Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر کرنے پر پی سی بی کی سکائی سپورٹس چینل سے شکایت، میچ روکنے کی دھمکی

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے لارڈز ٹیسٹ کے پہلے دن کے کھیل کی کوریج کے دوران سابق کپتان عمران خان کے بیٹوں، قاسم خان اور سلیمان خان کا انٹرویو نشر کرنے پر سکائی سپورٹس سے باقاعدہ شکایت کی ہے۔
برطانوی اخبار ’دی گارڈیئن‘ کے مطابق اس انٹرویو پر پاکستانی ٹیم کی ناراضی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بابر اعظم کی قیادت میں کھلاڑیوں نے کھانے کے وقفے کے بعد دوبارہ میدان میں آنے سے انکار کرنے کی دھمکی بھی دی۔
سکائی سپورٹس کے صحافی مائیکل ایتھرٹن سے گفتگو کے دوران عمران خان کے بیٹوں نے اپنے والد کے ساتھ پاکستانی حکومت کے رویے پر تشویش ظاہر کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت عمران خان کو جیل میں رکھ کر انہیں خاموش کرنا چاہتی ہے اور یہاں تک کہ ’انہیں مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان گذشتہ تین برسوں سے جیل میں قید ہیں۔
اس سے قبل دنیا کے کئی سابق معروف کرکٹرز بھی عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ان میں مائیکل ایتھرٹن سمیت 21 سابق کرکٹرز شامل ہیں۔
پی سی بی، سکائی سپورٹس سے اس بات پر ناراض تھا کہ اس نے عمران خان کے بیٹوں کو اپنے پروگرام میں بلایا اور انہیں گفتگو کا موقع فراہم کیا۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ انٹرویو نشر کرنے سے روکنے کی کوشش بھی کی تھی۔
یاد رہے کہ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ بھی ہیں۔
لارڈز میں بارش کی وجہ سے کھانے کا وقفہ پہلے ہی تاخیر کا شکار تھا۔ انٹرویو نشر ہونے کے بعد پی سی بی کے حکام نے پاکستانی کھلاڑیوں کو دوبارہ میدان میں بھیجنے سے روکنے کی دھمکی دی۔
تاہم انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے حکام نے گفت و شنید کے ذریعے معاملہ حل کر لیا اور کھیل دوبارہ شروع ہوگیا۔
’دی گارڈیئن‘ نے بتایا کہ اس معاملے پر پاکستانی حکام کی ناراضی اب بھی برقرار ہے اور اطلاعات کے مطابق انہوں نے یہ مسئلہ برطانوی حکومت کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس کے سامنے بھی اُٹھایا ہے۔ 
پی سی بی کی جانب سے ای سی بی حکام کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ پاکستانی ٹیم لارڈز ٹیسٹ کے دوسرے دن کے کھیل میں بھی حصہ لے گی۔
سکائی سپورٹس کو دیے گئے انٹرویو میں قاسم خان کا کہنا تھا کہ ’یہ واضح نہیں کہ عمران خان کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، لیکن انہیں جیل میں زیادہ سے زیادہ عرصے تک رکھ کر خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
73 برس کے عمران خان کو گذشتہ ہفتے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد علاج کے لیے عارضی طور پر سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم چند گھنٹوں بعد ہی انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کردیا گیا۔
عمران خان کے خاندان کے علاوہ دنیائے کرکٹ کے کئی سابق معروف کرکٹرز بھی اُن کی قید اور صحت پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ 
ان سابق کرکٹرز نے دو مشترکہ خطوط لکھے ہیں جن میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ان سابق کرکٹرز میں انگلینڈ کے چھ سابق کپتان، انڈیا کے سابق کپتان کپل دیو، آسٹریلیا کے ایڈم گِلکرسٹ اور گریگ چیپل بھی شامل ہیں۔
سابق کرکٹرز نے رواں ہفتے ایک اور خط بھی جاری کیا جس میں عمران خان کی صحت، خاص طور پر اُن کی دائیں آنکھ کا مکمل اور آزادانہ طبی معائنہ کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔
عمران خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ’جیل کے حالات کی وجہ سے سابق وزیراعظم کی دائیں آنکھ کی 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے۔‘
اس معاملے پر سکائی سپورٹس، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تبصرہ نہیں کیا۔

شیئر: