Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اب 10 روپے کا نوٹ ماضی کا قِصہ، مارکیٹ میں کون سے جعلی نوٹ گردش کر رہے ہیں؟

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے 10 روپے کا نوٹ بند کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے حتمی منظوری کی سفارش کر دی ہے۔
منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر ِصدارت ہوا جس میں سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ’اب سے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ 10 روپے کا سِکہ جاری ہوگا۔‘
کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ ’10 روپے کا کاغذی نوٹ ختم کرنے کی بنیادی وجہ اس کی تیاری پر آنے والی لاگت میں ہونے والا اضافہ ہے۔‘
اُنہوں نے مزید کہا کہ ’نئے کرنسی نوٹوں کے اگلے سلسلے میں 10 روپے کا نوٹ شامل نہیں ہوگا، بلکہ اس کی جگہ صرف سِکہ ہی گردش میں لایا جائے گا۔‘
ڈپٹی گورنر نے کمیٹی کو بتایا کہ ’پاکستان میں موجودہ کرنسی نوٹوں کی سیریز کی چھپائی کا سلسلہ 2005 سے جاری تھا، تاہم اب تمام جدید خصوصیات سے لیس نئے نوٹ جاری کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔‘
اجلاس کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ مرکزی بینک کی جانب سے تیار کیے گئے نئے نوٹوں کا ابتدائی ڈیزائن وزیر خزانہ کی زیرِ صدارت قائم کمیٹی نے مسترد کر دیا ہے۔
ڈاکٹر عنایت حسین کا کہنا تھا کہ کمیٹی کی ہدایت اور تجاویز کی روشنی میں اب نئے ڈیزائن اور اضافی سکیورٹی فیچرز کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ نوٹوں کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
بریفنگ کے دوران مرکزی بینک کے حکام نے اعتراف کیا کہ اس وقت ملک میں 1000 اور 5000 روپے کے جعلی نوٹ سب سے زیادہ گردش کر رہے ہیں۔
اس پر سلیم مانڈوی والا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’جعلی نوٹ اس حد تک پھیل چکے ہیں کہ عام دکان دار اب 1 ہزار اور 5 ہزار روپے کے نوٹ لینے سے ہچکچاتے ہیں، جبکہ بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں سے بھی جعلی نوٹ نکلنے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔‘
اس پر ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے وضاحت کی کہ ’دیگر ممالک کی کرنسیوں کے مقابلے میں پاکستان میں جعلی نوٹوں کی مجموعی شرح کم ہے۔‘
تاہم مرکزی بینک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے یہ واضح کیا کہ ’محض نئے نوٹ جاری کرنے سے جعلی نوٹ سازی کے عمل کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکے گا۔‘
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے ایک دلچسپ انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ’سٹیٹ بینک گذشتہ دو سال سے اُن کے 15 ہزار روپے کا مقروض ہے۔‘
سلیم مانڈوی والا نے معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’دو سال قبل میں نے تحقیق کی غرض سے تین نوٹ سٹیٹ بینک کے سپرد کیے تھے، جو آج تک مجھے واپس نہیں کیے گئے۔‘
اجلاس کے اختتام پر قائمہ کمیٹی نے نوٹوں کی ساخت اور ڈیزائن تیار کرنے والے کنسلٹنٹ سے متعلق معاہدوں میں شفافیت برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی۔
سینیٹ اجلاس کے بعد کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ’انہوں نے گورنر سٹیٹ بینک کو خود 5 ہزار روپے کے تین نوٹ دے کر چیلنج کیا تھا کہ وہ ان میں سے جعلی نوٹ کی نشان دہی کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ گورنر سٹیٹ بینک بھی ان میں سے جعلی نوٹ کا پتا نہیں لگا سکے۔ جب ملک کے مرکزی بینک کا گورنر ہی جعلی نوٹ نہیں پکڑ سکتا تو عام عوام کیسے اس کی شناخت کر سکتے ہیں؟‘
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ’عوام کو ایپ کے ذریعے جعلی نوٹ کی پہچان کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جو کہ ناممکن ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ پہلے صرف ایک ہزار روپے کے جعلی نوٹ ملنے کی شکایات آتی تھیں، لیکن اب پانچ ہزار روپے کا نوٹ بھی بڑی تعداد میں جعلی آرہا ہے۔‘
چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’بینکوں کے اپنے ڈیجیٹل اور کیش سسٹم سے جعلی نوٹ نکل رہے ہیں۔ عوام جب اے ٹی ایمز سے پیسے نکالتے ہیں تو وہاں سے بھی جعلی کرنسی برآمد ہو رہی ہے۔‘
اُنہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک عام شہری جعلی نوٹ لے کر کہاں جائے؟ انہیں پولیس کے پاس ایف آئی آر کٹوانے کا کہا جاتا ہے، لیکن خوف یہ ہوتا ہے کہ پولیس والا مدد کرنے کے بجائے اُلٹا عام آدمی کو ہی اندر بٹھا دے گا۔
نئے کرنسی نوٹوں کے اجراء پر بات کرتے ہوئے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ’دو سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود سٹیٹ بینک نئے نوٹ تیار کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘
انہوں نے آخر میں کہا کہ اب بتایا جا رہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے نئے کرنسی نوٹ جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے، لیکن خدشہ یہی ہے کہ سینیٹ کمیٹی کی مُدت ختم ہو جائے گی اور نیا نوٹ پھر بھی سامنے نہیں آسکے گا۔‘

شیئر: