جب لسی بنانے کے انوکھے ٹرینڈ نے انڈیا میں واشنگ مشینوں کی فروخت بڑھا دی
جب لسی بنانے کے انوکھے ٹرینڈ نے انڈیا میں واشنگ مشینوں کی فروخت بڑھا دی
منگل 25 اگست 2026 16:09
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
11 برس قبل انڈین میڈیا میں متعدد رپورٹس سامنے آئیں جن میں واشنگ مشین سے لسی بنانے کے ٹرینڈ کا ذکر کیا گیا۔ (فوٹو: اے بی پی)
واشنگ مشین کا نام سنتے ہی ذہن میں کپڑے دھونے کا خیال آتا ہے۔ کپڑے ٹب میں ڈالے جاتے ہیں، اندر موجود سسٹم انہیں تیزی سے گھماتا ہے اور یوں بغیر کسی خاص محنت کے کپڑے دھل جاتے ہیں۔
ذرا سوچیے، اگر اسی مشین میں کپڑوں کی جگہ دہی ڈال دیا جائے تو کیا ہوگا۔ کیا اس سے دہی کی لسی بن جائے گی؟ بظاہر یہ خیال عجیب لگتا ہے، مگر ایسے واقعات ماضی میں رپورٹ ہو چکے ہیں۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر متعدد پوسٹس سامنے آئیں جن میں بتایا گیا تھا کہ انڈیا کے پنجاب میں واشنگ مشین کی فروخت میں اضافہ اس وجہ سے ہوا کہ وہاں ان مشینوں کو لسی بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
تکنیکی طور ایسا ممکن بھی لگتا ہے، مگر ایسا حقیقت میں ہونا تھوڑا غیر معمولی عمل ہے۔ تاہم اس خبر کی تصدیق کے لیے ہم نے انٹرنیٹ پر سرچ کی تو معلوم ہوا کہ ایسے واقعات 8 سے 10 سال پہلے انڈیا میں رپورٹ ہو چکے ہیں۔
آج سے ٹھیک 11 برس قبل اے بی پی نیوز نے ایک ویڈیو رپورٹ شیئر کی تھی جس میں ذکر کیا گیا کہ انڈین پنجاب میں گرمی کے توڑ کے لیے لوگوں نے واشنگ مشین میں لسی بنانا شروع کر دی ہے۔
لسی پنجاب میں اس قدر پسند کی جاتی ہے کہ کئی لوگوں کے لیے اس کے بغیر دن کا آغاز ہی ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ روایتی طور پر دہی کو پانی کے ساتھ ملا کر مدھانی کی مدد سے بلویا جاتا تھا۔ لیکن جب بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے لسی تیار کرنی ہو تو ہاتھ سے دہی بلونے میں کافی وقت اور محنت درکار ہوتی تھی۔ یہی ضرورت بعض ڈھابہ مالکان کو ایک ایسے حل تک لے گئی جو بظاہر لسی سے زیادہ کپڑے دھونے سے تعلق رکھتا تھا۔
آٹومیٹک واشنگ مشین کا میکینیکل عمل روایتی مدھانی، یعنی دہی بلونے والے آلے، سے ملتا جلتا ہے۔ واشنگ مشین کے اندر موجود گھومنے والا سسٹم دہی اور پانی کو تیزی سے گھماتا تھا، جس سے کم وقت میں بڑی مقدار میں لسی تیار کی جا سکتی تھی۔ یوں روایتی طریقے کے مقابلے میں یہ ڈھابہ مالکان کے لیے ایک آسان اور تیز حل بن گیا، خاص طور پر ان جگہوں پر جہاں لسی کی طلب زیادہ ہوتی تھی۔
اس جگاڑ کی کہانی صرف ڈھابوں تک محدود نہیں رہی۔
ڈیوی لئی لینڈ کے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ ہونے والی ایک ویڈیو کے مطابق 2008 میں HSBC کی ایک اشتہاری مہم نے بھی اس دلچسپ روایت کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اشتہار میں ایک پولش واشنگ مشین بنانے والی کمپنی کے نمائندے کو انڈیا بھیجا جاتا ہے تاکہ وہ معلوم کر سکے کہ وہاں ان کی واشنگ مشینوں کی فروخت اتنی زیادہ کیوں ہے۔
انڈیا پہنچنے کے بعد نمائندہ ایک لسی کی دکان پر جاتا ہے، جہاں اس کا پرتپاک استقبال کیا جاتا ہے۔ لیکن وہاں پہنچ کر اس کی نظر ایک حیران کن منظر پر پڑتی ہے جس میں لسی بنانے کے لیے کئی واشنگ مشینیں استعمال ہو رہی ہوتی ہیں۔
دکان کا مالک اسے بتاتا ہے کہ اس طریقے کی مدد سے وہ پہلے کے مقابلے میں دس گنا زیادہ لسی تیار کر لیتا ہے۔ تاہم، یہ دس گنا کا دعویٰ اشتہار میں دکان دار کے مکالمے کا حصہ ہے۔