Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کینیڈا کی امیگریشن کیا منصوبہ، پاکستانی کن کن شعبوں میں ملازمتیں حاصل کر سکتے ہیں؟

پاکستانی پروفیشنلز کے لیے اس پالیسی کا سب سے بڑا فائدہ ’کم کٹ آف سکور‘ پر دعوت نامہ ملنا ہے (فائل فوٹو: آئی سٹاک)
کینیڈا نے ہیلتھ کیئر اور دیگر اہم شعبوں میں افرادی قوت کے بحران پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر امیگریشن کے نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈین حکومت کے اس اقدام کے بعد دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان میں موجود ڈاکٹرز، نرسنگ سٹاف، فارماسسٹس اور تکنیکی ماہرین کے لیے بھی کینیڈا منتقل ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد دنیا بھر سے باصلاحیت اور پیشہ ور افراد کو راغب کر کے کینیڈا کی اہم ترین عوامی خدمات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
تاہم یہاں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں موجود طبی و دیگر عملہ اس سے کیسے مستفید ہو سکتا ہے اور کینیڈا کی جانب سے مزید کیا شرائط سامنے آتی ہیں؟
اس نئی پالیسی کے تحت کینیڈین محکمہ امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ نے ہیلتھ کیئر اور سوشل سروسز سمیت سائنس، ٹیکنالوجی، حرفتی علوم (تکنیکی اور صنعتی علوم) اور تعلیم کے شعبوں کو ترجیحی فہرست میں شامل کیا ہے۔ 
وہ تمام پاکستانی پیشہ ور افراد جو متعلقہ تعلیمی اسناد، تربیت اور عملی تجربہ رکھتے ہیں، کینیڈا کے مخصوص امیگریشن راستوں کے ذریعے تیز ترین عمل کے تحت ویزہ اور مستقل رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔
اس منصوبے کی تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ مواقع طبی اور سوشل ورک سے وابستہ افراد کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ جن پیشوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ان میں نرس پریکٹیشنرز، ڈینٹسٹ، فارماسسٹ، سائیکالوجسٹ، سوشل ورکرز اور لیبارٹری ٹیکنالوجسٹ شامل ہیں۔ 
کینیڈا میں آبادی کی عمر میں اضافے اور طبی نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث ان شعبوں میں مقامی سطح پر ضرورت کے مطابق افراد میسر نہیں ہیں، جس کے باعث غیر ملکی ماہرین کے لیے دروازے کھولے گئے ہیں۔
پاکستانی شہری اس سے کیسے مستفید ہو سکتے ہیں؟
کینیڈا کی اس خصوصی کیٹیگری بیسڈ سلیکشن کا حصہ بننے کے لیے امیدواروں کا ایک مقررہ معیار پر پورا اُترنا ضروری ہے۔ 
بنیادی معیار (کرائٹیریا) کے تحت درخواست گزار کے پاس گذشتہ تین برسوں کے دوران متعلقہ ترجیحی شعبے میں کم سے کم ایک سال کا مسلسل کام کرنے کا تجربہ ہونا چاہیے۔ 

کینیڈا نے ہیلتھ کیئر، سوشل سروسز، سائنس، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں کو ترجیحی فہرست میں شامل کیا ہے (فائل فوٹو: آئی سٹاک)

اس کے علاوہ انگریزی زبان کے مستند ٹیسٹ یا فرانسیسی زبان میں مطلوبہ بینڈز کا حصول، اور کینیڈین معیار کے مطابق تعلیمی اسناد کی تصدیق لازمی پیشگی شرائط میں شامل ہیں۔
پاکستانی پروفیشنلز کے لیے اس پالیسی کا سب سے بڑا فائدہ ایکسپریس اینٹری کے عام نظام کی نسبت ’کم کٹ آف سکور‘ پر دعوت نامہ ملنا ہے۔ 
کینیڈین محکمہ امیگریشن کے مطابق ’عام امیگریشن ڈراز میں پوائنٹس کی حد بہت زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث بیرونِ ملک موجود افراد کے لیے انتخاب مشکل ہو جاتا ہے۔‘
’تاہم اس مخصوص زُمرے کے تحت کم پوائنٹس رکھنے والے ڈگری ہولڈرز کو بھی براہِ راست کینیڈا کی مستقل رہائش کی پیش کش کی جا رہی ہے۔‘
مزید برآں، یہ ویزہ درخواست دہندہ کو اپنے خاندان سمیت کینیڈا منتقل ہونے، مفت علاج معالجے اور بچوں کی مفت تعلیم جیسی تمام تر سرکاری سہولیات سے استفادہ کرنے کا حق دیتا ہے۔
تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ کینیڈا کے مختلف صوبوں میں کئی پیشے، بالخصوص ہیلتھ کیئر کے شعبے، باقاعدہ قانون کے تحت منظم ہیں۔ 
اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی ڈاکٹروں یا نرسوں کو کینیڈا پہنچ کر یا وہاں کام شروع کرنے سے پہلے متعلقہ صوبائی میڈیکل یا نرسنگ کونسل سے اپنی اسناد کا جائزہ کروا کر مقامی لائسنس حاصل کرنا ہو گا۔ 

درخواست گزار کے پاس متعلقہ ترجیحی شعبے میں کم سے کم ایک سال کا مسلسل کام کرنے کا تجربہ ہونا چاہیے (فائل فوٹو: گیٹی)

امیدوار کینیڈا کے سرکاری پورٹل اور ’جاب بینک‘ کے ذریعے لائسنسنگ کی تفصیلی معلومات اور بین الاقوامی ملازمین کو سپانسر کرنے والے اداروں کی فہرستیں دیکھ سکتے ہیں۔
’عالمی سطح پر پروفیشنلز کی کمی، لیکن پاکستانیوں کے لیے راستے آسان نہیں‘
اسلام آباد میں مقیم امیگریشن کے ماہر، میجر (ریٹائرڈ) بیرسٹر ساجد مجید کا کہنا ہے کہ ’اس وقت نرسنگ اور پیرامیڈیکل سٹاف کی قلت ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے، جس کے باعث کینیڈا جیسے ممالک میں روزگار کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔‘
اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ کینیڈا کا یہ نیا اقدام صرف ان پاکستانیوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے جن کے پاس نرسنگ کی باقاعدہ ڈگری موجود ہو اور وہ کینیڈا پہنچ کر وہاں کے مقامی معیاری امتحانات پاس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
’پاکستان میں پروفیشنل ڈگری کے بجائے ڈپلومہ ہولڈرز کی اکثریت‘
ساجد مجید کے مطابق وہ اس نئی امیگریشن پالیسی سے پاکستانیوں کو کوئی بڑا فائدہ ملنے کے حوالے سے زیادہ پُرامید نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں خود اس وقت کوالیفائیڈ نرسنگ عملے کی قلت ہے۔‘

 ’پروفیشنل تعلیم سے دُوری پاکستانیوں کے لیے بیرونِ ملک ملازمتوں کے حصول کی راہ میں بڑی رُکاوٹ ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

’ہمارے ہاں زیادہ تر نرسنگ سٹاف کے پاس محض ڈپلومہ ہے جبکہ ان کے پاس بین الاقوامی معیار کی پرائمری یا بیچلرز ڈگری نہیں ہوتی۔ محض ڈپلومے کی بنیاد پر بیرونِ ملک ایسی معیاری ملازمتیں حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔‘
’انڈین غلبہ اور پاکستانی درخواستوں کا زیادہ تناسب سے مسترد ہونا‘
بیرسٹر ساجد مجید نے نشان دہی کی کہ کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں انڈین شہری بڑی تعداد میں ایسے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں کیونکہ وہاں پروفیشنل تعلیم کا رُجحان زیادہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر مجموعی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو کینیڈا امیگریشن کے لیے درخواست دینے والے قریباً 80 فیصد پاکستانیوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘ 
’تاہم جن شہریوں کے پاس مطلوبہ تعلیم موجود ہے اور انہیں کینیڈا میں کوئی مقامی معاونت بھی حاصل ہے، وہ اِن مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘
’سرکاری اقدامات کی ضرورت‘
البتہ بیرسٹر ساجد مجید یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہمارے ہاں بھی سرکاری سطح پر اس حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے اور تعلیم کے معیار کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تو پاکستان بھی دنیا بھر میں نرسنگ کی اس بڑی مارکیٹ سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

شیئر: