’جذباتی و آخری خراج تحسین‘، مرنے والوں کی کہانیاں سُناتے گھانا کے منفرد تابوت
’جذباتی و آخری خراج تحسین‘، مرنے والوں کی کہانیاں سُناتے گھانا کے منفرد تابوت
جمعرات 3 ستمبر 2026 10:25
مچھیروں کے لیے مچھلی کی شکل کے تابوت بنائے جاتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
فریڈرک ٹیکو اوفوری نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ ہاتھ میں گٹار لیے ہوئے گزارا، اس لیے جب ایک ٹریفک حادثے میں ان کی موت ہوئی تو اہل خانہ نے فیصلہ کیا کہ آخری سفر میں یہ ساز بھی ان کے ساتھ ہونا چاہیے، جس پر تابوت کو ایک بڑے گٹار کی شکل کا بنایا گیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں گھانا میں تیار ہونے والے منفرد تابوتوں کے حوالے سے رپورٹ شائع کی ہے۔
دارالحکومت اکرا کے مضافاتی علاقے ادجین کوتوکو آمواما میں ہونے والے فریڈرک ٹیکو اوفوری کا آخری سفر اسی تابوت کی وجہ کافی منفرد رہا اور یہی لوگوں کی توجہ کا مرکز بھی رہا۔
تابوت کے ارد گرد سرخ پھول رکھے گئے تھے جبکہ اس کے اوپر 40 سالہ موسیقار کی تصویر بھی لگائی تھی جہاں تقریب کے لیے لگائے گئے شامیانوں کے نیچے سوگوار جمع تھے۔
تاہم گھانا میں آخری رسومات کے موقع پر ایسے منفرد تابوتوں کا نظر آنا زیادہ غیر معمولی بات نہیں۔
وہاں مرنے والے کی زندگی، پسندیدہ شخصیت، پیشے یا دوسری پسندیدہ چیزوں کی مناسبت سے تابوت تیار کیے جاتے ہیں جو وہاں کے لوگوں کے مطابق مرنے والے کو خراج عقیدت پیش کرنے کا ایک خاص انداز ہے۔
تابوت کو مرنے والے کو آخری خراج تحسین پیش کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پورے ملک خصوصاً دارالحکومت کے قریبی علاقوں میں آباد کمیونیٹیز میں منفرد تابوت کو ایک جذباتی اور آخری خراج تحسین سمجھا جاتا ہے۔
یہاں مرنے والے مچھیروں کو انسانی قد سے بڑے مچھلی یا کشتی نما تابوت میں دفن کیا جاتا ہے جبکہ کسانوں کے لیے کوکووا پوڈز کے پھل کی شکل کے تابوت تیار کیے جاتے ہیں۔ ڈرائیوروں کے لیے گاڑی کی طرح تابوت بنتے ہیں جبکہ مذہبی شخصیات کے لیے بائبل سے مشابہہ تابوت بنائے جاتے ہیں۔
اسی طرح جن لوگوں کو موبائلز سے لگاؤ ہو ان کے تابوت بھی اسی سے مشابہہ بنائے جاتے ہیں۔
مچھلی، گاڑی، گٹار یا کسی بھی اور چیز سے مشابہہ تابوت مقامی طور پر تیار کیے جاتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
فریڈرک اوفوری اپنے پیچھے اہلیہ، بچے اور موسیقی کی ایسی میراث چھوڑ گئے ہیں جو اچانک ہی ختم ہوئی جبکہ ان کے ہاں ایک ہفتہ قبل بھی ایک بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔
تاہم زندگی کی طرح موت کے بعد بھی گٹار ان کی شناخت کا اہم حصہ رہے گا۔
لکڑی سے بنا یہ تابوت مقامی کاریگر 54 سالہ ڈینیئل اوبلی مینسہ سے تیار کیا ہے، وہ پچھلے 30 برس سے اس کام سے وابستہ ہیں اور لوگوں کے پیشے، شوق اور سماجی حیثیت کی مناسبت سے ان کی آخری آرام گاہ کو شکل دیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’جب بھی کوئی پیشے سے متعلق تابوت بنانے کا کہتا ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے، اس سے مجھے مرنے والے اور خاندان والوں کے لیے محبت کے اظہار کا موقع ملتا ہے۔‘
ان تابوتوں کو فن پارے سمجھا جاتا ہے جو جلد ہی زمین کے نیچے چلے جاتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
20 ویں صدی کے وسط میں اکرا شہر کے قریبی علاقوں میں ایسے تابوت بنانے والوں نے کافی فروغ پایا جو کہ اس وجہ سے بھی مشہور ہوا کہ اس سے قبل وہاں قبائلی سرداروں کے لیے انتہائی دیدہ زیب اور مختلف اشکال کی پالکیاں بنائی جاتی تھیں اور اسی کا اثر تابوتوں تک بھی پہنچا۔
یہ تابوت آج کے دور میں جدید فن مصوری و مجسمہ سازی میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں، ان کو بنانا کافی مہارت کا کام ہے اور اس میں بہت محنت بھی صرف ہوتی ہے مگر تدفین کے ساتھ ہی یہ فن پارے زمین کے نیچے چلے جاتے ہیں۔
تاہم ایسے ہی کچھ فن پارے عجائب گھروں کا بھی حصہ ہیں جن کو لوگ دیکھنے جاتے ہیں۔ ان میں گھانا کے معروف فنکار پاجو کا تیار کردہ گٹار نما تابوت بھی شامل ہے جو نیویارک کے میٹروپولیٹین میوزیم آف آرٹ میں رکھا گیا ہے۔