پمز آتشزدگی: ’ای ڈی کو ہٹانا میرے اختیار میں نہیں‘، ذمہ دار افسران کیخلاف فوجداری کارروائی کے لیے وزارتِ داخلہ کو خط
پمز آتشزدگی: ’ای ڈی کو ہٹانا میرے اختیار میں نہیں‘، ذمہ دار افسران کیخلاف فوجداری کارروائی کے لیے وزارتِ داخلہ کو خط
پیر 31 اگست 2026 17:45
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
26 اگست کو پمز کی بچوں کی ایمرجنسی وارڈ میں آگ بھڑک اُٹھی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی وزارتِ صحت نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کی انکوائری رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں ذمہ دار افسران کے خلاف فوجداری کارروائی کے لیے وزارتِ داخلہ کو مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔
ایڈیشنل سیکٹری وزارتِ صحت لئیق احمد نے پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کو آگاہ کیا کہ وزیراعظم کی جانب سے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کے تحت ذمہ داروں کے خلاف اقدامات کے لیے وزارتِ داخلہ کو خط لکھ دیا گیا ہے۔
اجلاس کے بعد اردو نیوز سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ ’اب یہ وزارتِ داخلہ کی صوابدید ہے کہ وہ پولیس کے ذریعے مقدمات درج کرواتی ہے یا یہ کارروائی ایف آئی اے کے سپرد کی جاتی ہے۔‘
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اراکینِ قومی اسمبلی نے پمز حادثے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ وزارتِ صحت اور انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اراکین کا کہنا تھا، ’یہ صرف کسی ایک وزارت کی لاپرواہی نہیں بلکہ تمام ماتحت اداروں کی مجموعی ناکامی کا نتیجہ ہے۔‘
’ای ڈی کو ہٹانا میرے اختیار میں نہیں‘: وفاقی وزیرِ صحت
اجلاس کے دوران وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے اپنے محدود اختیارات کا گلہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے بس میں نہیں کہ میں کسی ای ڈی کو لگاؤں یا برطرف کروں، پمز سربراہ کو ہٹانے یا لگانے کا حتمی اختیار صرف وزیراعظم کے پاس ہی ہے۔‘ نئے ای ڈی کی موجودگی میں انہوں نے کہا کہ ’وہ بھی یہ ہسپتال نہیں چلا سکیں گے۔‘
اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے وزیرِ صحت سے استفسار کیا کہ ’انکوائری رپورٹ میں حقائق واضح نہیں ہیں۔ آپ بتائیں کہ آگ لگنے کی اصل وجہ کیا تھی؟‘
جس پر وزیرِ صحت نے جواب دیا کہ ’انکوائری کمیٹی کے مطابق آگ لگنے کی وجہ جاننے کے لیے فارنزک تجزیہ کروانا پڑے گا۔ اس وقت میں حتمی طور پر کچھ نہیں بتا سکتا۔‘
اراکینِ کمیٹی کے تحفظات اور سوالات
اجلاس کے دوران کمیٹی رکن راجہ خرم نواز نے موقف اپنایا کہ اگر نظام کو درست کرنا ہے تو ذمہداران افسران کے خلاف فوری فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔
قائمہ کمیٹی کے اراکین نے نرسری کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو ناقابلِ فہم قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اراکین کا کہنا تھا کہ ’جو فوٹیج فراہم کی گئی ہے اس سے کچھ سمجھ نہیں آ رہا، ہمیں نرسری کی فوٹیج دکھائی جائے۔‘
رکنِ کمیٹی عالیہ کامران نے انکوائری کمیٹی کی ساخت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’ریٹائرڈ بیوروکریٹ حاضر سروس بیوروکریسی کے خلاف غیر جانبدارانہ فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں؟‘
آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جان کی بازی ہار گئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
اراکین نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ واقعے کو اتنے دن گزرنے کے باوجود اب تک باقاعدہ مقدمہ درج کیوں نہیں ہوا؟
انکوائری کو حساس قرار دیتے ہوئے وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی مکمل بااختیار ہے۔ انہوں نے قائمہ کمیٹی کو مشورہ دیا، ’آپ وزیراعظم کی انکوائری کمیٹی کے ممبران اور معطل افسران کو یہاں بلا لیں تاکہ تمام تر معلومات اور حقائق سامنے آ سکیں۔‘
اجلاس کے دوران رکنِ کمیٹی شرمیلا فاروقی نے وزیرِ صحت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’اگر سارا کام دوسروں سے ہی کروانا ہے تو پھر وزیرِ صحت کے پاس کیا معلومات ہیں؟‘ انہوں نے تبصرہ کیا کہ ‘جتنی معلومات اراکینِ کمیٹی کے پاس ہیں، اس سے بھی کم وزیرِ صحت کے پاس ہیں۔‘
انکوائری کمیٹی کے ممبران کو طلب کریں گے،چیئرمین کمیٹی
قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پمز آتشزدگی کے واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے آئندہ اجلاس میں انکوائری کمیٹی کے ارکان اور پمز کے معطل افسران کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ان افسران سے گفتگو کے بعد ہی مزید حقائق سامنے لائے جا سکیں گے، جبکہ اجلاس کی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔‘
واضح رہے کہ اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز کے گائنی نرسری وارڈ میں 26 اگست کو آتشزدگی کے واقعے میں 14 نومولود بچے جان کی بازی ہار گئے تھے۔
واقعے کے بعد وزیراعظم نے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد ہسپتال کے آٹھ افسران کو معطل کر کے ان کے خلاف فوجداری کارروائی کی سفارش کی تھی۔