Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تمغہ امتیاز کے لیے نامزد دو اہلکار جنہوں نے لاوارث لاشوں کے فنگر پرنٹس کی مدد سے ورثا ڈھونڈ نکالے

لاوارث لاشوں کی شناخت کے لیے مختلف مردہ خانوں میں جا کر فنگر پرنٹس لینا شاید کسی بھی پولیس اہلکار کے لیے معمول کی کارروائی ہو لیکن بعض اوقات انگلیوں کے یہ مدھم نشانات کسی پورے خاندان کی برسوں پرانی تلاش کا آخری سرا بن جاتے ہیں۔
’پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی‘ سے وابستہ محمد جمیل ارشد اور فرحان علی نے گزشتہ عرصے کے دوران اسی نوعیت کے کام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے تمغۂ امتیاز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
محمد جمیل ارشد اس وقت وہاڑی سیف سٹیز اتھارٹی میں مینیجر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی شناخت سیف سٹیز اتھارٹی کے پروگرام ’میری پہچان‘ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
جنوری 2025 میں جب ’پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی‘ کا یہ منصوبہ شروع ہوا تو انہیں اس حساس نوعیت کے کام کے لیے خدمات پیش کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے رضاکارانہ طور پر یہ ذمہ داری قبول کی۔ ان کے مطابق ’میری پہچان‘ کے ذریعے اب تک ایک ہزار سے زائد لاپتہ افراد، لاوارث لاشوں، حادثات میں زخمی افراد اور الزائمر و ڈیمینشیا کے مریضوں کی شناخت میں ان کا کردار رہا ہے۔
محمد جمیل ارشد بتاتے ہیں کہ لاوارث لاشوں کی شناخت کا طریقہ بظاہر سادہ ہوتا ہے لیکن اس کے نتائج کسی خاندان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اردو نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا ’لاوارث لاش کی اطلاع ملنے کے بعد اس کے فنگر پرنٹس لیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد نادرا اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مشترکہ پروگرام ’میری پہچان‘ کے ذریعے ریکارڈ سے تصدیق کی کوشش کی جاتی ہے۔ شناخت ہونے کے بعد پولیس متعلقہ خاندان تک پہنچتی ہے۔ یوں ایک ایسا شخص جس کی موت کے بعد شناخت بھی باقی نہ رہی ہو، دوبارہ کسی اپنے اصل خاندان تک پہنچ جاتا ہے۔‘

’میں نے یہ کام کسی اعزاز کی نیت سے نہیں کیا‘

محمد جمیل ارشد کے لیے تمغۂ امتیاز کے لیے نامزدگی کی خبر یقیناً خوشی کا باعث تھی لیکن وہ بتاتے ہیں کہ اس کام کے پیچھے ان کے لیے ایوارڈ کا خیال کبھی نہیں تھا۔ ’یہ میرے لیے انتہائی خوشی اور فخر کا لمحہ ہے۔ میں اپنی حکومت اور ادارے کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری خدمات کو سراہا۔ میں نے یہ کام کسی اعزاز کی نیت سے نہیں کیا تھا۔ اس لیے جب میری خدمات کا اعتراف ہوا تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔‘
ان کے مطابق اس کام نے اس وقت ذاتی مشن کی شکل اختیار کی جب وہ بچھڑے ہوئے لوگوں کو ان کے خاندانوں سے ملتے دیکھتے یا کسی لاوارث میت کو اس کے ورثا کے حوالے ہوتے ہوئے دیکھتے۔ ان کے بقول ’جب بچھڑے ہوئے لوگ اپنے خاندانوں سے ملتے یا ڈیڈ باڈیز ورثا کے حوالے کی جاتی تھیں تو ان کے چہروں پر جو سکون اور اطمینان نظر آتا تھا وہ میرے لیے سب سے بڑا حوصلہ تھا۔‘
ان سینکڑوں کیسز میں ایک واقعہ جمیل ارشد کے ذہن میں آج بھی موجود ہے۔ مظفرگڑھ کے ایک ذہنی طور پر معذور نوجوان 17 برس بعد اپنے خاندان سے جا ملے تھے۔ اتنے طویل عرصے کے بعد حالات یہاں تک بدل چکے تھے کہ خاندان کے بعض افراد اسے پہچان بھی نہیں پا رہے تھے۔ محمد جمیل ارشد بتاتے ہیں کہ ’اس نوجوان کی اپنے خاندان سے ملاقات ان کے لیے انتہائی جذباتی لمحہ تھا۔‘

’میری پہچان‘ کا منصوبہ جنوری 2025 میں شروع ہوا تھا (فائل فوٹو: پکسابے)

جب فنگر پرنٹس بھی ساتھ نہ دے

ہر کیس میں بائیومیٹرک شناخت آسان نہیں ہوتی۔ محمد جمیل ارشد کے مطابق الزائمر اور ڈیمینشیا کے مریضوں میں یہ مسئلہ زیادہ سامنے آتا ہے۔ ان مریضوں کی عمر عموماً 70 یا 80 برس یا اس سے زائد ہوتی ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ فنگر پرنٹس مدھم پڑ سکتے ہیں۔
اس حوالے سے وہ بتاتے ہیں ’ایسی صورت میں فنگر پرنٹ ڈیوائس سے واضح پرنٹ حاصل کرنا اور بائیومیٹرک تصدیق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس موقع پر ٹیکنالوجی کے ساتھ انسانی کوشش، دستیاب معلومات اور مختلف ریکارڈز کو جوڑنے کی صلاحیت اہم تصور کی جاتی ہے۔‘

بیماری، سرجری اور دوبارہ اسی کام کی طرف واپسی

محمد جمیل ارشد کی اس سفر میں ایک ایسا مرحلہ بھی آیا جب انہیں تقریباً تین ماہ کام سے دور رہنا پڑا۔ شدید انفیکشن کے باعث وہ طویل عرصے تک بستر پر رہے اور بعد میں ان کی سرجری بھی ہوئی۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس دوران ادارے نے ان کی بھرپور معاونت کی۔ صحت یاب ہونے کے بعد وہ دوبارہ ’میری پہچان‘ کی ٹیم میں شامل ہوئے اور پہلے کی طرح کام شروع کیا۔

گمشدہ بچوں کی تلاش

’ملتان سیف سٹیز اتھارٹی‘ کے پولیس کمیونیکیشن آفیسر فرحان علی کا کام اسی انسانی ضرورت کے ایک دوسرے پہلو سے جڑا ہے۔ وہ گمشدہ اور لاوارث بچوں، خواتین اور بزرگوں سے متعلق معلومات جمع کرنے، ان کا تجزیہ کرنے اور دستیاب ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کے خاندانوں تک پہنچنے کے عمل میں کردار ادا کرتے ہیں۔

فرحان علی کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی راستہ دکھاتی ہے مگر توجہ اور احساس اسے منزل تک لے جاتا ہے (فائل فوٹو: پکسابے)

ان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کے ذریعے چار سو سے زائد گمشدہ بچوں کو ان کے خاندانوں سے ملانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں بھی تمغہ امتیاز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ وہ اپنے کام سے متعکق بتاتے ہیں ’میرے لیے اس کام کی اصل اہمیت اعداد و شمار سے زیادہ ان خاندانوں کی خوشی ہے جنہیں اپنے پیارے دوبارہ ملے۔‘

ٹیکنالوجی کے بعد بھی انسان ضروری ہے

گمشدہ افراد کی تلاش میں جدید ٹیکنالوجی نے کام آسان کر دیا ہے لیکن فرحان علی کے مطابق ہر کیس کسی سافٹ ویئر یا ڈیٹا بیس سے حل نہیں ہوتا۔ کبھی کسی بچے کے کپڑے، لہجے، بولنے کے انداز، جسم پر موجود کسی نشان، نام کے ایک حصے یا کسی علاقے کے معمولی سے حوالے سے ایسا سراغ مل جاتا ہے جو پوری تلاش کو آگے بڑھا دیتا ہے۔
اس حوالے سے وہ بتاتے ہیں کہ ’ٹیکنالوجی ہمیں راستہ دکھاتی ہے لیکن انسان کی توجہ، احساس اور مشاہدہ اس راستے کو منزل تک پہنچاتا ہے۔‘
فرحان علی کے مطابق ان کی نامزدگی میں عوامی خدمت، ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور گمشدہ بچوں، خواتین اور بزرگوں کو ان کے خاندانوں سے ملانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بنیاد بنایا گیا۔ ان کے لیے تمغۂ امتیاز کی خبر ذاتی خوشی ضرور تھی لیکن وہ اسے اپنی ٹیم اور ادارے کی کامیابی بھی سمجھتے ہیں۔ ’میں نے اسے صرف اپنی ذاتی کامیابی نہیں سمجھا بلکہ یہ میرے پورے ادارے، میری ٹیم اور ان تمام لوگوں کی کامیابی ہے جو انسانیت کی خدمت کے اس مشن میں میرے ساتھ کھڑے رہے۔‘

شیئر: