ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں ویزا اپوائنٹمنٹس عارضی طور پر روک دیں
ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں ویزا اپوائنٹمنٹس عارضی طور پر روک دیں
بدھ 26 اگست 2026 6:36
ٹرمپ نے ایک جارحانہ ملک بدری مہم اور امیگریشن کریک ڈاؤن شروع کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امیگریشن کریک ڈاؤن کے تحت دنیا بھر میں ویزا درخواست دہندگان کے لیے اپوائنٹمنٹس کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے منگل کو کہا کہ دنیا بھر میں تمام امریکی سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں ایک عالمی تربیتی پروگرام شروع کیا گیا ہے اور ویزا سروسز کے لیے اپوائنٹمنٹس کو تربیت کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے ایک جارحانہ ملک بدری مہم اور امیگریشن کریک ڈاؤن شروع کیا ہے جس میں ویزا اور گرین کارڈز کی منسوخی اور درخواستوں کو مختلف وجوہات کی بنیاد پر مسترد کرنا شامل ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ کریک ڈاؤن ملکی سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے ہے۔
اس کریک ڈاؤن کو کچھ قانونی رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک امریکی جج نے جمعے کو ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کو کالعدم قرار دیا جس کے تحت 75 ممالک کے درخواست دہندگان کو امیگرنٹ ویزا جاری کرنے پر پابندی لگائی گئی تھی۔ جج نے کہا کہ یہ پالیسی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے قانونی اختیارات سے تجاوز کرتی ہے۔
محکمہ خارجہ نے تربیت کی تفصیلات اور اس کے دورانیے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا، سوائے اس کے کہ تربیت کا مقصد قونصلر افسران کو ایسے درخواست دہندگان کو مسترد کرنے کے قابل بنانا ہے جو امریکی عوامی فوائد پر انحصار کرنے کے امکانات رکھتے ہوں اور ویزا درخواست دہندگان کا ’جامع اور مستقل‘ جائزہ یقینی بنانا ہے۔
فنانشل ٹائمز نے سب سے پہلے اس ویزا اپوائنٹمنٹس کے تعطل کی خبر دی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ امیگرنٹ ویزا درخواست دہندگان جن کے انٹرویوز امریکی سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں طے تھے، انہیں ای میلز موصول ہوئی ہیں کہ ان کی اپوائنٹمنٹس دوبارہ شیڈول کی جا رہی ہیں اور انہیں نئی تاریخ کے بارے میں بعد میں اطلاع دی جائے گی۔
ٹرمپ انتظامیہ نے قانونی امیگریشن کو بھی مشکل بنا دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ٹرمپ کے امیگریشن کریک ڈاؤن کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے وسیع پیمانے پر امتیازی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ آزادی اظہار اور قانونی عمل کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ حقوق کی تنظیموں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کریک ڈاؤن نے امریکہ میں ایک غیر محفوظ ماحول پیدا کر دیا ہے، خاص طور پر نسلی اقلیتوں کے لیے جنہوں نے نسلی پروفائلنگ کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے 2024 کی انتخابی مہم میں غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے پلیٹ فارم پر مہم چلائی تھی، لیکن ان کی انتظامیہ نے قانونی امیگریشن کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔