Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب میں عربی اوریکس کی بحالی، تحفظِ جنگلی حیات کی ایک بڑی کامیابی

عربی اوریکس کو بچانے کے لیے بین الاقوامی کوششیں 1960 کی دہائی اوائل سے شروع ہوئی تھیں (فوٹو: ایس پی اے)
پچھلی چار دہائیوں سے سعودی عرب نے عربی اوریکس کو اس کے تاریخی مسکنوں میں واپس آباد کرنے کے لیے ایک کامیاب سفر طے کیا ہے کیونکہ یہ نسل 1970 کی دہائی میں جنگلی ماحول سے مکمل طور پر ختم ہو چکی تھی۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق ماحولیاتی تحفظ کے لیے حل پیش کرنے والے بین الاقوامی پلیٹ فارم پینوراما نے اس قومی کامیابی کو ریکارڈ پر لاتے ہوئے سعودی عرب کی ان کوششوں کو اجاگر کیا ہے جو نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کے تحت کی گئیں۔ ان کوششوں میں افزائشِ نسل، جنگل میں دوبارہ چھوڑنا، قدرتی مسکن کا تحفظ، اور ان کی مسلسل نگرانی و دیکھ بھال شامل ہیں۔
عربی اوریکس کو بچانے کے لیے بین الاقوامی کوششیں 1960 کی دہائی کے اوائل سے شروع ہوئیں، جب قدرتی ماحول میں اس کی آبادی تیزی سے کم ہونے کے باعث، انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر(آئی یو سی این) نے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ  (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے اشتراک سے ’آپریشن اوریکس‘ شروع کیا۔ اس اقدام کا مقصد افزائشِ نسل کے لیے ایک ریوڑ قائم کرنا اور اس نسل کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔
سعودی عرب نے ایک جامع قومی پروگرام تشکیل دینے سے قبل ان ابتدائی کوششوں میں بھی حصہ لیا۔ 1986 میں مملکت نے عربی اوریکس کی منظم افزائشِ نسل کا پروگرام شروع کیا جو ایک نئے مرحلے کا آغاز تھا اور اس نے عربی اوریکس کو دوبارہ جنگل میں آباد کرنے کی راہ ہموار کی۔

سنہ 1989 میں امام سعود بن عبدالعزیز رائل ریزرو میں عربی اوریکس کی جنگل میں واپسی کا پہلا مرحلہ شروع ہوا جس کے بعد مزید ہرنوں کو چھوڑا گیا اور جنگلی ریوڑ قائم کیے گئے۔ یہ پروگرام 1995 میں عروق بن معارض ریزرو تک پھیلا دیا گیا اور بعد میں مملکت بھر کے دیگر تاریخی علاقوں میں بھی اس کا دائرہ کار بڑھایا گیا۔
عربی اوریکس کی یہ کامیاب بحالی دہائیوں کی مسلسل اور منظم حفاظتی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ ان کوششوں کو سعودی وژن 2030 اور سعودی گرین انیشیٹیو سے مزید تقویت ملی جس کا مقصد مملکت کے 30 فیصد بری اور بحری رقبے کو محفوظ علاقوں میں تبدیل کرنا ہے۔

اس پروگرام کے اثرات صرف اس ایک نسل کو بچانے تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس سے تحفظِ حیات، محفوظ علاقوں کے انتظام، ویٹرنری دیکھ بھال، نگرانی اور تحقیقی شعبوں میں قومی مہارتیں پیدا کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔
اس نے فیلڈ عملے اور تکنیکی عملے کی صلاحیتوں کو بڑھایا ہے اور افزائشِ نسل، جنگل میں چھوڑنے اور طویل المدتی دیکھ بھال سے جڑے تمام اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط کیا ہے جو مملکت میں حیاتاتی تنوع (بائیو ڈائیورسٹی) کے پائیدار مستقبل کو یقینی بناتا ہے۔

 

شیئر: