انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں بابر اعظم کی واپسی سمیت پاکستانی ٹیم میں کیا تبدیلیاں متوقع ہیں؟
انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں بابر اعظم کی واپسی سمیت پاکستانی ٹیم میں کیا تبدیلیاں متوقع ہیں؟
اتوار 23 اگست 2026 17:26
سازگار کنڈیشنز کے باعث لیڈز ٹیسٹ میں تین فاسٹ بولرز پر مشتمل بولنگ اٹیک میدان میں اُتارا گیا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
لیڈز ٹیسٹ میں بدترین شکست کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم دوسرے ٹیسٹ کے لیے لندن پہنچ رہی ہے، جہاں لارڈز میں ممکنہ طور پر ٹیم میں محدود تبدیلیاں کی جائیں گی، تاہم اصل مسئلہ کھلاڑیوں کے انتخاب سے زیادہ پاکستان کی مجموعی کارکردگی ہے۔
’کرک انفو‘ کے مطابق ہیڈنگلے میں پاکستان نے بظاہر غلط ٹیم منتخب نہیں کی تھی۔
سازگار کنڈیشنز کے باعث تین فاسٹ بولرز اور علی عثمان پر مشتمل بولنگ اٹیک میدان میں اتارا گیا، جبکہ علی عثمان نے 54 سال بعد لیڈز میں کسی مہمان ٹیم کے سپنر کی جانب سے پانچ وکٹیں لینے کا کارنامہ بھی انجام دیا۔
بابر اعظم کی عدم موجودگی میں پاکستان نے اپنے بہترین دستیاب بیٹرز اور تجربہ رکھنے والے کپتان سلمان آغا کو میدان میں اُتارا، لیکن اس کے باوجود ٹیم کی بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں کارکردگی مایوس کن رہی۔
پاکستان کی دونوں اننگز 90 اوورز مکمل ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگئیں، جو حالیہ برسوں میں ٹیم کی بدترین ٹیسٹ کارکردگی میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔ فاسٹ بولرز سازگار حالات میں بھی مسلسل درست لائن اور لینتھ برقرار نہ رکھ سکے، جبکہ فیلڈنگ بھی ٹیم کی کمزوری ثابت ہوئی۔
دوسرے ٹیسٹ کے لیے کیا تبدیلیاں متوقع ہیں؟
دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کے لیے ممکنہ تبدیلیوں میں بابر اعظم کی واپسی نمایاں ہے۔ فِٹ ہونے کی صورت میں بابر کو ٹیم میں شامل کیا جا سکتا ہے جبکہ کپتان سلمان آغا بھی قیادت کی ذمہ داری سے دستبردار ہونے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔
بابر اعظم کی واپسی سے بیٹنگ لائن اپ میں ردوبدل متوقع ہے۔ لیڈز میں پاکستان کے نمایاں بیٹر عبداللہ شفیق کو اوپننگ کے لیے بھیجا جا سکتا ہے، جبکہ امام الحق یا اذان اویس میں سے کسی ایک کو ٹیم سے باہر کیا جا سکتا ہے۔
بولنگ میں بھی عبید شاہ کو موقع ملنے کا امکان ہے، جن کی رفتار موجودہ بولنگ اٹیک میں کچھ اضافی تیزی فراہم کر سکتی ہے۔ ساجد خان کو دوسرے سپنر کے طور پر شامل کرنے کا آپشن بھی موجود ہے تاہم اس صورت میں فاسٹ بولنگ کمزور پڑ سکتی ہے۔
فٹ ہونے کی صورت میں کپتان بابر اعظم ٹیم کو جوائن کریں گے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
لارڈز اور اوول پاکستان کے لیے ماضی میں خوش قسمت میدان رہے ہیں جہاں پاکستان نے اپنی 13 ٹیسٹ میچز میں فتوحات حاصل کر رکھی ہیں۔ لندن میں پاکستان نے اپنے آخری تین ٹیسٹ میچز بھی جیتے، تاہم ان میں سے آخری فتح آٹھ سال قبل حاصل ہوئی تھی۔
لارڈز کی حالیہ پچز رنز بنانے کے لیے زیادہ سازگار نہیں رہیں، جبکہ گرمی اور خشک موسم کے باعث پاکستان کو امید ہے کہ پچ میں سپنرز کے لیے مدد مل سکتی ہے۔
تاہم پاکستان کے لیے صرف چند تبدیلیاں کافی نہیں ہوں گی۔ اگر بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں واضح بہتری نہ آئی تو ٹیم میں ردوبدل محض ایک محدود کوشش ثابت ہوگا۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرا ٹیسٹ میچ 27 اگست سے لارڈز میں کھیلا جائے گا، جہاں پاکستان کو سیریز میں واپسی کے لیے اپنی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری لانا ہوگی۔