Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جازان کا عروسی لباس ’المیل الجازانی‘، تبدیلیوں کے باوجود اصل شناخت بدستور قائم

یہ عروسی لباس ہے خوبصورتی کو ورثے سے ملاتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
جازان ریجن میں خواتین کے روایتی فیشن میں ’المیل الجازانی‘ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہ ایک ایسا لباس ہے جو خوبصورتی کو ورثے سے ملاتا ہے۔
یہ لباس، سماجی تقریبات میں فخر سے پہنا جاتا ہے جسے علاقائی عروسی  لباس بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بھر پور ثقافتی شناخت کی عکاسی کرتا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق المیل الجازانی، اپنے شوخ رنگوں اور منفرد کڑھائی کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور اسے انتہائی مہارت اور نفاست سے تیار کیا جاتا ہے۔
اس لباس پرعمدہ کڑھائی کسی فن پارے سے کم نہیں ہوتی جو جازان کے ذوقِ جمال کا مظہر ہے۔ اس لباس کو تیار کرنے والی خواتین کاریگروں کی مہارات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ثقافتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’جدید فیشن کے باوجود المیل الجازانی کی اہمیت کسی طرح بھی کم نہیں ہوئی بلکہ اس کے ڈیزائن میں جدت آئی ہے تاہم اس کی بنیادی خصوصیات کو برقرار رکھا گیا ہے۔‘
مختلف ذوق رکھنے والوں کی پسند کے مطابق اس کے ڈیزائنوں میں تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں مگر اہم بات یہ ہے کہ تبدیلیوں کے باوجود اس کی اصل شناخت بدستور قائم ہے۔
اس لباس کی مقبولیت میں علاقے کی دستکاری اور گھریلو صنعتوں کا فروغ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، یوں یہ ایک ثقافتی و معاشی حیثیت کا حامل روایتی فیشن ہے۔

ثقافتی ورثے کا تحفظ قومی اقدامات کا حصہ ہے جو وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے جس میں روایتی لباس کو اجاگر کرنے اور تخلیقی صنعتوں کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
المیل الجازانی آج بھی مقامی خواتین کی خوبصورتی کا مظہر اور علاقائی روایت کی اہم علامت میں سے ایک ہے جو ان کی خوشیوں اور تقریبات کا حصہ ہے۔ اس کے ذریعے ماضی کی خوشگوار یادیں اور دلکشی یکجا ہو جاتی ہیں۔

 

شیئر: