پاکستانی بولر محمد عباس کے کارناموں کے درمیان اگر کوئی ظہیر عباس کو یاد کرے تو آپ کیا کہیں گے؟
گذشتہ دنوں انڈیا کے سابق کپتان اور کوچ روی شاستری نے سوشل میڈیا پلیٹفارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ظہیر عباس کے ساتھ اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے انہیں بیٹنگ کا 'فنکار' اور کلائی کے ایسے جادوگر کے طور پر یاد کیا جس پر جان نچھاور کی جائے۔
ان کی اس پوسٹ پر جہاں ظہیر عباس کی بیٹنگ پر لوگوں کے تبصرے نظر آئے وہیں لوگوں انڈیا اور پاکستان کے تعلقات پر بھی اپنی آرا پیش کیں۔ اگر کرکٹ میں کلائی کے بہترین استعمال کی بات کی جائے تو جہاں محمد اظہرالدین، ارونڈ ڈی سلوا، وی وی ایس لکشمن، مارک وا، اور براین لارا کا نام آتا ہے اس سے کہیں پہلے ظہیر عباس کا نام آتا ہے۔ انہیں کبھی ’رن مشین‘ کہا گیا تو کبھی ’ایشین بریڈمین۔‘
مزید پڑھیں
-
ظہیر عباس آئی سی سی ہال آف فیم میںNode ID: 500521
-
’ایشیئن بریڈمین‘ ظہیر عباس انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخلNode ID: 679586
اگرچہ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کے ریکارڈ ان کی اصل صلاحیت کے غماز نہیں ہیں لیکن کاؤنٹی کرکٹ میں ان کے ریکارڈ کا طوطی بولتا ہے۔
پہلے روی شاستری کی پوسٹ پر تبصرے کی بات کرتے ہیں پھر اپنے زمانے کے کلائی کے جادوگر یعنی ظہیر عباس کے کھیل پر بات ہوگی۔
در اصل انڈیا اور انگلینڈ کے درمیان لارڈ ٹیسٹ کے دوران روی شاستری اور ظہیر عباس کی ملاقات ہوئی۔ اس ٹیسٹ میں برائن لارا بھی موجود تھے۔ گذشتہ روز جب شاستری نے ظہیر کی تصویر پوسٹ کی تو وہ ماضی کو وہ تصویر تھی جب انڈیا سوائے ورلڈ کپ کے پاکستان سے بہت پیچھے رہ جاتا تھا۔
اینیمیش کمار نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’ایک وقت ظہیر عباس انڈیا میں عمران خان سے زیادہ مقبول ہوا کرتے تھے۔‘
سب چنگا سی نامی ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا کہ '’وہ میرے پسندیدہ پاکستانی کھلاڑی رہے ہیں۔ وہ انتہائی کرشمائی شخصیت تھے اور ان کا کور ڈرائیو انتہائی دلکش ہوا کرتا تھا۔ ان کے کاؤنٹی کے ریکارڈ حیرت انگيز ہیں۔‘
ابو احمد نامی صارف نے لکھا ’روی شاستری آپ نے کیا خوبصورت ماضی کی جھلک پیش کی ہے، آپ اور کپل دیو کرکٹ کے ایک ناقابل فراموش سنہری دور کی نمائندگی کرتے ہیں جب ہندوستان اور پاکستان کے میچوں نے لاکھوں لوگوں کو متحد کیا۔ افسوس کی بات ہے کہ سخت گیر سیاست نے ہمارے خطے سے اس جادو کا زیادہ حصہ چھین لیا ہے۔ امن قائم ہو تاکہ اس کرکٹ کو واپس لایا جا سکے جو ہم سب کو یاد ہے۔‘
آرکیٹیکٹ ستیاکی رگھوناتھ نے ایکس پر لکھا ’سراسر کلاس، انزی، یونس خان، یوسف یوحنا اور جاوید میانداد کے ساتھ میں نے جن پانچ بہترین پاکستانی بلے بازوں کو دیکھا ہے ان میں سے ایک (ظہیر عباس) ہیں۔ اتنا بتا دوں کہ زیڈ اب بھی میرے آل ٹائم پسندیدہ پاکستانی بلے باز ہیں۔‘
عمر چوہدری نامی صارف نے لکھا کہ ’تم لوگ ہم سے ہاتھ بھی نہیں ملاتے ہو اور اب دوستی بڑھانے کی باتیں کر رہے ہو۔‘
دانش علی نامی صارف نے ظہیر عباس کے ریکارڈ کے اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیا ہی بہترین کھلاڑی رہے۔‘
With a great Artist. Wrists to die for. ZED ABBASSS #LivingLegend pic.twitter.com/Desj0LseNA
— Ravi Shastri (@RaviShastriOfc) August 30, 2026
ایشیائی بریڈمین اور کاؤنٹی کرکٹ کے بے تاج بادشاہ
دنیائے کرکٹ میں ظہیر عباس صرف ایک عظیم بلے باز کے طور پر نہیں، بلکہ نفاست، کلاس اور رنز کی بے پناہ بھوک کی علامت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ ان کی شاندار بیٹنگ، طویل اننگز کھیلنے کی صلاحیت اور رنز بنانے کے غیر معمولی شوق نے انہیں ’ایشین بریڈمین‘ کہلانے کا وہ اعزاز بخشا جو اب تک بہت کم کھلاڑیوں کو نصیب ہوا۔
ظہیر عباس نے 78 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے پانچ ہزار 62 رنز بنائے، جبکہ ایک روزہ کرکٹ میں بھی ان کا اوسط تقریباً 48 رہا۔ تاہم ان کی اصل عظمت کا ایک بہت بڑا باب انگلینڈ کی کاؤنٹی کرکٹ سے وابستہ ہے، جہاں انہوں نے گلوسسٹرشائر کے لیے 1972 سے 1984 تک شاندار خدمات انجام دیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق، ان کی دلکش بیٹنگ نے انہیں انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں ایک عظیم کھلاڑی کا درجہ دلایا اور وہ گلوسسٹرشائر کے مداحوں کے محبوب ترین ستاروں میں شامل ہوگئے۔
گلوسسٹرشائر کے لیے کھیلتے ہوئے ظہیر عباس نے رنز کے انبار لگائے۔ ان کی بیٹنگ میں طاقت سے زیادہ نفاست تھی، مگر گیند جب ان کے بلے سے نکلتی تو باؤنڈری تک برق رفتاری سے پہنچتی۔
ان کے کور ڈرائیو، بیک فٹ سٹروک اور ان کا ہائی بیک لفٹ ناظرین کے لیے قابل دید ہوا کرتا تھا۔ وہ ان چند بلے بازوں میں شامل تھے جنہوں نے انگلش حالات میں نہ صرف خود کو ڈھالا بلکہ وہاں اپنی الگ شناخت بھی قائم کی۔
میرے دونوں بڑے چچا میں ہمیشہ جاوید میانداد اور ظہیر عباس کے لیے مقابلہ ہوتا رہتا تھا۔ ظہیر عباس جب اپنے بام عروج پر سنہ1980 کے انڈیا دورے میں ناکام ہوئے تو انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے آخری ٹیسٹ میچ میں نہ کھیلنے کا فیصلہ بھی کیا۔

عمران خان نے ایک انٹرویو کے دوران اس سیریز کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ظہیر عباس کو یہ واہمہ ہو گیا تھا کہ انڈیا میں ان کے کھیل کو کسی کی نظر لگ گئی ہے یا ان پر کالا جادو کرایا گیا جس کی وجہ سے وہ رنز نہیں بنا پا رہے ہیں۔‘
انہوں نے پانچ میچز کی نو اننگز میں کل 157 رنز بنائے جس میں ایک نصف سنچری (50) شامل تھی۔ لیکن آپ دیکھیں کہ اس سے قبل والی 1978 کی سیریز میں انہوں نے 194 سے زیادہ کی اوسط سے 583 رنز سکور کیے تھے اور پھر اس کے بعد پاکستان میں ہونے والی 1982-83 سیریز میں انہوں نے انٹرنیشنل میچز میں پانچ مسلسل سنچریاں سکور کی تھیں۔
لاہور میں جب پہلے ٹیسٹ میں 215 رنز بنائے تو فرسٹ کلاس کرکٹ میں یہ ان کی 100ویں سنچری تھی۔ اس سیریز میں ون ڈے انٹرنیشل میں تین اور ٹیسٹ میچز میں تین سنچریاں سکور کیں۔
ظہیر عباس کی سب سے بڑی پہچان ان کی غیر معمولی رنز بنانے کی بھوک تھی۔ آئی سی سی کے ریکارڈ کے مطابق وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں 100 سنچریاں مکمل کرنے والے پہلے ایشیائی بلے باز بنے۔ یہ ایک ایسا سنگ میل ہے جس نے انہیں ایشیائی کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین بیٹسمینوں کی صف میں ہمیشہ کے لیے جگہ دے دی۔ ان کی مجموعی فرسٹ کلاس کارکردگی میں 34 ہزار سے زیادہ رنز اور 108 سنچریاں شامل ہیں۔













