Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فلم انگھ: انڈیا کی شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ کی ایک کہانی جو ٹورانٹو سے دنیا تک پہنچی

31 سالہ تھیجا ریو کا تعلق ناگالینڈ سے ہے اور ’انگھ‘ ان کی پہلی فیچر فلم ہے (فوٹو: جارج پیومینٹل)
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعض فلم صرف فلم نہیں رہتی، بلکہ اپنے ساتھ ایک پورے خطے، زبان اور تہذیب کو دنیا کے سامنے لے آتی ہے۔
انڈیا کی شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ کے فلم ساز تھیجا ریو کی پہلی فیچر فلم ’انگھ‘ بھی ایسی ہی فلموں میں سے ایک ہے۔ گذشتہ دنوں یعنی 20 ستمبر سنہ 2026 کو ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (ٹف) میں ’انگھ‘ نے باوقار پلیٹ فارم پرائز جیت کر نہ صرف اپنے ہدایت کار کو عالمی سطح پر متعارف کرایا بلکہ ناگالینڈ کی کونیاک ثقافت اور زبان کو بھی بین الاقوامی سنیما کے نقشے پر اجاگر کیا۔
31 سالہ تھیجا ریو کا تعلق ناگالینڈ سے ہے اور ’انگھ‘ ان کی پہلی فیچر فلم ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فلم کونیاک زبان میں بنائی گئی ہے، جو انڈیا کے بھی 99 فیصد سے زیادہ ناظرین کے لیے اجنبی ہے۔ فلم کی کہانی 1960 کی دہائی کے ناگالینڈ کے ایک دور افتادہ کونیاک گاؤں میں بیان کی گئی ہے، جہاں روایت اور جدیدیت ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔
’انگھ‘ کا کا مقامی زبان میں مطلب ’سربراہ‘ یا ’مکھیا‘ ہے۔
فلم کا مرکزی کردار انگھبا ایک عمر رسیدہ قبائلی سربراہ ہے جو اپنے گاؤں اور آبائی عقیدے سے آخری دم تک جڑا رہنا چاہتا ہے۔ گاؤں کے بیشتر لوگ اپنی پرانی روایات چھوڑ کر مسیحی مذہب اور نئے طرزِ زندگی کی طرف بڑھ چکے ہیں۔
ایسے میں ایک امریکی مشنری کی آمد اس تبدیلی کو مزید تیز کر دیتی ہے۔ انگھبا، اس کی بیمار بیوی اور بولنے سے محروم بیٹے کی زندگی اس بدلتی ہوئی دنیا کے درمیان ایک ایسی تہذیب کی علامت بن جاتی ہے جو آہستہ آہستہ معدوم ہو رہی ہے۔
فلم ’انگھ‘ کی خاص بات صرف اس کی کہانی نہیں بلکہ اس کے پیش کش کا انداز بھی ہے۔ فلم کو 16 ایم ایم فلم پر عکس بند کیا گیا ہے، جس سے اس کے مناظر میں ایک خام، قدرتی اور قدرے پرانی دنیا کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
فلم میں مقامی ناگا فن کاروں کے ساتھ برطانوی اداکار اور بافٹا ایوارڈ یافتہ ڈگلس ہینشل بھی شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم کی بیشتر مقامی کاسٹ کے لیے کیمرے کے سامنے آنا تقریباً ایک نیا تجربہ تھا۔
اس سال ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں ’انگھ‘ پلیٹ فارم مقابلے میں شامل واحد انڈین فلم تھی۔ بارہ فلموں پر مشتمل اس مقابلے کا مقصد ایسی فلموں کو سراہنا ہے جن میں ہدایت کار کی منفرد آواز اور غیر معمولی تخلیقی وژن نظر آئے۔

’انگھ‘ کو ملنے والی یہ کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ اب اس فلم نے 2027 کے آسکر کی دوڑ میں شامل ہونے کی اہلیت حاصل لی ہے (فوٹو: جارج پیومینٹل)

جیوری نے فلم کو اس کے ’ترو تازہ نقطۂ نظر‘، مضبوط فلم سازی اور ایک ایسی دنیا کی مؤثر عکاسی کے لیے سراہا جس سے عالمی ناظرین عموماً ناواقف ہیں۔ ٹف کے سربراہ کیمرون بیلی نے بھی اسے ایک ایسی فلم قرار دیا جس جیسی مثال انہوں نے پہلے نہیں دیکھی۔
’انگھ‘ کو ملنے والی یہ کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ اب اس فلم نے 2027 کے آسکر کی دوڑ میں شامل ہونے کی اہلیت حاصل لی ہے۔
سنہ 2026 سے نافذ نئے ضوابط کے تحت بعض اہم بین الاقوامی فلمی میلوں میں مخصوص انعام جیتنے والی غیر انگریزی فلمیں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے زمرے میں غور کے لیے اہل ہوسکتی ہیں۔ تاہم اس کا مطلب آسکر نامزدگی نہیں بلکہ نامزدگی کے عمل میں داخل ہونے کی اہلیت ہے۔
لیکن ’انگھ‘ کی اصل اہمیت شاید آسکر سے بھی آگے ہے۔ یہ فلم اس تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ عالمی سنیما کے لیے کہانی وہی ہے جسے بڑے شہروں، معروف زبانوں یا بڑے فلمی مراکز سے بیان کیا جائے۔ ایک چھوٹے سے شمال مشرقی انڈین خطے، مقامی زبان اور وہاں کے لوگوں کی زندگی پر بنائی گئی فلم نے ٹورنٹو جیسے عالمی پلیٹ فارم پر اپنی جگہ بنائی۔

ٹورنٹو کا ایوارڈ تھیجا ریو کی فلم کا اعزاز ضرور ہے، مگر اس کی گونج اس چھوٹے سے کونیاک گاؤں سے کہیں زیادہ دور تک پہنچ چکی ہے (فوٹو: آئی ایم بی ڈی)

ایوارڈ وصول کرتے ہوئے تھیجا ریو نے اپنے وطن کے لوگوں کے نام یہ اعزاز کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسی جگہ سے آتے ہیں جہاں خواب اکثر حقیقت نہیں بنتے۔ ان کے مطابق یہ صرف آغاز ہے۔
شاید یہی ’انگھ‘ کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اس نے ناگالینڈ کو کسی سیاحتی منظر، سیاسی خبر یا دور افتادہ ریاست کے طور پر نہیں، بلکہ اپنی زبان، یادداشت، ثقافت، عقیدے اور انسانی کہانی رکھنے والی ایک زندہ دنیا کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔
ٹورنٹو کا ایوارڈ تھیجا ریو کی فلم کا اعزاز ضرور ہے، مگر اس کی گونج اس چھوٹے سے کونیاک گاؤں سے کہیں زیادہ دور تک پہنچ چکی ہے۔

 

شیئر: