Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

افغانستان میں نیا قانون نافذ: ’احتجاج کی کسی بھی قسم پر پابندی‘ عائد

افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق ’پابندی کا قانون شریعت کے مطابق ہے‘ (فوٹو: اے ایف پی)
افغانستان کی طالبان حکومت نے احتجاج پر پابندی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اسلامی قوانین کے مطابق ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پانچ برس قبل ایک بار پھر افغانستان کا اقتدار حاصل کرنے والے طالبان کی آمد کے بعد سے ملک  میں احتجاج کی کوئی سرگرمی شاذ ہی رہی ہے۔
تاہم حکومت نے پچھلے ماہ ایک نیا قانون نافذ کیا ہے جس میں ’احتجاج کی کسی بھی قسم پر پابندی‘ عائد کی گئی ہے۔
بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے اس قانون کو ’ظالمانہ‘ اور اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’یہ قانون مکمل طور پر اسلامی شریعت کے مطابق ہے اور اسلام میں احتجاج کا کوئی تصور موجود نہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ احتحاج ان معاشروں میں ہوتے ہیں جہاں مختلف قوانین نافذ ہوں جیسے جمہوری یا ریپبلکن نظام۔
ترجمان کے مطابق ’اسلامی نظام میں لوگ احتجاج کرنے کے بجائے اپنے مسائل اور تحفظات براہ راست حکومت کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔‘
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کہا کہ احتجا پر پابندی سے لوگوں کا وقت ضائع ہونے سے بچے گا اور نجی املاک کو بھی نقصان بھی نہیں پہنچے گا۔
پچھلے مہینے کے اواخر میں طالبان حکومت کی جانب سے احتجاج پر پابندی عائد کیے جانے کو ہیومن رائٹس واچ نے سخت تنقید نشانہ بنایا تھا اور اس کو ’اختلاف رائے کو دبانے کی ایک اور ظالمانہ کوشش‘ قرار دیا تھا۔
اسی طرح ایمنسٹی انٹرنیشنل نے قانون میں کی جانے والی تبدیلیوں کو کو ’افغانستان میں انسانی حقوق پر ایک اور حملہ‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ احتجاج پر پابندی ایک سنگین ترین شق ہے۔
اگرچہ افغانستان میں احتجاج سے متعلقہ سرگرمیاں بہت کم دیکھنے میں آتی ہیں تاہم اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ جون میں ملک کے مغربی شہر ہرات میں خواتین کے حقوق کے لیے ایک احتجاج ہوا تھا جس پر مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

شیئر: