Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریت سے بننے والا نایاب صحرائی گلاب، ’قدرت کا قیمتی خزانہ اور فنی شاہکار‘

گلاب کا رنگ عام طور پر صحرا کی ریت جیسا ہوتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
گلاب اور پھول صرف باغات، سبزہ زاروں یا چھتوں پر ہی نہیں پائے جاتے۔ گلاب کی ایک قدرتی قسم بھی ہے اور اسے قدرت کے عجائبات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
ریت کے ذرات سے بنی پیچیدہ ساخت ایک پھول کی طرح دکھائی دیتی ہے اسی لیے اسے ’سینڈ روز‘ یا صحرائی گلاب کا نام دیا گیا ہے۔
یہ ساختیں شدید گرمی، خشک سالی اور پانی کے بخارات کے نتیجے میں کئی دہائیوں کے دوران اپنی یہ حیرت انگیز شکل اختیار کرتی ہیں۔
یہ صحرا میں پائے جانے والے جپسم، کیلشیئم، سلفیٹ، نمکیات اور دیگر معدنیات کے ذرات سے قدرتی طور پر بنتا ہے۔
یہ ذرات آپس میں جڑ کر سخت ہو جاتے ہیں جس سے چمکدار کرسٹل جیسی شکلیں اور گلاب کی مانند پنکھڑیاں بن جاتی ہیں۔ اپنی سختی اور مضبوطی کے باوجود ریت کے یہ گلاب ٹوٹ کر بکھر بھی سکتے ہیں۔
صحرائی گلاب ایک سخت قدرتی معدنی تشکیل ہے جو ریت کے ٹیلوں کے نیچے موجود نمکین پانی کی سطح پر مختلف اشکال اور سائز اختیار کرتی ہے۔

سب سے نمایاں گلاب کی شکل کا رنگ عموماً صحرا کی ریت جیسا ہوتا ہے۔ اسے ایک فنی شاہکار اور قدرت کا قیمتی خزانہ سمجھا جاتا ہے۔
صحرائی گلاب کو کئی ناموں جنگلی گلاب، صحرائی گلاب، صحرائی پھول اور صحرائی کرسٹل سے جانا جاتا ہے لیکن پودوں سمیت دیگر حیاتیات کے برعکس یہ نہ تو بڑھتے ہیں اور نہ سانس لیتے ہیں۔

 

شیئر: