Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باوجود انڈین معیشت نے توقعات سے زیادہ ترقی کی

انڈین حکومت نے اب تک محدود اور مرحلہ وار ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے شہریوں کو جنگ کے بدترین اثرات سے بڑی حد تک محفوظ رکھا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کی معیشت نے اپریل سے جون کی سہ ماہی کے دوران توقعات سے زیادہ تیزی سے ترقی کی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو جاری ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مضبوط طلب نے ایران جنگ کے اثرات کو بڑی حد تک زائل کرنے میں مدد دی۔
وزارتِ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق، جون کو  ختم ہونے والی تین ماہ کی مدت کے دوران انڈیا کی مجموعی ملکی پیداوار (GDP) میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 7.8 فیصد اضافہ ہوا، جس میں خدمات کے شعبے کی مضبوط کارکردگی نے اہم کردار ادا کیا۔
اگرچہ یہ شرح گزشتہ سہ ماہی  کے نظرثانی شدہ 8.6 فیصد کے گرتوتھ کے مقابلے میں کم تھی، تاہم یہ مارکیٹ کی 7.3 فیصد شرحِ نمو کی توقعات سے پھر بھی زیادہ رہی۔
وزارتِ شماریات نے ایک بیان میں کہا کہ انڈیا کی معیشت نے ’عالمی مشکلات کے باوجود ترقی کی رفتار برقرار رکھی ہے۔‘
پیر کو جاری ہونے والے یہ اعداد و شمار سے انڈیا کو دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت کے طور پر مزید مستحکم کیا۔
یہ وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے بھی خوش آئند خبر ہے، جو سیاسی مشکلات اور پالیسی سے متعلق کئی حساس چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔
سال کے آغاز میں انڈیا کی معیشت نے مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے ساتھ معاشی ترقی کی رفتار بہتر رہی اور امریکہ کے ساتھ طویل عرصے سے تاخیر کا شکار عبوری تجارتی معاہدے پر بھی پیش رفت ہوئی۔
تاہم یہ رفتار جلد ہی واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں تعطل کے باعث متاثر ہوئی۔ ایران جنگ نے بھی توانائی کی لاگت کے ساتھ ساتھ انڈیا کے درآمدی اخراجات میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھی۔
نئی دہلی اپنی تیل اور گیس کی ضروریات کے لیے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جس کے باعث یہ ملک تنازع کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی توانائی کے بحران سے خاص طور پر متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے ابتدائی جائزوں کے بعد انڈیا  کے مرکزی بینک نے رواں مالی سال کے لیے معاشی ترقی کی پیش گوئی کم کر دی تھی، تاہم بعد میں ان اندازوں پر نظرثانی کرتے ہوئے انہیں بڑھا دیا گیا۔
انڈین حکومت نے اب تک محدود اور مرحلہ وار ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے شہریوں کو جنگ کے بدترین اثرات سے بڑی حد تک محفوظ رکھا ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سطح پر خام تیل کی مسلسل بلند قیمتوں کے پیش نظر یہ صورتحال زیادہ دیر برقرار رہنا مشکل ہو سکتی ہے۔
گزشتہ سال بڑے پیمانے پر کھپت اور آمدنی پر عائد ٹیکسوں میں کمی نے بھی ملکی طلب میں اضافے میں مدد دی ہے اور انڈیا کی معیشت کو جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، بشمول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے محصولات میں بڑے پیمانے پر اضافے، کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں کردار ادا کیا ہے۔

شیئر: