Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب پر حوثی حملوں میں 73 افراد زخمی: حکام

میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ مملکت حوثیوں کے خلاف ضروری عملی اقدامات کرے گی (فوٹو: اے ایف پی)
اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ حوثی حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کے مختلف شہروں میں خواتین اور بچوں سمیت 70 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
منگل کو ایک بیان میں میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ مملکت حوثیوں کے خلاف ضروری عملی اقدامات کرے گی۔
میجر جنرل ترکی المالکی نے حوثیوں کی بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی سرزمین اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو ’خطرناک‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات حوثی گروپ کے دشمنانہ اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔
میجر جنرل المالکی نے کہا کہ حوثی ملیشیا کے حالیہ حملوں میں ابھا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کے شہروں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوئے۔
انہوں نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ جان بوجھ کر سعودی عرب کے قومی بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے ان حملوں کو مملکت کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور اس کے شہریوں اور رہائشیوں کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا۔
مالکی نے کہا کہ اتحادی افواج حوثیوں کو روکنے اور ان کے اس طرزِ عمل کا مقابلہ کرنے کے لیے جسے انہوں نے جارحانہ قرار دیا، تمام ضروری عملی اقدامات کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ ’خطرے کے ذرائع کے خلاف کارروائی کرنے اور ان سے لاحق خطرے کو بے اثر کرنے کے لیے ضروری اقدامات اور طریقۂ کار بھی اختیار کیے جائیں گے۔‘
سعودی وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ جنوبی علاقے میں توانائی کی متعدد تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور بعض تنصیبات میں کچھ آپریشنز کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔
وزارت کے مطابق متعلقہ حکام کی جانب سے متاثر ہونے والی تنصیبات کی بحالی اور صورت حال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت اپنی سرزمین اور وسائل پر کوئی حملہ برداشت نہیں کرے گی اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا قانونی حق رکھتی ہے۔
وزارت کی جانب سے حوثی ملیشیا پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی کشیدگی اور بحری سلامتی کے لیے خطرات پیدا کرنے سے باز رہے۔
وزارت کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔

شیئر: