Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پمز آتشزدگی: انکوائری کمیٹی کی غفلت کے مرتکب افسران کو ہٹانے کی سفارش

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم انکوائری کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کر دی ہے۔
سنیچر کے روز وزیراعظم کو ارسال کی گئی رپورٹ میں کمیٹی نے ہسپتال کے اعلیٰ افسران اور متعلقہ عملے کو غفلت اور لاپرواہی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔
اردو نیوز کو دستیاب معلومات کے مطابق سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں کام کرنے والی تحقیقاتی کمیٹی نے نشاندہی کی ہے کہ ذمہ دار قرار دیے جانے والے افراد میں ہسپتال کے اعلیٰ ترین افسران بھی شامل ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پمز ہسپتال طویل عرصے سے انتہائی غیر پیشہ ورانہ انداز میں اور کسی واضح انتظامی ڈھانچے کے بغیر چلایا جا رہا تھا، جس کے نتیجے میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
رپورٹ کی تیاری کے دوران موجودہ قائم مقام سیکریٹری صحت کیپٹن (ر) محمد محمود کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز اور سفارشات کو بھی مدنظر رکھا گیا تاکہ ادارے کی بنیادی خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔
کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ ہٹائے جانے والے افسران کی جگہ فوری طور پر پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کو تعینات کیا جائے۔
اس کے ساتھ ہی ہسپتال کے معاملات کو مستقل بنیادوں پر درست سمت میں چلانے کے لیے پمز کا باقاعدہ گورننگ بورڈ تشکیل دینے، ہسپتال کی مسلسل نگرانی کا نظام قائم کرنے اور تمام امور کی نگرانی کے لیے ایک پائیدار انتظامی فریم ورک تیار کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
اردو نیوز کو دستیاب معلومات کے مطابق پمز انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں وزیراعظم آج شام ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں اہم فیصلوں کا اعلان متوقع ہے۔
یاد رہے کہ بدھ کے روز پمز کے چلڈرن ہسپتال کی گائنی نرسری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 14 نومولود بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ حادثے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے وزیراعظم نے سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے 48 گھنٹوں میں ابتدائی جبکہ پانچ روز کے اندر جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پمز ہسپتال طویل عرصے سے انتہائی غیر پیشہ ورانہ انداز میں اور کسی واضح انتظامی ڈھانچے کے بغیر چلایا جا رہا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

دوسری جانب سنیچر کے روز وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے ہمراہ پمز ہسپتال کا دورہ کیا۔
اس موقع پر صحافیوں نے وفاقی وزیر صحت سے انکوائری رپورٹ کی پیش رفت کے بارے میں سوال کیا، جس پر انہوں نے بتایا کہ آج شام تک تمام تفصیلات اور صورتحال واضح ہو جائے گی۔
سرکاری ہسپتالوں کا فائر سیفٹی آڈٹ
پمز میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد وفاقی وزارت صحت نے پمز سمیت وزارت کے زیر انتظام تمام سرکاری ہسپتالوں میں جامع فائر سیفٹی آڈٹ فوری طور پر شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔
وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق تمام سرکاری ہسپتالوں میں فائر ڈیٹیکشن اور الارم سسٹم، فائر فائٹنگ آلات، ہنگامی صورت حال میں استعمال ہونے والے راستوں اور ایگزٹ راستوں سمیت فائر سیفٹی کے دیگر تمام انتظامی اور فنی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

شیئر: