پمز آتشزدگی: وزیراعظم نے 8 ذمہ دار افراد کی معطلی اور فوجداری کارروائی کی منظوری دے دی
پمز آتشزدگی: وزیراعظم نے 8 ذمہ دار افراد کی معطلی اور فوجداری کارروائی کی منظوری دے دی
ہفتہ 29 اگست 2026 17:55
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پمز میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی کی عبوری رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں ہسپتال کے آٹھ ذمہ دار افراد کو فوری طور پر معطل کرنے اور ان کے خلاف محکمانہ و فوجداری کارروائی کی منظوری دے دی ہے۔
سنیچر کو وزیراعظم کی زیر صدارت پمز میں آتشزدگی کے واقعے سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان نے عبوری رپورٹ پیش کی۔ اجلاس میں واقعے کی تقریباً دو منٹ پر محیط سی سی ٹی وی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔
وزیراعظم آفس کے مطابق کمیٹی کی جانب سے ذمہ دار قرار دیے گئے افراد میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینیئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی پمز محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ذمہ داران کے خلاف بلاامتیاز محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری قوانین کے تحت بھی کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ’مجرمانہ غفلت کے مرتکب لوگ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں۔‘ وزیراعظم نے مزید کہا کہ واقعے کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور انہیں مثالی سزا دلوائی جائے گی تاکہ آئندہ کسی کی مجرمانہ غفلت کے باعث کسی ماں سے اس کا لخت جگر جدا نہ ہو۔
’فائر سیفٹی کے لیے مؤثر ایس او پیز اور تربیت موجود نہیں تھی‘
تحقیقاتی کمیٹی کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق پمز میں آتشزدگی یا کسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوئی تفصیلی ایس او پیز یا تربیتی نظام موجود نہیں تھا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پمز کے 13 ایس او پیز میں سے صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورت حال کا ذکر موجود ہے، جبکہ واقعے کے وقت سپروائزری سٹاف بھی ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا۔
بریفنگ کے مطابق آگ لگنے کے وقت وارڈ میں دو نرسیں، ایک خاتون سکیورٹی گارڈ اور ایک ہاؤس آفیسر موجود تھے۔ آگ لگنے کے بعد پورے وارڈ کو لپیٹ میں لینے میں صرف دو منٹ لگے۔
تحقیقات میں بتایا گیا کہ آگ لگنے کے چھ منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال کی گئی جبکہ پہلا ایمرجنسی رسپانس اس کے مزید 15 منٹ بعد پہنچا۔
کمیٹی کے مطابق وارڈ میں فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم بھی موجود نہیں تھا، جبکہ نیونیٹل وارڈ میں فائر سیفٹی سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے قواعد کی خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔
تحقیقات میں بتایا گیا کہ آگ لگنے کے چھ منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال کی گئی (فوٹو: اے ایف پی)
ایک ماہ قبل بھی ہسپتال میں آگ لگی تھی
اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی میں، یعنی پمز کے نیونیٹل وارڈ میں آتشزدگی کے واقعے سے صرف ایک ماہ قبل، ہسپتال کے نرسنگ ہاسٹل میں بھی آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا، تاہم اس کے بعد ہسپتال میں حفاظتی اقدامات بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے۔
تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق پمز میں ہنگامی صورت حال، بالخصوص آگ سے نمٹنے کے لیے کوئی باقاعدہ افسر تعینات نہیں تھا اور یہ ذمہ داری ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو اضافی طور پر سونپی گئی تھی۔
اجلاس کو پمز کی خستہ حالی اور انتظامی بدانتظامی کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔
نرس کے لیے ستارۂ خدمت کی منظوری
وزیراعظم نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر آگ کے دوران ایک نومولود بچے کی جان بچانے والی نرس کے لیے ستارۂ خدمت دینے کی منظوری بھی دی۔
اس کے علاوہ وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون سکیورٹی گارڈ کو او ایس ڈی بنانے اور ان کے کردار سے متعلق مزید تحقیقات کی ہدایت کی گئی ہے۔
اجلاس کو پمز کی خستہ حالی اور انتظامی بدانتظامی کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
وزیراعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان، چیف ایگزیکٹو آفیسر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کرنے کی ہدایت بھی کی۔
انہوں نے ہسپتال سے ہٹائے گئے افسران کی جگہ نئے اور اہل افراد کی فوری طور پر تعیناتی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی خلا نہیں رہنا چاہیے۔
وزیراعظم نے پمز انکوائری کمیٹی کی عبوری رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے لانے کی ہدایت بھی کی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق رپورٹ وزارت قومی صحت کی ویب سائٹ پر جاری کی جائے گی۔
وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان اور اس کے ارکان کا تحقیقات پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کمیٹی کو تحقیقات مکمل کرکے مزید تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’معصوم بچوں کی موت ایک ایسا اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمگین ہے۔ بچوں کے والدین کے ساتھ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں۔‘
اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ اور سید مصطفیٰ کمال، تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان، کمیٹی ارکان بیرسٹر نبیل اعوان اور میجر جنرل (ر) خورشید اتراء سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔