ٹرمپ انتظامیہ کا پناہ کے متلاشیوں کے ویزے منسوخ کرنے کا منصوبہ
ٹرمپ انتظامیہ کا پناہ کے متلاشیوں کے ویزے منسوخ کرنے کا منصوبہ
منگل 25 اگست 2026 6:17
صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران امیگریشن سسٹم کو سخت کرنے کا وعدہ کیا تھا (فائل فوٹو:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پیر کو کہا ہے کہ وہ ایسے غیر ملکیوں کے نان امیگرنٹ ویزے منسوخ کرنے کا مںصوبہ بنا رہی ہے جنہوں نےامریکہ میں پناہ کی درخواست دی ہے یا اس وقت پناہ کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن کے خلاف جاری سخت کارروائیوں کی تازہ کڑی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق محکمۂ خارجہ کے ایک ترجمان نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ محکمۂ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ساتھ مل کر ایسے غیرملکیوں کو تلاش کر رہا ہے جو مختصر مدت کے لیے امریکہ آئے لیکن یہاں آنے کے بعد مستقل طور پر رہنے کے لیے پناہ کی درخواستیں دیں۔ ان کے نان امیگرنٹ ویزے منسوخ کیے جائیں گے۔
محکمۂ خارجہ کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کاررروائی کے دوران کتنے ویزے منسوخ کیے جائیں گے۔
خبر رساں ادارے نے محکمہ خارجہ اور امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری اور سیاحتی ویزوں پر آنے والے دو لاکھ تک غیرملکی افراد کے ویزے منسوخ کیے جانے کا امکان ہے۔
اگر ایسا ہوا تو یہ امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار ایک ایسی کارروائی ہو گی جس میں ایک وقت میں سب سے زیادہ ویزے منسوخ ہوں گے۔
اے پی کے مطابق محکمۂ خارجہ 2016 سے 2026 کے دوران جاری ہونے والے ویزے بی ون اور بی ٹو ویزے منسوخ کرے گا۔ یہ کارروائی بی ون اور بی ٹو ویزے کے حامل ان افراد کے خلاف ہو گی جنہوں نے سیاسی پناہ کے لیے درخواست دے رکھی ہے یا پھر دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
محکمۂ خارجہ کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ کاررروائی کے دوران کتنے ویزے منسوخ کیے جائیں گے (فوٹو: روئٹرز)
ویزوں کی اس کیٹیگری کو نان امیگرنٹ کہا جاتا ہے اور یہ کاروبار کے لیے یا سیاحت کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ویزے منسوخ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ ان لوگوں کو ملک بدر کر دیا جائے مگر جن افراد نے پناہ کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں اور وہ پراسس میں ہیں ان میں سے زیادہ تر کا سٹیٹس تبدیل ہو جائے گا اور وہ کاروباری یا سیاحتی مقصد کے تحت آنے والے مسافر کا سٹیٹس کھو دیں گے۔
اس سے قبل امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کرسٹور لینڈاؤ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ امریکہ کا امیگریشن نظام طویل عرصے سے بے بنیاد پناہ کی درخواستوں کا شکار ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں محکمۂ خارجہ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد غیرملکیوں کے ویزے منسوخ ہو چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے امیگریشن کے خلاف سخت کارروائی کا سلسلہ جاری ہے جس میں ویزے اور گرین کارڈ کی منسوخی کے علاوہ بڑے پیمانے پر ملک بدری بھی شامل ہے۔
رائٹس گروپس نے اقدام کو حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے (فوٹو: روئٹرز)
ان کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد ملک کی سلامتی کو بہتر بنانا ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظمیوں کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیوں سے آزادی اظہارے رائے اور قانونی پراسس کے تحت ملنے والے حقوق متاثر ہوئے ہیں اور خصوصاً اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ماحول پیدا ہوا ہے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے 2024 کی الیکشن مہم کے دوران غیرقانونی امیگریشن روکنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ان کی انتظامیہ نے قانونی امیگریشن کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔
بعض قسم کے ورک ویزوں کی درخواست پر نئی اور بھاری فیسیں عائد کی گئی ہیں۔
اسی طرح حکومت کی جانب سے امیگریشن کے خلاف اس سخت کارروائی کو عدالتی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔