Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پانچ فیکٹرز جن کی وجہ سے پاکستان کو لارڈز میں بدترین شکست ہوئی

پاکستان نے ہدف کے تعاقب میں انتہائی مایوس کن آغاز کیا: فوٹو اے ایف پی
لارڈز انگلینڈ کا بہت مشہور اور تاریخی کرکٹ گراونڈ ہے۔ لارڈز کے پویلین میں لگے آنرز بورڈ پر نام آنا ہر کرکٹر کا خواب ہوتا ہے۔
محمد عباس آٹھ برس پہلے اسی میدان پر دونوں اننگز میں چار چار وکٹیں لے کر بھی اپنا نام نہیں درج کرا سکے تھے کہ اس کے لیے سنچری یا پانچ وکٹ ایک اننگز میں لینا بنیادی شرط ہے۔
گزشتہ روز اتوار کو انگلینڈ کی دوسری اننگز میں عباس نے 22 اوور کرائے 57 رنز دیے، پانچ انگلش بلے باز آؤٹ کیے اور نام بورڈ پر لکھا گیا۔ میچ میں کل نو وکٹیں، مگر جس میچ میں یہ کارنامہ ہوا، اسی میں پاکستان 194 رنز سے ہارا اور اس کے ساتھ سیریز بھی ہاتھ سے نکل گئی۔اب میرے جیسے کرکٹ لورز کے لیے سوال یہ ہے کہ عباس کی کارکردگی پر خوش بھی ہوں تو کیسے؟
ہیڈنگلے میں پہلا ٹیسٹ پاکستان تین دن میں ہار گیا تھا۔ لارڈز ٹیسٹ کا فیصلہ چوتھے دن ہوا، مگر دونوں میچز میں ایک بات مشترک ہے کہ دونوں یک طرفہ رہے۔ پاکستان کسی بھی مرحلے پر انگلینڈ پر مسلسل اور نتیجہ خیز دباؤ قائم نہ رکھ سکا۔
اس ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ میں ڈیلی ٹیلی گراف کے سینئر کرکٹ لکھاری سکلڈ بیری نے مضمون لکھا کہ جس کی سرخی تھی کہ یہ 50 برسوں کی کمزور ترین پاکستانی ٹیم ہے۔اسی دوران سابق انگلش فاسٹ باؤلر سٹوارٹ براڈ نے کہہ دیا کہ پاکستان اتنی کمزور ٹیم ہے کہ انگلینڈ اگر یہ سیریز تین صفر سے نہ جیتا تو یہ خود انگلینڈ کی بڑی ناکامی ہوگی۔ میرے جیسے لوگ تب اس پر ناخوش ہوئے، ہم نے انگلش سابق کرکٹرز کو صلواتیں سنائیں، آج مگر وہ سب درست اور سچ لگتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟ اس کی پانچ باہم جڑی بنیادی وجوہات ہیں۔

پاکستانی بلے بازوں کی تکنیکی کمزوریاں

سب سے تکلیف دہ بات تکنیک کی ہے۔ پاکستانی بلے بازوں کو سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ انگلینڈ کی پچز پر جہاں گیند سوئنگ ہو رہا ہے، وہاں کیسے بیٹنگ کی جائے؟
ان کے فرنٹ فٹ کے مسائل ہیں، بلا سلپ بلکہ گلی سے آتا ہے، بیٹ اینڈ پیڈ میں گیپ نکل رہا ہے، سر اپنی جگہ سٹل نہیں رہتا، گیند کی لینتھ اور موومنٹ سمجھ نہیں آرہی۔ ان سوئنگ کھیلنے جاتے ہیں تو وہ آؤٹ سوئنگ بن کر بولڈ کردیتی یا سلپ میں کیچ نکل جاتا۔ حیران کن بات تو یہ ہے کہ بابراعظم جیسا اچھا بلے باز جوفرا آرچر کی تیز شارٹ پچ گیند پر ہل نہیں سکا اور گیند ہیلمٹ کی گرل سے ٹکراتی ہوئی آوٹ کرنے کا باعث بنی۔
دوسری اننگ میں اولی رابنسن نے اذان اویس کو دو تین گیندیں باہر نکالیں اور ایک اندر لایا اور بھائی صاحب ایل بی ڈبلیو ہو کر چلتے بنے۔ تین گیندوں کے بعد عبداللہ شفیق کو ایسی گیند ڈالی جو لینتھ سے باہر نکلی، بلے کے پاس سے گزری اور آف سٹمپ کی چوٹی لے اڑی۔ شفیق صفر پر واپس۔ شان مسعود اپنی وکٹوں کے آگے بغیر سوچے سمجھے آئے اور ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ رضوان نے ایک احمقانہ سلاگ سوئپ ٹائپ شاٹ کھیلنے کی کوشش میں ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

سعود شکیل نے میچ بچانے کی کوشش کی تاہم اپنی سینچری مکمل نہ کرسکے: فوٹو اے ایف پی

بیٹنگ فگرز دیکھ لیں۔ پورے میچ میں پاکستان کی اٹھارہ وکٹوں میں سے دس یا تو بولڈ ہوئیں یا ایل بی ڈبلیو۔ یہ باعث شرمندگی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بلے باز گیند کی لائن ہی کو نہیں پڑھ پا رہے۔ گارڈین اخبار میں علی مارٹن نے شان مسعود کے بارے میں مختصر مگر بے رحم جملہ لکھا کہ ان کے پاؤں حرکت ہی نہیں کر رہے تھے۔
سب جانتے ہیں کہ ڈیوک گیند انگلینڈ میں دیر تک سیم کرتی ہے۔ اسے کھیلنے کے لیے سر گیند کے اوپر، اگلا قدم لائن میں اور بلا جسم کے قریب سے نیچے آنا چاہیے۔ ہمارے لڑکے اتنا خلا چھوڑتے ہیں جیسے انہیں گیند کو راستہ دے کر خوشی مل رہی ہو۔ دراصل ہمارے بیٹرز کی یہ خامی فلیٹ ڈومیسٹک وکٹوں پر پنپتی ہے، جہاں غلط تکنیک کی سزا نہیں ملتی۔ لارڈز پر وہی گیند ڈیڑھ دو انچ ہلتی ہے اور کھلاڑی پویلین میں پہنچ گیا۔
بابر اعظم کا آؤٹ ہونا باقاعدہ الارمنگ ہے ۔ آرچر کا اکیانوے میل فی گھنٹہ کا باؤنسر تھا اور بابر نیچے جھک ہی نہیں سکا۔ یہ صرف تکنیکی غلطی نہیں، اس رفتار کے سامنے ذہنی اور جسمانی تیاری کا مسئلہ بھی ہے۔ ہمارے ہاں ایسی رفتار نیٹ میں بھی نہیں ملتی۔

ٹیل اینڈرز کا وہ فرق جس نے میچ الٹ دیا

اس سیریز میں ایک اہم فرق دونوں ٹیموں کے ٹیل اینڈرز کا بھی رہا۔ لارڈز میں پہلے دن ہمارے باؤلروں نے شاندار آغاز کیا تھا۔ انگلینڈ 36 رنز پر تین اور 77 رنز پر چار وکٹیں گنوا چکا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں پرانے دن یاد آ گئے۔ پھر بھی دو سو بائیس رنز پر ان کی آٹھ وکٹیں گر چکی تھیں۔ اس سکور پر ٹیم کو240 کے آس پاس ختم ہو جانا چاہیے تھا۔

اس کے بعد کیا ہوا؟ گس اٹکنسن نے چھیالیس گیندوں پر 45 رنز بنائے، جوش ٹنگ 48 گیندیں کھیل کر 30 رنز پر ناقابل شکست رہے اور سکور 290 تک پہنچ گیا۔ آخری دو وکٹوں کی شراکتوں میں 68رنز بنے۔ دوسری اننگز میں بھی وہ 162 پر سات وکٹیں گنوا چکے تھے، وہاں سے 208 تک گئے۔
اب ہماری طرف دیکھیں۔ پہلی اننگز میں ایک سو پانچ پر ساتویں وکٹ گری اور ایک سو دس پر اننگز تمام۔ گارڈین نے حساب لگایا کہ ہماری آخری پانچ وکٹیں صرف انیس رنز کے اضافے سے گریں۔ دوسری اننگز میں ایک سو انہتر پر سعود شکیل گئے اور ایک سو چورانوے پر قصہ ختم۔ پورے میچ میں انگلینڈ کے نچلے آرڈر نے ایک سو چودہ رنز کا اضافہ کیا اور ہمارے نچلے آرڈر نے بمشکل تیس۔ چوراسی رنز کا یہ فرق ہے۔ میچ کا مارجن ایک سو چورانوے۔ حساب لگا لیں کہ اکیلا یہ ایک شعبہ نتیجے میں کتنا وزن رکھتا ہے۔
ہماری ڈومیسٹک کرکٹ میں باؤلروں کی بیٹنگ پر سنجیدہ کام نہیں ہوتا۔ نیٹ میں باؤلر گیند کراتا ہے، تھک کر بیٹھ جاتا ہے اور کوئی اسے بیٹنگ کے دس منٹ سنجیدگی سے نہیں دیتا۔ انگلینڈ اور آسٹریلیا میں نمبر نو کا بھی باقاعدہ کوچنگ سیشن ہوتا ہے۔ نتیجہ میدان میں نظر آتا ہے۔

بولرز کی محنت پوری، فنشنگ آدھی


عباس سلومیڈیم پیسر ہے مگر اس کی سوئنگ موومنٹ اور درستی حیران کن ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ عباس کے ساتھ مکمل سپورٹ نہیں: فوٹو اے ایف پی

اس شکست کا سارا بوجھ بولرز پر ڈالنا زیادتی ہوگی۔ محمد عباس نے پہلی اننگز میں چار اور دوسری میں پانچ وکٹیں لیں۔ ڈین لارنس کو انہوں نے اندر آتی گیند پر بولڈ کیا، جبکہ رابنسن کا کیچ رضوان نے وکٹوں کے بالکل قریب کھڑے ہو کر لیا۔
محمد علی نے تین اور دو وکٹیں حاصل کیں، خرم شہزاد نے دوسری اننگز کے آغاز میں انگلینڈ کو تیرہ رنز پر دو کر دیا تھا۔ رضوان کی دوسرے ٹیسٹ میں وکٹ کیپنگ بھی لائق تحسین رہی، بلے سے وہ چاہے بری طرح ناکام ہوئے ہوں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہماری بولنگ اچھی ہے، تباہ کن اور کِلر نہیں ۔ بولرز لائن لینتھ پر گیند رکھ سکتے ہیں، سیم کرا سکتے ہیں، صبح کے سیشن میں ٹاپ آرڈر کو تنگ کر سکتے ہیں۔ جہاں گیند پرانی ہو جائے، وکٹ سیدھی ہو جائے اور سامنے کوئی ضدی نمبر آٹھ ڈٹ جائے، وہاں دو ہی چیزیں کام آتی ہیں۔ جینوئن پیس یا وہ کاٹ جو بلے باز کو پیچھے دھکیل دے۔ ہمارے پاس اس وقت دونوں نہیں۔
ناصر حسین کے مطابق انگلش اٹیک چار مختلف انداز سےحملہ آور تھا۔ رابنسن لمبےقد کا بولر ہے، وہ ہائیٹ سے گیند چھوڑتا اور کریز پر سیدھا رہتا ہے، اسی سے اچھال، سیم اور ایل بی ڈبلیو کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ جبکہ جوش ٹنگ کا جھکاؤ دائیں ہاتھ کے بلے باز کے لیے زاویہ بدل دیتا ہے، آرچر کی اوسط رفتار اس سپیل میں تقریباً 146 اور بعض گیندیں 151 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچیں۔ گس ایٹکنسن نے بھی 90 میل کے قریب سپیڈ سے باولنگ کرائی۔ یعنی ان کے پاس رابنسن جیسا کم سپیڈ بولر ہے تو آرچر کی صورت میں سپیڈ سٹآر اور ایٹکنسن جیسا خاصی تیز گیندیں کرانے والا بولرہے۔
ہمارے پاس عباس سلومیڈیم پیسر ہے مگر اس کی سوئنگ موومنٹ اور درستی حیران کن ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ عباس کے ساتھ مکمل سپورٹ نہیں، محمد علی مناسب ہے مگر آرچر جیسا کم از کم ایک تیز باولر چاہیے جو مخالف بلے بازوں کو ڈرا سکے ، ٹیل اینڈرز کو تباہ کن سوئنگنگ یارکرز سےاڑا سکے۔
ایک اور نکتہ بھی ذہن میں رہے کہ ہم نے انگلینڈ کی پہلی اننگز میں 24 اضافی رنز دیے، جن میں 11 نو بالز شامل تھیں۔ جی گیارہ نوبالز۔ ٹیسٹ میں یہ ناقابل برداشت ہے۔ یہ ٹیلنٹ کی نہیں، ڈسپلن کی کمی ہے، اور ڈسپلن سکھایا جا سکتا ہے۔

سینیئرز کا اجتماعی زوال اور وان کا تنقیدی سوال


جب چار پانچ تجربہ کار بلے باز پوری سیریز میں بار بار تقریباً ایک ہی انداز سے ناکام ہوں تو یہ اتفاق نہیں رہتا: فوٹو اے ایف پی

میچ ہارنے میں بلے بازوں کا کلیدی کردار رہا۔ دراصل ٹیم کے تجربہ کار بلے باز اپنا حصہ نہیں ڈال رہے۔ بابر اعظم ہاتھ کی چوٹ کے باعث ہیڈنگلے سے باہر رہے، لارڈز میں قیادت سنبھالنے آئے اور آٹھ اور چھ رنز بنا سکے، دونوں بار دس گیندوں کے اندرآوٹ ۔ شان مسعود نے ایک اور چھبیس۔ عبداللہ شفیق نے پانچ اور صفر۔ محمد رضوان کے سات اور ایک۔ چوتھی اننگز میں ٹیم چودہ رنز پر تین وکٹیں گنوا چکی تھی۔

ایک آدھ ناکامی کسی کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے۔ سب سے بڑے بلے باز بھی سیریز خالی جاتے ہیں۔ مگر جب چار پانچ تجربہ کار بلے باز پوری سیریز میں بار بار تقریباً ایک ہی انداز سے ناکام ہوں تو یہ اتفاق نہیں رہتا۔
سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے بی بی سی ٹیسٹ میچ اسپیشل پر جو کہا جو کہا وہ ہمیں چبھتا ضرور ہے، مگر اس میں سچائی ہے۔ وان کے مطابق انگلش بورلز وکٹوں کے لیے قطار لگائے کھڑے تھے، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ کوئی پاکستانی بلے باز ان پر جوابی حملہ کر کے ان کے فگرز خراب نہیں کرے گا، اور یہ بھی معلوم تھا کہ پاکستان 40/50 اوور سے زیادہ نہیں کھیلے گا، اس لیے ہر بولرز پوری شدت سے مختصر سپیل کر سکتا ہے۔ آخر میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ ٹیسٹ کرکٹ ہے یا سیکنڈ ڈویژن کاؤنٹی کرکٹ؟
جملہ توہین آمیز ہے، مگر اس کا پہلا حصہ زیادہ خطرناک ہے۔ حریف بولرز کے دل سے آپ کا خوف نکل جائے، یہ ٹیم کے لیے سب سے بڑا نقصان ہے۔ ہماری بیٹنگ میں اس وقت کوئی ایسا آدمی نہیں جسے دیکھ کر مخالف کپتان فیلڈ پھیلانے پر مجبور ہو۔
اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تین چراغ ضرور جلے۔ پہلا، ہیڈنگلے کے بعد لارڈز میں فیلڈنگ نمایاں بہتر رہی اور انگلینڈ کی آخری وکٹ بابر اعظم کی شاندار ڈائریکٹ ہٹ سے گری۔ دوسرا، اذان اویس۔ ٹیم 110 پر سمٹی مگر اس نوجوان نے 102 گیندیں کھیل کر 46 رنز بنائے۔ اذان آرچر کے خلاف 14 بار بیٹ ہوا، تکنیک مکمل نہیں تھی؛ مگر کریز پر ٹھہرنے اور مشکل مرحلہ برداشت کرنے کی خواہش دکھائی، جو کئی تجربہ کاروں میں نظر نہ آئی۔
تیسرا چراغ سعود شکیل۔ تین سو نواسی کے تعاقب میں انہوں نے شان مسعود کے ساتھ 97 رنز جوڑے، 13 چوکے اور دو چھکے لگائے، آرچر کی شارٹ گیندوں کا جواب دیا اور ٹنگ کا باؤنسر ہیلمٹ پر کھا کر بھی ڈٹے رہے۔ سنچری سے تین رنز پہلے کیچ ہوئے۔ اکیلا آدمی میچ نہیں بچا سکتا، مگر شکیل نے ثابت کیا کہ وکٹ ایسی خراب بھی نہیں تھی؛ باقی سب بھی اسی وکٹ اور انہی بولرز کے سامنے کھیل رہے تھے۔

اصل خرابی ڈومیسٹک سسٹم میں ہے


 عبداللہ شفیق صفر اور کپتان بابر اعظم چھ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے: فوٹو اے ایف پی

ایک بات ہم برسوں سے لکھ رہے ہیں مگر کوئی کان نہیں دھرتا۔ لارڈز میں جو ہوا وہ بیماری نہیں، علامت ہے۔ بیماری قذافی سٹیڈیم اور نیشنل سٹیڈیم کے دفتروں میں پل رہی ہے۔
اس پر سب سے کام کا تجزیہ کسی انگریز کا نہیں، ایک پاکستانی لکھاری کا ہے۔ احمر نقوی نے وزڈن میں لکھا کہ ٹی ٹونٹی اور فرنچائز لیگوں کو الزام دینا آسان مگر ادھورا ہے، کیونکہ موجودہ ٹیم کے اکثر کھلاڑی بڑے ٹی ٹونٹی سٹار نہیں بلکہ پاکستانی فرسٹ کلاس کرکٹ کے کامیاب ترین لوگ ہیں۔
ان کے نزدیک اصل مسئلہ یہ ہے کہ کوچ مسلسل بدلے گئے، سلیکشن کمیٹیاں بار بار تحلیل ہوئیں، کپتان اور میچ الیون میں اکھاڑ پچھاڑ معمول رہی۔ پہلے ملک میں انتہائی فلیٹ پچیں بنائی گئیں اور پھر اچانک حد سے زیادہ سپن دوست پچوں کی طرف چھلانگ لگا دی گئی۔ پنکھوں سے خشک کر کے ٹرننگ سپن پچز بنائی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کھلاڑی عام، متوازن ٹیسٹ وکٹ پر کھیلنے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھے۔
ایجبسٹن میں ایک ٹیسٹ باقی ہے۔ سیریز جا چکی، تھوڑی سی عزت البتہ بچائی جا سکتی ہے۔ اللہ کرے کہ لڑکے وہاں وہ کھیل دکھائیں جس کے لیے پاکستان جانا جاتا تھا، اور ایسے کالم لکھنے کی ضرورت ہی نہ رہے۔ آمین۔
ویسے ایک بات ضرور ہوئی۔ لارڈز کے آنرز بورڈ پر بالآخر ایک اور پاکستانی نام لکھا گیا۔
اب دعا صرف اتنی ہے کہ اگلی بار وہاں کسی بلے باز کا نام بھی لکھا جائے، ورنہ ہماری کرکٹ ہمیشہ بولرز کے کندھوں پر چلتی رہے گی اور بلے باز صرف سکور کارڈ میں نظر آتے رہیں گے، وہ بھی مختصر سا۔

شیئر: