Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلام آباد سے لاپتا ہونے والا 14 برس کا بچہ پولیس نے دو سال بعد کراچی سے کیسے تلاش کیا؟

ستمبر 2024 کی وہ ایک صبح اسلام آباد کے علاقے بری امام کے ایک گھرانے پر قیامت بن کر ٹُوٹی، جب 14 سال کے محمد اویس آبپارہ مارکیٹ جانے کے لیے گھر کی دہلیز سے باہر نکلے اور پھر واپس نہ لوٹے۔
اویس کی اچانک گمشدگی کی رپورٹ اُن کے اہلِ خانہ کی جانب سے اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج کروائی گئی، لیکن دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں بدلتے گئے اور قریباً دو برس کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود بچے کا کہیں کوئی سُراغ نہ مل سکا۔
مایوسی کی اس فضا میں اچانک ایک امید کی کرن اس وقت چمکی جب اسلام آباد کے سپورٹس کمپلیکس میں تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او ذوالفقار علی کی ملاقات اتفاقاً بچے کے ماموں سے ہو گئی۔ 
اس غیر معمولی ملاقات نے کیس کی بند فائل کو دوبارہ کھول دیا اور اگلے 10 دنوں کے قلیل عرصے میں بچے کو کراچی سے محفوظ طریقے سے اسلام آباد لا کر اس کے گھر والوں کے حوالے کر دیا گیا۔
 لیکن 14 سال کا ایک بچہ آخر اسلام آباد سے سینکڑوں کلومیٹر دُور کراچی کیسے پہنچ گیا، اور دو برس کی طویل جُدائی کے بعد اس کا اپنی فیملی سے دوبارہ رابطہ کیسے ممکن ہوا؟
اس سلسلے میں ’اردو نیوز‘ نے تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او ذوالفقار علی سے بات چیت کی اور کیس کی اہم تفصیلات حاصل کیں۔
’کیس میں متعدد گرفتاریاں لیکن پیش رفت نہ ہو سکی‘
ایس ایچ او ذوالفقار علی نے ’اردو نیوز‘ کو بتایا کہ یہ کیس ستمبر 2024 میں اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج ہوا تھا اور اس پر پولیس تفتیش جاری رہی۔
اُن کے مطابق مدعی نے کیس کی تفتیش کے دوران اپنے ہی مختلف رشتہ داروں پر شک ظاہر کرتے ہوئے انہیں نامزد کیا، جس پر پولیس نے کچھ گرفتاریاں بھی عمل میں لائیں، لیکن اس کے باوجود کیس میں کوئی بڑی اور مثبت پیش رفت سامنے نہ آسکی۔
’ایک غیر متوقع ملاقات جس نے دو سال پُرانے کیس کا رُخ بدل دیا‘
ایس ایچ او تھانہ آبپارہ کے مطابق وہ خود بھی اِس پُرانے کیس سے ناواقف تھے، مگر حال ہی میں اسلام آباد کے سپورٹس کمپلیکس میں ہونے والے ایک ایونٹ کے دوران اچانک اُن کی ملاقات بچے کے ماموں سے ہو گئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بچے کے ماموں نے انہیں اپنے بھانجے کی گمشدگی اور تھانہ آبپارہ میں ایف آئی آر کے درج ہونے سے متعلق تمام معامله گوش گزار کیا۔‘
ایس ایچ او ذوالفقار علی کہتے ہیں کہ ’اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد انہوں نے بلا تاخیر کیس کی فائل کھلوائی اور ازسرِنو باقاعدہ تفتیش شروع کر دی۔‘
دورانِ تفتیش پولیس کو ایسے شواہد ملے جن سے معلوم ہوا کہ بچہ راولپنڈی ریلوے سٹیشن پہنچا اور پھر سندھ کی طرف جانے والی ٹرین میں بیٹھ گیا۔
ایس ایچ او کے مطابق چونکہ ’ان کا تعلق بنیادی طور پر سندھ سے ہے، اس لیے انہوں نے کراچی سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں اپنے ذرائع کو متحرک کیا اور پتا چلا کہ بچہ کراچی کے مختلف علاقوں میں کام کر رہا ہے۔‘
اطلاع کی تصدیق کے بعد بچے سے رابطہ قائم کیا گیا اور اسے کراچی سے بس کے ذریعے محفوظ طریقے سے اسلام آباد بلایا گیا، جہاں اُسے دو سال سے منتظر اُس کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا گیا۔
بچہ کراچی کیسے پہنچا اور وہاں دو سال کیا کرتا رہا؟
اب 16 برس کے ہونے والے اویس نے پولیس کو دیے گئے بیان میں واضح کیا کہ اسے اغوا نہیں کیا گیا تھا بلکہ وہ اپنی مرضی سے کراچی گیا تھا۔
اپنے ویڈیو بیان میں اویس نے بتایا کہ وہ آبپارہ میں گاڑیوں کو دھونے کا کام کرتا تھا، اور ایک دن آبپارہ سے راولپنڈی ریلوے سٹیشن کی طرف نکل پڑا، جہاں وہ کراچی جانے والی ٹرین میں سوار ہو گیا۔
اس کا کہنا تھا کہ ٹرین چلتی رہی اور میں کراچی پہنچ گیا، مجھے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ میں کہاں جا رہا ہوں، تاہم گھر والوں کی یاد اور شب و روز کی جُدائی کے غم کے ساتھ میںنے وہاں اپنی بقا کے لیے کام کرنا شروع کر دیا۔
اویس نے ’اردو نیوز‘ سے گفتگو میں بتایا کہ پھر ایک دن معلوم ہوا کہ اسلام آباد پولیس مجھے تلاش کر رہی ہے اور مجھ سے رابطہ کرنا چاہتی ہے، جس کے بعد میرا رابطہ ممکن ہوا اور میں واپس لوٹ آیا۔
پولیس کی تحقیقاتی ٹیم کے مطابق بچہ کراچی میں قیام کے دوران ہوٹلوں میں کام کرنے کے علاوہ گاڑیاں دھونے اور دہاڑی دار مزدوری سمیت مختلف کام کرتا رہا۔
سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں ایس ایچ او سے ملاقات کر کے کیس دوبارہ کھلوانے والے  بچے کے ماموں اس پیش رفت پر بے حد خوش ہیں۔
انہوں نے ویڈیو بیان میں کہا کہ دو سال سے بِچھڑا بچہ، جس کی واپسی کی تمام امیدیں دم توڑ چکی تھیں، اب محفوظ حالت میں واپس مل گیا ہے جس سے اُن کی فیملی ایک بار پھر مکمل ہو گئی ہے۔
انہوں نے اس کامیاب کارروائی پر اسلام آباد پولیس کے ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین اور ایس ایچ او آبپارہ ذوالفقار علی کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

شیئر: