ہیڈنگلے کے تین سبق: انگلینڈ کی واپسی، پاکستان کی خامیاں اور ایک نئے ستارے کی آمد
ہیڈنگلے کے تین سبق: انگلینڈ کی واپسی، پاکستان کی خامیاں اور ایک نئے ستارے کی آمد
ہفتہ 22 اگست 2026 15:38
پاکستان کی جانب سے علی عثمان نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا (فوٹو: اے ایف پی)
انگلینڈ نے جو روٹ کی دوسری مرتبہ مکمل وقت کے لیے ٹیسٹ کپتانی کا آغاز جمعے کو ہیڈنگلے میں پاکستان کے خلاف مکمل بالادستی کے ساتھ کیا اور 103 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ یہ میدان جو روٹ کی آبائی کاؤنٹی یارکشائر کا ہوم گراؤنڈ بھی ہے۔
ذیل میں اے ایف پی سپورٹس نے اس میچ سے سامنے آنے والے تین اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔ انگلینڈ کی یہ گزشتہ 11 ٹیسٹ میچوں میں صرف تیسری کامیابی ہے۔
انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان بھی 25 سالہ کاکس سے خاصے متاثر ہوئے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
کاکس نے خود کو منوانا شروع کر دیا
ہیڈنگلے میں انگلینڈ کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کی موجودہ ٹیم کو گزشتہ کئی دہائیوں کی کمزور ترین پاکستانی ٹیموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
اس کے باوجود جورڈن کاکس کی کارکردگی انگلینڈ کے لیے حوصلہ افزا رہی۔ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی پہلی نصف سنچری اس پوزیشن پر بنائی جو طویل عرصے سے انگلینڈ کے لیے مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
کچھ عرصے سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیکب بیتھل نے نمبر تین کی پوزیشن پر اپنی جگہ پکی کر لی ہے تاہم 22 سالہ باصلاحیت بائیں ہاتھ کے بلے باز گھٹنے کی انجری کے باعث پاکستان کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی پوری سیریز سے باہر ہوگئے۔
کاکس نے ہیڈنگلے ٹیسٹ میں صرف 100 گیندوں پر 73 رنز بنائے، جس میں 14 چوکے شامل تھے۔ ان کی اننگز میں وہ غیر معمولی جارحانہ اور بعض اوقات غیر محتاط شاٹ کھیلنے کا انداز نظر نہیں آیا جو سابق کپتان بین سٹوکس اور برطرف کیے گئے ٹیسٹ کوچ برینڈن میک کلم کے دور میں انگلینڈ کے انتہائی جارحانہ ’باز بال‘ انداز کی پہچان بن چکا تھا۔
انگلینڈ کے سابق کپتان اور خود ایک خوبصورت ٹاپ آرڈر بلے باز رہنے والے مائیکل وان بھی 25 سالہ کاکس سے خاصے متاثر ہوئے۔
مائیکل وان نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’وہ ایک مکمل کھلاڑی دکھائی دیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے پاس ہر شاٹ کھیلنے کے لیے بہت وقت ہے۔ اس نے دو تین ایسے شاٹس کھیلے جنہوں نے مجھے جنوبی افریقہ کے عظیم بلے باز اے بی ڈی ویلیئرز کی یاد دلا دی۔‘
اس میچ میں پاکستان کی فیلڈنگ انتہائی ناقص رہی (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی مضحکہ خیز فیلڈنگ
کرکٹ کا ایک قدیم اصول ہے کہ کسی ٹیم کی حالت جاننی ہو تو اس کی فیلڈنگ دیکھیں۔ بیٹنگ اور بولنگ کے برعکس فیلڈنگ کھیل کا وہ شعبہ ہے جس میں خالص ٹیلنٹ کے ساتھ ساتھ محنت کے ذریعے بھی نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
ہیڈنگلے میں پاکستان کی فیلڈنگ انتہائی ناقص رہی اور ایک خاصا مضحکہ خیز واقعہ ان کی مجموعی کارکردگی کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
علی عثمان نے ڈین لارنس کو کریز سے باہر آنے پر مجبور کیا مگر گیند انگلش بلے باز کے پیڈ سے ٹکرا کر دور جا لگی۔
سلپ میں موجود پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے لارنس کو رن آؤٹ کرنے کے بجائے ایل بی ڈبلیو کی اپیل پر زیادہ توجہ دی۔
جب آغا کو اندازہ ہوا کہ رن آؤٹ کا موقع موجود ہے تو انہوں نے گھبراہٹ میں گیند وکٹ کیپر محمد رضوان کی جانب پھینکی، جو اس وقت سٹمپس کے عین سامنے موجود تھے۔ گیند سیدھی رضوان کی پشت سے جا ٹکرائی۔
اس کے بعد پاکستان نے ایل بی ڈبلیو کے فیصلے کے خلاف ریویو بھی لیا، جو ناکام رہا، کیونکہ گیند لارنس کے آف سٹمپ سے باہر پیڈ سے ٹکرائی تھی۔
پاکستان کے کئی فیلڈرز نے اس دوران چوکے روکنے کے لیے نیچے جھکنے کے بجائے پاؤں آگے کر کے گیند روکنے کی کوشش کی۔ ان میں بائیں ہاتھ کے سپنر عثمان بھی شامل تھے، جن کی پانچ وکٹوں کی کارکردگی پاکستان کے لیے اس میچ کی چند نمایاں مثبت چیزوں میں سے ایک تھی۔
علی عثمان نے اپنی ٹیم کی فیلڈنگ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے۔ ہمیں زیادہ کوشش کرنی چاہیے تھی۔ آج فیلڈنگ میں کئی مواقع پر کوتاہی ہوئی اور اس کی وجہ سے ہمیں رنز کا نقصان اٹھانا پڑا۔‘
لیڈز کا ہیڈنگلے میدان ایشز کے میچ کی میزبانی کے لیے ہیمپشائر کے روز باؤل سے پیچھے رہ گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
لیڈز سے انگلینڈ کی محبت کا سلسلہ جاری
ہیڈنگلے میں انگلینڈ نے مسلسل ساتواں ٹیسٹ میچ جیت لیا ہے۔ دنیا کے کسی بھی میدان میں یہ اس وقت انگلینڈ کی مسلسل فتوحات کی سب سے طویل موجودہ لڑی ہے۔
اس سلسلے میں آسٹریلیا کے خلاف دو کامیابیاں بھی شامل ہیں۔ حیران کن طور پر اس کے باوجود اگلے سال ایشز سیریز کے دوران یارکشائر کا یہ تاریخی میدان کوئی ٹیسٹ میچ منعقد نہیں کرے گا۔
لیڈز کا ہیڈنگلے میدان ایشز کے میچ کی میزبانی کے لیے ہیمپشائر کے روز باؤل سے پیچھے رہ گیا ہے، جو پہلی مرتبہ ایشز ٹیسٹ کی میزبانی کرے گا۔
یہ فیصلہ اس حقیقت کے باوجود کیا گیا ہے کہ ہیڈنگلے عالمی کرکٹ کے سب سے تاریخی میدانوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں کی پچ اکثر انگلینڈ کے فاسٹ اور سیم بولرز کے لیے سازگار ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کے تماشائی، خصوصاً پرانے ویسٹرن ٹیرس میں موجود شائقین، میزبان ٹیم کی بھرپور اور پُرجوش حمایت کے لیے مشہور ہیں۔
مقامی ہیرو جو روٹ نے کہا کہ ’میں چاہوں گا کہ یہاں زیادہ سے زیادہ میچ کھیلوں۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے ایک شاندار میدان ہے اور یہاں کی پچ بہترین ٹیسٹ کرکٹ فراہم کرتی ہے۔‘
یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ آسٹریلیا کی ایشز سیریز کے دوران برسبین کے اپنے مضبوط قلعے گابا میں ہوم ٹیسٹ کے بغیر کوئی سیریز مکمل ہو۔
جو روٹ نے کہا کہ ’ایک کھلاڑی کی حیثیت سے آپ چاہتے ہیں کہ ان میدانوں پر زیادہ سے زیادہ کھیلیں جہاں بحیثیت ٹیم آپ کی کامیابی سب سے زیادہ رہی ہو۔ مجھے یہاں کھیلنا بہت پسند ہے۔ ایک یارکشائر مین ہونے کے ناتے مجھے پیدائش ہی سے یہ کہنا پڑتا ہے، اس لیے مجھے خوشی ہے کہ حقیقت بھی یہی ہے۔‘