Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فرانس، سعودی عرب میں سرمایہ کاری کرنے والا چوتھا بڑا ملک

فرانس ،مملکت میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے ( فائل فوٹو)
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ فرانس کے موقع پر سعودی وزیر سرمایہ کاری فہد آل سیف نے پیر کو پیرس میں سعودی، فرانسیسی سرمایہ کاری گول میز کانفرنس کی صدارت کی ہے۔
کانفرنس کا اہتمام وزارت سرمایہ کاری نے کیا۔ دونوں ملکوں کے اعلی حکومتی عہدیداروں، کاروباری رہنما اور بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز نے شرکت کی۔
دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری کے تعلقات سے متعلق ایک بریفنگ میں بتایا گیا ’سعودی عرب میں فرانسیسی سرمایہ کاری توانائی، مینو فیکچرنگ جیسے روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر مصنوعی دہانت، ڈیجیٹل انفرا سٹرکچر، ثقافت اور کان کنی تک وسیع ہو رہی ہے۔‘
کانفرنس کے موقع پر جاری رپورٹ کے مطابق 2024 میں فرانس، مملکت میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والا چوتھا بڑا ملک تھا۔ فرانسیسی سرمایہ کاروں کے پاس 18 شعبوں میں 651 انویسٹمنٹ لائسنسں ہیں، براہ راست سرمایہ کاری تقریبا 19 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
مملکت میں فرانسیسی سرمایہ کاری کا تقریبا 60 فیصد مینو فیکچرنگ کے شعبے میں ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان دیرینہ صنعتی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس وقت سعودی عرب میں کئی بڑی فرانسیسی کمپیناں کام کر رہی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ دونوں ملکوں نے 2025 میں تقریبا 10.1 ارب یورو کی باہمی تجارت کی ہے جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 7.2 فیصد زیادہ ہے۔
سعودی عرب، ریگولیٹری اصلاحات، سرمایہ کاری کے نئے قانون، اقتصادی زون، ریجنل ہیڈ کوارٹر پروگرام  اور دیگر مراعات کے ذریعے مزید بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ 
کانفرنس سے خطاب میں سعودی وزیرسرمایہ کاری نے کہا ’750 سے زائد کمپنیوں نے ریاض میں ریجنل ہیڈ کوارٹر قائم کیے ہیں۔ آٹھ شعبوں میں 39 فرانسیسی کمپنیاں شامل ہیں۔ کوالیفائنگ کمپنیاں اس پروگرام کے تحت 30 سال تک ٹیکس مراعات سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔‘

 

شیئر: