کپتان بابر اعظم کی انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں واپسی، ’90 فیصد فِٹ ہوں‘
پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ ’وہ 90 فیصد فِٹ ہیں اور لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں ٹیم کی قیادت کے لیے دستیاب ہوں گے۔‘
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بابر اعظم اُنگلی کی انجری کے باعث ہیڈنگلے میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ سے باہر ہو گئے تھے۔
اُن کی عدم موجودگی میں پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست ہوئی، جس کے بعد انگلینڈ نے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔
31 برس کے بابر اعظم کو وارم اپ میچ کے دوران بیٹنگ کرتے ہوئے ہاتھ کی اُنگلی پر گیند لگی تھی، جس سے اُن کی تکلیف بڑھ گئی تھی۔ یہ انجری انہیں ویسٹ انڈیز کے حالیہ دورے کے دوران بھی ہوئی تھی۔
بابر اعظم نے گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران نیٹ میں بیٹنگ کی پریکٹس کی ہے اور اب وہ دوسرا ٹیسٹ کھیلنے جا رہے ہیں۔ پاکستانی بیٹنگ لائن پہلے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں 171 جبکہ دوسری اننگز میں صرف 135 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔
لارڈز میں میچ سے ایک روز قبل بدھ کو میڈیا بریفنگ میں کپتان بابر اعظم نے بتایا کہ ’میں نے چند پریکٹس سیشنز میں حصہ لیا ہے اور میں دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے 90 فیصد فِٹ ہوں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کی قیادت کرنا، خاص طور پر لارڈز جیسے تاریخی میدان میں، میرے لیے اعزاز کی بات ہو گی اور میں بطور کپتان اور بیٹر اپنی بہترین کارکردگی دِکھانے کی کوشش کروں گا۔‘
انہوں نے پہلے ٹیسٹ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کے بارے میں کہا کہ ’ٹیم اپنی صلاحیت کے مطابق نہیں کھیل سکی،‘ تاہم اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’انگلینڈ نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔‘
پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان کے مطابق ’کھلاڑیوں نے اپنی غلطیوں کی نشان دہی کی ہے اور اب دوسرے ٹیسٹ میں وہ بہتر کرکٹ کھیلنے کے لیے پُراعتماد ہیں۔‘
یاد رہے کہ بابر اعظم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ 193 رنز بنائے تھے۔
انگلینڈ میں بھی سٹار بیٹر کی بیٹنگ کا ریکارڈ اچھا ہے۔ انہوں نے چھ اننگز میں 65.75 کی اوسط سے تین نصف سنچریاں بنا رکھی ہیں۔
اگر وہ چوتھے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آتے ہیں تو اوپنر اذان اویس کو ڈراپ کیا جا سکتا ہے، جبکہ شان مسعود یا عبداللہ شفیق میں سے کسی ایک سے اوپننگ کروائی جا سکتی ہے۔
لارڈ ٹیسٹ کے لیے پاکستان اپنی بولنگ لائن اپ میں بھی تبدیلی کر سکتا ہے۔ 20 برس کے عبید شاہ تیز رفتار بولنگ کی وجہ سے ٹیم میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔
اُن کی شمولیت کی صُورت میں خرم شہزاد اور محمد علی میں سے کسی ایک کو ٹیم سے باہر کیا جا سکتا ہے۔
ہیڈنگلے ٹیسٹ میں محمد عباس پاکستان کے سب سے قابلِ اعتماد فاسٹ بولر رہے تھے، جبکہ بائیں ہاتھ کے سپنر علی عثمان نے ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔
