Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اقوامِ متحدہ کی قیادت کی دوڑ میں شامل پانچ خواتین سمیت آٹھ امیدوار کون ہیں؟

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مدتِ ملازمت کے اختتام کے بعد عالمی ادارے کی قیادت سنبھالنے کے لیے پانچ خواتین اور تین مرد امیدوار میدان میں ہیں۔ دنیا اس وقت غیر معمولی عالمی کشیدگی، جنگوں اور خود اقوامِ متحدہ کو درپیش شدید مالی بحران جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔
مبصرین کے مطابق اس مرحلے پر کسی ایک امیدوار کو واضح طور پر فیورٹ قرار دینا مشکل ہے، کیونکہ بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان اتفاقِ رائے موجود نہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پہلی غیر رسمی رائے شماری میں کوسٹا ریکا کی ربیکا گرینسپن سب سے آگے رہیں۔
دیگر امیدواروں میں ارجنٹائن کے رافیل گروسی (بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ)، چلی کی مشیل باشیلیٹ، ایکواڈور کی ماریا فرنانڈا ایسپینوسا، گیانا کی کیرولین روڈریگز برکیٹ، ایکواڈور کی ایوون اے باکی، یوگنڈا کے اولارا اوتونّو اور سینیگال کے ماکی سال شامل ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے 15 رکنی سلامتی کونسل میں کسی امیدوار کو کم از کم 9 ووٹ درکار ہوں گے، تاہم اسے مستقل اراکین امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس اور روس میں سے کسی ایک کے ویٹو سے بھی بچنا ہوگا۔ سلامتی کونسل کی سفارش کے بعد جنرل اسمبلی نئے سیکریٹری جنرل کی منظوری دیتی ہے۔

ربیکا گرینسپن (کوسٹا ریکا)

70 سالہ ربیکا گرینسپن، کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر اور اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی  کی سربراہ ہیں۔ انہوں نے سیکریٹری جنرل کے انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لیے عہدے سے رخصت لی۔
2022 میں روس اور یوکرین کے درمیان بلیک سی گرین انیشی ایٹو کرانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے ذریعے روسی حملے کے بعد اناج کی برآمدات بحال ہوئیں۔

مشیل باشیلیٹ (چلی)

74 سالہ باشیلیٹ چلی کی پہلی خاتون صدر رہ چکی ہیں۔ وہ سابق فوجی حکمران آگستو پنوشے کے دور میں تشدد کا نشانہ بھی بنیں۔
بعد ازاں اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق رہیں، جہاں چین کے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں سے متعلق رپورٹ پر بیجنگ سمیت کئی ممالک نے ان پر تنقید کی۔

ماریا فرنانڈا ایسپینوسا (ایکواڈور)

61 سالہ سابق وزیر خارجہ اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سابق صدر ایسپینوسا عالمی ادارے میں اصلاحات کی حامی ہیں۔
انہوں نے ممکنہ تنازعات کی بروقت نشاندہی کے لیے "ابتدائی انتباہی نظام" قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔

رافیل گروسی (ارجنٹائن)

65 سالہ سفارت کار رافیل گروسی 2019 سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ ہیں۔
ایران کے جوہری پروگرام اور یوکرین کے زاپوریژیا جوہری پلانٹ کے معاملے میں وہ عالمی سفارت کاری کے اہم کردار رہے ہیں۔ انہوں نے انتخابی مہم کے لیے اپنا موجودہ عہدہ چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے اسے اپنی ذمہ داری قرار دیا۔

کیرولین روڈریگز برکیٹ (گیانا)

52 سالہ سابق وزیر خارجہ اس وقت اقوامِ متحدہ میں گیانا کی مستقل مندوب ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کو عالمی سطح پر اپنی ساکھ بحال کرنے کی ضرورت ہے اور ادارے کی خدمات صرف امن و سلامتی تک محدود نہیں بلکہ ترقی اور انسانی حقوق کے شعبوں میں بھی نمایاں ہیں۔

ایوون اے باکی (ایکواڈور)

75 سالہ سفارت کار اور سیاست دان ایوون اے باکی کو ٹونگا نے نامزد کیا ہے۔
وہ امریکہ میں ایکواڈور کی سفیر رہ چکی ہیں اور قطر میں بھی سفارتی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ لبنانی نژاد باکی نے 1995 کی ایکواڈور-پیرو سرحدی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں کردار ادا کیا۔

ماکی سال (سینیگال)

64 سالہ ماکی سال واحد امیدوار ہیں جو لاطینی امریکہ سے تعلق نہیں رکھتے، حالانکہ روایتی طور پر اگلا سیکریٹری جنرل اسی خطے سے منتخب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
سابق سینیگالی صدر امن اور ترقی کے باہمی تعلق پر زور دیتے ہیں، تاہم ان پر 2021 سے 2024 کے دوران سیاسی مظاہروں کو طاقت سے کچلنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

اولارا اوتونّو (یوگنڈا)

75 سالہ اولارا اوتونّو 1997 سے 2005 تک سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے دور میں بچوں اور مسلح تنازعات کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے رہے۔
وہ اقوامِ متحدہ میں یوگنڈا کے مستقل مندوب اور مختصر عرصے کے لیے وزیر خارجہ بھی رہ چکے ہیں۔ 2011 میں انہوں نے صدارتی انتخاب بھی لڑا، تاہم طویل عرصے سے برسراقتدار یوویری موسیوینی سے شکست کھا گئے۔

شیئر: