Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حوثیوں کے حملے میں زخمی چھ پاکستانیوں کی آج واپسی، دو میتیں بھی لائی جا رہی ہیں

 قونصل جنرل مصطفی ربانی اور قونصلیٹ کے افسران نے زخمیوں کی خیریت دریافت کی
بحیرہ احمر میں ایک تجارتی بحری جہاز پر حوثیوں کے میزائل حملے زخمی ہونے والے چھ پاکستانی جمعرات کو پاکستان پہنچ رہے ہیں، حملے میں ہلاک ہونے والے دو پاکستانیوں کی میتیں بھی لائی جا رہی ہیں۔
زخمیوں میں ظہیر احمد، محمد امیر حمزہ، امتیاز علی جمعرات کی صبح  پی آئی اے کی پرواز پی کے 742 کے ذریعے اسلام آباد جبکہ محمد عابد علی، محمد رضوان اور محمد وحید پی کے 726 کے ذریعے کراچی پہنچ رہے ہیں۔
حوثیوں کے حملے میں جان سے جانے والے عمیر افضل اور  محمد اکرم کی میتیں السعودیہ کی پرواز ایس وی 700 کے  ذریعے کراچی پہنچائی جا رہی ہیں۔
پاکستانیوں کی نعشوں اور زخمیوں کو یمن سے سعودی عرب منتقل کیا گیا۔ اس سے پہلے ان پاکستانیوں کو بحیرہ احمر کے پورٹ سٹی موخا سے بذریعہ سڑک عدن پہنچایا گیا تھا۔ جہاں زخمیوں کو طبی امداد دی گئی۔
 بعد ازاں سعودی حکام کے تعاون سے عدن سے خصوصی پرواز کے ذریعے پاکستانیوں کو جدہ لایا گیا۔ سعودی وزارت داخلہ نے جدہ میں انتظامات کیے۔ ایمبولینسز اور دس رکنی میڈیکل ٹیم موجود تھی۔
 قونصل جنرل مصطفی ربانی اور قونصلیٹ کے دیگر افسران ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ انہوں نے زخمی پاکستانیوں کی خیریت دریافت کی اور ان کی وطن واپسی کے لیے تعاون کیا۔
قونصل جنرل مصطفی ربانی نے جدہ میں سعودی وزارت دفاع کی ٹیم اور یمن میں سعودی سفیر احمد الجابر کا شکریہ ادا کیا جہنوں نے چھ پاکستانی سیلرز اور دو پاکستانیوں کی میتوں کی منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے ذاتی کوششیں کیں۔
انہوں نے ایئرپورٹ پر موجود میڈیکل ٹیم کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے یمن سے آنے والے زخمی پاکستانیوں کا چیک اپ کیا، انہیں طبی امداد دی اور پاکستان کے لیے ان کے محفوظ سفر کو یقینی بنایا۔
یمن سے واپس آنے والے تمام پاکستانیوں کے حوصلے بلند تھے۔ انہوں نے تعاون اور مدد پر سعودی حکومت اور پاکستانی حکام کا شکریہ ادا کیا۔
قونصل جنرل مصطفی ربانی نے اردو نیوز کو بتایا پورے آپریشن کے دوران سفارتخانہ پاکستان ریاض اور قونصلیٹ، ریاض اور جدہ میں سعودی وزارت خارجہ سے قریبی رابطے میں رہے۔
یاد رہے یہ پاکستانی سیلر تجارتی جہاز تہامہ پر سوار تھے جو گیارہ اگست کو آبنائے باب المندب سے گزرتے ہوئے حوثیوں کے میزائل حملوں کی زد میں آیا تھا۔
یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے بتایا تھا کہ ’حوثیوں نے باب المندب سے گزرنے والے ایک مال بردار بحری جہاز ’تہامہ‘ پر چار میزائل فائر کیے۔ میزائلوں کے حملے کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی اور اسے شدید نقصان پہنچا۔‘
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی تھی کہ بحیرۂ احمر میں ایک غیر جنگی تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے میں تین پاکستانی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاض میں سفارتخانے کو ہدایت دی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ فوری طور پر رابطہ کریں۔ پاکستانی شہریوں کی میتوں کی بازیابی اور وطن واپسی کے لیے تمام ضروری اقدامات کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھائیں، اور زخمی پاکستانی شہریوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔‘

 

شیئر: