عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ: انڈیا پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے سے دستبردار نہیں ہو سکتا
بین الاقوامی ثالثی عدالت نے پیر کو انڈیا کو حکم دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
نئی دہلی نے اس معاہدے کو گذشتہ سال پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عالمی ثالثی ٹربیونل انڈیا کو دو پن بجلی منصوبوں پر ایسے کام کرنے سے بھی روک دیا ہے جو 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ معاہدہ چھ دریاؤں کے پانی کے استعمال کو منیج کرتا ہے۔ ان دریاؤں کے منبع انڈیا میں ہیں، تاہم یہ دریائے سندھ کے طاس کا حصہ بنتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ کروڑوں افراد اپنی ضروریات کے لیے اس آبی وسائل پر انحصار کرتے ہیں۔
دریائے سندھ انڈیا اور پاکستان کے درمیان متنازع مسلم اکثریتی خطے کشمیر میں انتہائی حساس سرحدی علاقوں سے گزرتا ہے۔ ہمالیائی خطے کشمیر پر دونوں ممالک مکمل ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
انڈیا نے مئی 2025 میں اعلان کیا تھا کہ وہ سندھ طاس معاہدے میں اپنی شمولیت معطل کر رہا ہے۔ انڈیا نے یہ اقدام اپنے زیر انتظام کشمیر کے میں سیاحوں پر ہونے والے حملے میں پاکستان پر ملوث ہونے کا الزام عائد کرنے کے بعد کیا تھا۔ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔
انڈیا نے مستقل ثالثی عدالت کے اس فیصلے کو فوری طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ انڈیا کے پاس معاہدے سے دستبردار ہونے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔ دوسری جانب پاکستان نے ٹریبونل کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
انڈیا کے وزیرِ آبی وسائل سی آر پاٹل نے رواں سال کہا تھا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ’پانی کا ایک قطرہ بھی پاکستان کی طرف نہ جائے۔‘
پاکستان نے انڈیا پر قیمتی آبی وسائل کو ’بطور ہتھیار استعمال‘کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا تھا۔
پاکستان اس سے قبل بھی کہہ چکا ہے کہ سرحد پار دریاؤں کے پانی کے بہاؤ میں تبدیلی کی کوئی بھی کوشش ’جنگی اقدام‘ تصور کی جائے گی۔
مستقل ثالثی عدالت نے ایک بیان میں کہا کہ عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا ہے کہ انڈیا کی جانب سے معاہدے کی معطلی کے لیے پیش کی گئی کوئی بھی وجہ قابلِ جواز نہیں تھی۔
عدالت کے مطابق دریائے سندھ اور اس سے منسلک دریاؤں پر انڈیا کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے پن بجلی منصوبوں کو 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی شرائط کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
ثالثی پینل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ’متفقہ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ ان میں سے کوئی بھی بنیاد معاہدے کی معطلی یا خاتمے کا جواز فراہم نہیں کرتی۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’چنانچہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذالعمل ہے اور انڈیا پر لازم ہے کہ وہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، جن میں مغربی دریاؤں پر اپنے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔‘ 