Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل کے لبنان میں عام شہریوں پر حملے، 27 افراد ہلاک اور 69 زخمی

رپورٹ کے مطابق مرنے والوں اور زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل کی جانب سے لبنان میں عام شہریوں کے خلاف تین روزہ کارروائیوں میں 27 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر خواتین، بچے اور طبی عملے کے اہلکار تھے جبکہ 69 زخمی ہوئے۔
عرب نیوز کے مطابق فضائی حملوں کی وجہ سے نبطیہ خصوصاً علی الطاہر میں ایسی صورت حال بنی جس کو مقامی لوگوں نے ’آگ کا دائرہ‘ قرار دیا ہے۔   
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق علی الطاہر کے شمال میں دریائے لیطانی کے قریب گنجان آباد قصبے کفر رمان کے ایک رہائشی مکان پر فضائی حملے سے 12 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے جن میں دو بچے اور چار خواتین شامل تھیں۔
زخمیوں میں تین بچے اور ایک طبی کارکن بھی شامل تھا جب بعدازاں اسی قصبے میں ایک گاڑی پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا۔
اتوار کو اسرائیل نے عرب سلیم، کفر رمان، نبطیہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میفدون، الکفور اور الرمادیہ کو نشانہ بنایا جن میں 11 افراد ہلاک اور 26 زخمی ہوئے۔
یہ حملے جمعے کی شب سے سنیچر تک ہونے والے حملوں کے ایک سلسلے کے بعد کیے گئے تھے جبکہ اس سے قبل ہونے والے حملوں میں چار افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
لبنان کے وزیر محنت محمد حیدر کی جانب سے وزارت کی ایک کارکن حبہ علی صباح کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وہ پیر کی صبح اپنے شوہر اور بیٹی کے ہمراہ اس وقت ہلاک ہوئی تھیں جب کفر رمان کے علاقے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔

 


حملوں میں وزارت محنت کی ایک کارکن حبہ علی صباح بھی شوہر اور بیٹی کے ہمراہ جان سے گئیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

محمد حیدر کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ان کے شوہر کا بھائی، ان کی اہلیہ اور سسر بھی جان سے گئے۔
ان کے مطابق ’یہ لبنانی شہریوں کے خلاف اسرائیلی جرائم کی فہرست میں ایک اور اضافہ ہے اور رہائشی علاقوں پر ہونے والے حملوں کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔‘
پیر کو جنوبی لبنان میں اس وقت زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جب اسرائیل نے ساحلی علاقے المنصوری اور حولا کو نشانہ بنایا جس سے کئی مکانات تباہ ہو گئے۔
اتوار اور پیر کی درمیانی شب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے علاقے دیر الزہرانی میں ایک عمارت کو خالی کرنے کی وارننگ جاری کی اور قریباً 22 منٹ بعد اسے تباہ کر دیا گیا۔
اسرائیل کی جانب سے نازک جنگ بندی کی ان تازہ خلاف ورزیوں کے بعد نبطیہ اور دیگر علاقوں سے ایک بار پھر لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

اسرائیلی فوجی جنوبی لبنان میں داخلے کی تیاری کے دوران شمالی اسرائیل کے علاقے میں سڑک پر گشت کرتے ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)

اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ کا کہنا ہے کہ ’یہ کارروائیاں دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کے جواب میں کی گئی ہیں۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’حزب اللہ نے اسرائیلی فوج کے اہلکاروں کی طرف دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون بھیجے جس کے بعد فوج نے تنظیم کے خلاف کارروائی کی۔‘
اس سے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت قبل اسرائیلی فوج نے نبطیہ میں وزارت خزانہ کی عمارت اور غیندور ہسپتال کو نشانہ بنایا تھا۔
وزیر محنت محمد حیدر نے اس کو ’تمام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا اور انہوں نے ’عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جرائم اور حملوں کو روکنے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کریں۔

شیئر: