑتی ہے۔
آج مہاراشٹر کے 48 مختلف مقامات پر ان کی شجرکاری مہم جاری ہے۔ ساڑھے چھ لاکھ سے زیادہ درخت زمین میں جڑ پکڑ چکے ہیں۔ کہیں آم کے باغات ہیں، کہیں املی کے درخت، کہیں برگد کی ٹھنڈی چھاؤں۔ یہ سب دراصل ایک بیٹے کی اپنی ماں سے محبت کی کہانی ہے۔
سایاجی اکثر مسکراتے ہوئے کہتے ہیں ’لوگ مجھے اداکار کہتے ہیں مگر میرے نزدیک اصل ہیرو درخت ہیں۔‘
اور واقعی مہاراشٹر کی سرزمین پر جب ہوا درختوں سے ٹکراتی ہے، پھولوں کی خوشبو بکھرتی ہے اور پرندے چہچہاتے ہیں، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی ماں کی دعا اب بھی ان جنگلات میں سانس لے رہی ہو۔












