اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس: جے آئی ٹی نے ایم پی اے ثاقب چدھڑ اور اہلیہ کو بے قصور قرار دے دیا
اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس: جے آئی ٹی نے ایم پی اے ثاقب چدھڑ اور اہلیہ کو بے قصور قرار دے دیا
جمعرات 3 ستمبر 2026 9:53
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
اس فیصلے پر مدعیہ اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے (فوٹو: اردو نیوز)
لاہور کی سیشن عدالت میں اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا کو بے قصور قرار دے دیا ہے۔
تاہم اس فیصلے پر مدعیہ اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور معاملے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
عدالت میں پیش ہونے والے تفتیشی افسر نے بتایا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مقدمے کی تفتیش تبدیل کرتے ہوئے ایک نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی جس نے از سر نو چھان بین کے بعد اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ اس رپورٹ کے مطابق ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا موجودہ مرحلے پر بے قصور پائے گئے ہیں اور فی الحال ان کی گرفتاری درکار نہیں۔ تفتیشی افسر کے اس بیان کی روشنی میں ثاقب چدھڑ نے اپنی عبوری ضمانت کی درخواست خود ہی واپس لے لی جس پر عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر میاں بیوی دونوں کو ریلیف دیتے ہوئے ان کی ضمانت کی درخواستیں نمٹا دیں۔
واضح رہے کہ این سی سی آئی اے نے یہ مقدمہ اداکارہ مومنہ اقبال کی مدعیت میں ثاقب چدھڑ کے خلاف درج کر رکھا ہے۔
مدعیہ کے وکیل کے اعتراضات
مومنہ اقبال اپنے وکیل عدنان احسان کے ہمراہ سیشن عدالت میں پیش ہوئیں جہاں ان کے وکیل نے تفتیشی رپورٹ اور ملزمان کو کلیئر کرنے کے عمل پر شدید اعتراض اٹھایا۔ ان کا مؤقف تھا کہ تفتیش تبدیل کرنے سے قبل مدعیہ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور این سی سی آئی اے نے یہ اقدام مدعیہ کو بتائے بغیر اٹھایا۔ وکیل کے مطابق نئے تفتیشی افسر نے مکمل تحقیقات کیے بغیر ہی ملزمان کو کلیئر کر دیا جو تفتیشی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔
رمشا اقبال کا مؤقف: ’این سی سی آئی اے نے بیان تبدیل کر لیا‘
مومنہ اقبال نے الزام لگایا کہ این سی سی آئی اے نے ملی بھگت کے تحت تفتیش کا رخ تبدیل کیا (فوٹو: انسٹاگرام)
عدالتی کارروائی کے بعد مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سماعت پر این سی سی آئی اے کے افسر نے خود عدالت کو بتایا تھا کہ ثاقب چدھڑ کی گرفتاری درکار ہے، لیکن آج ایجنسی نے اپنا بیان یکسر تبدیل کر لیا جس پر انہیں سخت حیرت ہوئی۔ رمشا اقبال کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔
مومنہ اقبال کا عدالت کے باہر ردعمل
عدالت سے باہر آ کر مومنہ اقبال نے صحافیوں سے تفصیلی گفتگو کی جس میں وہ جذباتی دکھائی دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت پاکستان کی تمام بیٹیوں کی ترجمانی کر رہی ہیں اور یہ کہ ایسے معاملات میں لڑکیوں کی عزتوں سے کھیلا جاتا ہے جبکہ ان کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
مومنہ اقبال نے الزام لگایا کہ این سی سی آئی اے نے ملی بھگت کے تحت تفتیش کا رخ تبدیل کیا اور انہیں اس تبدیلی سے آگاہ کیے بغیر محض ایک خط تھما دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ثاقب چدھڑ سے متعلق تمام شواہد سوشل میڈیا پر عام کریں گی جن میں ان کے بقول یہ بھی شامل ہے کہ ملزم نے کتنے افراد کے گردے فروخت کیے، تاہم اس نوعیت کے الزام کی تاحال کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
اداکارہ نے واضح کیا کہ وہ اب خاموش نہیں بیٹھیں گی اور ثاقب چدھڑ کے خلاف ہر قانونی و عوامی فورم پر آواز اٹھائیں گی۔ ان کے بقول انہیں اس دوران صلح کی پیشکش بھی ہوئی اور کچھ حلقوں کی جانب سے یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ چونکہ اب ان کی شادی ہو چکی ہے اس لیے وہ معاملہ چھوڑ دیں، لیکن انہوں نے کسی قسم کی صلح سے انکار کر دیا۔
کیس کا پس منظر
مقدمہ درج ہونے کے فوراً بعد ثاقب چدھڑ نے عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کر لی تھی (فوٹو: اردو نیوز)
یہ تنازع رواں سال مئی میں اس وقت سامنے آیا جب مومنہ اقبال نے سوشل میڈیا پر الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والا ایک رکن اسمبلی انہیں طویل عرصے سے ہراساں کر رہا ہے۔ اس کے بعد این سی سی آئی اے میں باضابطہ شکایت درج کروائی گئی جس پر ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ سمیرا اور نامعلوم ساتھیوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت سائبر ہراسانی، بلیک میلنگ، غیر قانونی نگرانی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق الزام تھا کہ شادی کی تجویز مسترد ہونے پر نجی ویڈیوز لیک کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
مقدمہ درج ہونے کے فوراً بعد ثاقب چدھڑ نے عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کر لی تھی جس میں کئی بار توسیع ہوتی رہی۔ 28 جولائی کی سماعت میں تفتیشی افسر نجم باجوہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور وہ اس میں قصوروار پائے گئے ہیں جس پر عدالت نے حتمی دلائل کے لیے سماعت تین ستمبر تک ملتوی کر دی تھی۔ تاہم درمیانی عرصے میں این سی سی آئی اے نے تفتیش کا رخ بدل کر نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جس کی رپورٹ کی بنیاد پر آج ملزمان کو بے قصور قرار دیا گیا۔
یاد رہے کہ ثاقب چدھڑ نے جوابی کارروائی میں مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال کے خلاف امانت میں خیانت کا الگ مقدمہ بھی درج کروا رکھا ہے جس کی سماعت 14 ستمبر کو ہونی ہے۔