Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پشین میں مسلح افراد کی فائرنگ، پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد ہلاک

واقعے سے ایک روز قبل ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی تھی جس میں شدت پسندوں کو ایک گاڑی میں لدے انگور بچوں اور عام شہریوں میں تقسیم کرتے دیکھا گیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پشین میں مسلح افراد کی فائرنگ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی شام کوئٹہ سے تقریباً 50 کلومیٹر دور پشین کے علاقے سرانان میں بازار سے چند سو قدم کی دوری پر سلیمانزئی روڈ پر پیش آیا۔
ایس ایچ او سرانان شمس الدین نے بتایا کہ مسلح افراد نے چھ افراد کو نشانہ بنایا جن میں سے پانچ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ایک شخص زخمی ہوا۔
زخمی کی شناخت نعمان ولد شوکت شیخ کے نام سے ہوئی ہے جو ایک شہ زور گاڑی کا ڈرائیور تھا۔ اسے جسم کے مختلف حصوں میں کئی گولیاں لگیں  تاہم اس نے خود کو مردہ ظاہر کرکے اپنی جان بچائی۔
اطلاع ملتے ہی پولیس اور سکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں۔ ہلاک  افراد کی لاشیں سرانان کے ریسکیو 1122 سینٹر منتقل کی گئیں جبکہ زخمی کو علاج کے لیے کوئٹہ روانہ کیا گیا۔
ایس ایچ او شمس الدین کے مطابق متاثرہ افراد کا تعلق پنجاب کے ضلع پاکپتن سے بتایا جاتا ہے۔ یہ افراد قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان، جو سرانان سے متصل ہے  انگور کی خریداری کے سلسلے میں آئے تھے۔ ان کے مطابق مقتولین کو ایک روز قبل نامعلوم افراد نے اغوا کیا اور پیر کو انہیں سرانان کے قریب لاکر گولیاں مار دی گئیں۔
واضح رہے کہ واقعے سے ایک روز قبل ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی تھی جس میں شدت پسندوں کو ایک گاڑی میں لدے انگور بچوں اور عام شہریوں میں تقسیم کرتے دیکھا گیا۔ پولیس افسر کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ وہی گاڑی تھی جو مقتول افراد کے زیرِ استعمال تھی۔
اس سے قبل 20 اگست کو اسی علاقے میں درجنوں شدت پسندوں نے پولیس تھانے پر حملہ کرکے اسے بارودی مواد سے اڑا دیا تھا  جس کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔
عینی شاہدین کے مطابق پیر کو فائرنگ کے واقعے کے بعد مسلح افراد کے دوبارہ سرانان میں داخل ہونے کی اطلاعات پر بازار میں دکانیں بند کردی گئیں جبکہ پولیس اہلکاروں نے دکانوں کی چھتوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں ۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’معصوم پاکستانیوں اور محنت کش مزدوروں کو نشانہ بنانا دہشت گردوں کی سفاک ذہنیت کا ثبوت ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، بلوچستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک فیصلہ کن کارروائیاں جاری رہیں گی۔‘

شیئر: