Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی سفیر کا دورہٴ کشمیر، پاکستان کا امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج

پاکستان کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان نے انڈیا میں تعینات امریکی سفیر سرجیو گور کے انڈیا کے زیرانتظام جموں و کشمیر کے دورے اور اس دوران کشمیر کی حیثیت سے متعلق دیے گئے ’غلط اور غیر ذمہ دارانہ‘ بیان پر امریکی ناظم الامور (چارج ڈی افیئرز) کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے بدھ کو جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی سفیر کے اس بیان کو سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے جس میں انہوں نے جموں کشمیر کو ’انڈیا کا حصہ‘ قرار دیا تھا۔ 
پاکستان کا کہنا ہے کہ ’جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا باقی ہے۔‘
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا کہ ’امریکی سفیر کا یہ بیان مسئلے پر امریکہ کے اپنے دیرینہ اور تسلیم شدہ موقف کی نفی کرتا ہے اور بین الاقوامی قوانین و اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی کے لیے امریکی عزم کے خلاف ہے۔‘
پاکستان نے ’معرکہٴ حق‘ کے بعد مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو سراہتے ہوئے امریکی حکام پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے عوامی بیانات جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کے مطابق رہیں۔
انڈیا میں تعینات امریکی سفیر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بالائی و وسطی ایشیا کے لیے خصوصی نمائندے سرجیو گور نے بدھ 19 اگست 2026 کو سرینگر میں انڈیا کے زیرانتظام جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کی۔
سرجیو گور جموں و کشمیر اور لداخ کے دو روزہ دورے پر بدھ کے روز سرینگر پہنچے تھے۔
وہ گزشتہ برس انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والے فوجی تصادم اور سنہ 2020 میں مشرقی لداخ کی وادیٴ گلوان میں انڈین اور چینی افواج کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کے بعد کشمیر کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی سفارت کار ہیں۔
علاقے میں بڑھتی ہوئی سٹریٹجک تبدیلیوں اور انڈیا امریکہ کے تعلقات کے تناظر میں امریکی سفیر کے اس دورے کو ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سری نگر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سرجیو گور نے کہا کہ ’واشنگٹن جموں و کشمیر کے لیے اپنے سفری ہدایت نامے (ٹریول ایڈوائزری) پر نظرثانی کرے گا۔ ‘
انہوں نے اس کی وجہ ’سکیورٹی صورتحال میں بہتری اور مرکزی حکومت کے علاوہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو قرار دیا۔‘

شیئر: