Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور میں ٹریفک چالان نادہندگان کے گرد گھیرا تنگ، پولیس سروسز بند کرنے کی تجویز

پانچ لاکھ سے زائد موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں ایسی ہیں جن کے ذمے پانچ یا پانچ سے زائد چالان واجب الادا ہیں (فائل فوٹو: سوشل میڈیا)
صوبائی دارالحکومت لاہور میں ٹریفک قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کرنے اور چالان کی رقم جمع نہ کروانے والے شہریوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے ٹریفک پولیس نے انتہائی سخت پالیسی مرتب کر لی ہے۔
شہر میں بڑھتے ہوئے نادہندگان، زیر التوا چالان اور قانون شکنی کے عمومی رجحان کو کنٹرول کرنے کے لیے چیف ٹریفک آفیسر لاہور عبد الرحیم شیرازی کی جانب سے اعلیٰ حکام کو ایک انتہائی اہم اور باضابطہ مراسلہ ارسال کیا گیا ہے۔
اس مراسلے میں سفارش کی گئی ہے کہ ٹریفک چالان نہ بھرنے والے تمام نادہندگان کے لیے پنجاب پولیس کے تحت ملنے والی تمام تر عام و خاص سہولیات اور سروسز کو فوری طور پر معطل کر دیا جائے۔
سی ٹی او لاہور کی جانب سے بھیجے گئے اس ہنگامی مراسلے میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ جب تک کوئی شہری اپنے تمام زیر التوا اور التوا میں پڑے ہوئے چالان کی مکمل رقم ادا نہیں کرتا، تب تک اسے پولیس خدمت مراکز یا محکمہ پولیس کے کسی بھی دوسرے شعبے سے کوئی بھی سرکاری سہولت فراہم نہ کی جائے۔
مراسلے کے مندرجات کے مطابق ’نادہندہ شہریوں کو پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ، ڈرائیونگ لائسنس کا اجراء و تجدید، گاڑیوں کی کاغذی تصدیق، کرایہ داری کی رجسٹریشن، اور دیگر تمام اہم تصدیقی اسناد دینے پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی۔‘ اس کے ساتھ ساتھ محکمہ مال اور دیگر انتظامی اداروں کے ساتھ مل کر گاڑیوں کی ملکیت کی منتقلی پر بھی تب تک روک لگانے کی سفارش کی گئی ہے جب تک کہ متعلقہ گاڑی پر عائد تمام چالان کی رقم کی وصولی کا تصدیق شدہ چالان فارم پیش نہ کر دیا جائے۔
اگر لاہور میں ٹریفک پولیس اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے سرکاری ریکارڈ کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو اس وقت لاہور میں ای چالان اور دستی چالان کے نادہندہ شہریوں اور گاڑیوں کی کل تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ وہ شہری ہیں جنہوں نے بار بار نوٹسز بھیجے جانے کے باوجود چالان کی رقم جمع کروانے سے مکمل طور پر گریز کیا۔
مزید برآں ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ لاکھ سے زائد موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں ایسی ہیں جن کے ذمے پانچ یا پانچ سے زائد چالان واجب الادا ہیں۔ التوا میں پڑے ہوئے ای چالان کی مجموعی تعداد اب تک پچاس لاکھ سے بھی آگے نکل چکی ہے، جس کے باعث سرکاری خزانے کے دو سے تین ارب روپے ان نادہندگان کی طرف واجب الادا ہیں۔
ٹریفک پولیس لاہور اس سے قبل بھی نادہندگان اور شدید قانون شکن ڈرائیوروں کے خلاف متعدد سخت اقدامات اور کریک ڈاؤنز کا اعلان کر چکی ہے۔ ماضی میں سیف سٹیز اتھارٹی کے ای چالان نظام کے تحت بیس سے زائد چالان والے نادہندگان کی گاڑیوں کو موقع پر بند کرنے، ان کی رجسٹریشن منسوخ کرنے اور ڈرائیونگ لائسنس معطل کرنے جیسے سخت اعلانات کیے گئے تھے۔

خصوصی ٹریفک سکواڈز اور اینٹی ڈیفالٹر ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس کے علاوہ خصوصی ٹریفک سکواڈز اور اینٹی ڈیفالٹر ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی تھیں جن کا کام شہر کی اہم شاہراہوں پر ڈیجیٹل ڈیوائسز اور کیمروں کی مدد سے نادہندہ گاڑیوں کو روک کر گاڑی ہتھیا لینا یا ان کے چالان موقع پر بھروانا تھا۔ قبل ازیں گاڑیوں کے کاغذات کی منتقلی اور روٹ پرمٹ کی تجدید کو بھی چالان سے مشروط کرنے کی کوشش کی گئی تھی، مگر خدمت مراکز کی تمام سروسز کی یکسر معطلی جیسا جامع اور سخت گیر قانون اس سے پہلے نافذ نہیں کیا گیا۔
اس نئے مجوزہ نظام کو لاگو کرنے کے لیے تمام پنجاب پولیس خدمت مراکز کے مرکزی ڈیٹا بیس اور سیف سٹیز اتھارٹی کے ای چالان سسٹم کو باہم منسلک کرنے کا پلان حتمی مراحل میں ہے۔
اس انضمام کے بعد جیسے ہی کوئی شہری کسی بھی کام کے لیے اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر پولیس ڈیٹا بیس میں درج کروائے گا، سسٹم فوری طور پر اس کے نام یا اس کی گاڑی پر التوا میں پڑے ہوئے تمام چالان کا ریکارڈ ظاہر کر دے گا۔ اگر کوئی شخص نادہندہ پایا گیا تو سسٹم خود بخود اس کے کریکٹر سرٹیفکیٹ یا لائسنس کی کارروائی کو آگے بڑھانے سے روک دے گا۔
اس تکنیکی نظام سے نہ صرف شفافیت قائم ہوگی بلکہ سفارش اور رشوت جیسے منفی عناصر کا خاتمہ بھی ممکن ہو سکے گا اور شہریوں کے پاس چالان ادا کرنے کے علاوہ اور کوئی دوسرا چارہ نہیں بچے گا۔

شیئر: