Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

محمد عامر کے لیے اب پاکستان کی نمائندگی کرنا ممکن کیوں نہیں رہا؟

محمد عامر کے مطابق اب برطانوی شہری اور انگلینڈ میں ’لوکل پلیئر‘ ہیں۔(فوٹو:اے ایف پی)
پاکستان کے سابق فاسٹ بولر محمد عامر نے 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ سے قبل قومی ٹیم میں واپسی کی تمام قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ کے ساتھ ان کا باب اب بند ہو چکا ہے۔
محمد عامر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ اب برطانوی شہری اور انگلینڈ میں ’لوکل پلیئر‘ ہیں، جس کے باعث ان کے لیے پاکستان کی نمائندگی کرنا ممکن نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ کاؤنٹی چیمپئن شپ اور ’دی ہنڈرڈ‘ جیسے انگلش ڈومیسٹک مقابلوں میں لوکل کھلاڑی کے طور پر کھیلنے کے لیے ایک دستاویز پر دستخط کرنا پڑتے ہیں، جس میں اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ کھلاڑی کسی دوسرے ملک کی جانب سے لوکل پلیئر کے طور پر نمائندگی نہیں کرے گا۔
سابق فاسٹ بولر نے سپورٹس یوٹیوبر محمد فرقان بھٹی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’میں اب برطانوی  ہوں، اس لیے پاکستان کا جو باب پہلے تھا وہ اب بند ہوچکا ہے۔‘
واضح رہے  کہ 34 سالہ محمد عامر نے دسمبر 2024 میں دوسری مرتبہ انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ 
اس سے قبل وہ 2020 میں بھی ریٹائر ہوئے تھے، تاہم 2024 کے ٹی20 ورلڈ کپ سے قبل انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کی تھی۔
محمد عامر نے پاکستان کی جانب سے 36 ٹیسٹ، 61 ون ڈے اور 62 ٹی20 انٹرنیشنل میچز کھیلے اور مجموعی طور پر 271 وکٹیں حاصل کیں۔
وہ 2009 کی ٹی20 ورلڈ کپ فاتح پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے جبکہ 2017 کی چیمپئنز ٹرافی میں بھی ان کا اہم کردار رہا۔ انڈیا کے خلاف فائنل میں عامر نے 16 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کی تھیں، جن میں روہت شرما، شیکھر دھون اور ویرات کوہلی کی وکٹیں شامل تھیں۔
2019 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں بھی عامر پاکستان کے سب سے کامیاب بولر رہے اور 8 میچز میں 17 وکٹیں حاصل کیں۔
تاہم برطانوی شہریت حاصل کرنے کے بعد محمد عامر اب انگلینڈ کی ڈومیسٹک کرکٹ میں لوکل کھلاڑی کے طور پر کھیل سکتے ہیں، جبکہ پاکستان سپر لیگ میں ان کی شرکت غیرملکی کھلاڑی کی حیثیت سے ممکن رہے گی۔
 

شیئر: