Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل کا یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم، ٹرمپ پابندیوں کی مخالفت سے گریزاں

وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو جبراً بے دخل کیا جا رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کو کہا ہے کہ وہ اسے بند کر دے اور وہاں تعینات سفارتکاروں کی ملک میں رہنے کی مہلت 30 دن کے اندر ختم کر دی جائے گی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق معاملے سے واقف اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل میں امریکی قیادت والے غزہ رابطہ مشن پر تعینات برطانوی نمائندوں کے ساتھ ساتھ رام اللہ میں موجود برطانوی سفارتکاروں کو سات دن کے اندر ملک چھوڑنا ہوگا۔
ایکسيوس کے رپورٹر باراک راویڈ کے مطابق امریکی حکام اور مغربی سفارتکاروں کے حوالے سے کہا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے برطانیہ کی قیادت والے اقدام کی مخالفت نہیں کی۔ راویڈ نے مزید کہا کہ وائٹ ہاؤس کا برطانیہ کے اقدام پر اعتراض نہ کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ مغربی کنارے میں نیتن یاہو حکومت کی پالیسی سے مایوس ہے۔
اس سے قبل اسرائیل کے وزیرِ خزانہ بیزالیل سموترچ نے برطانیہ کے سفیر سائمن والٹرز کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا، کیونکہ برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر پابندیاں عائد کرے گا۔
عرب نیوز کے مطابق سموترچ نے برطانیہ کے متوقع فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اسرائیل برطانیہ کی ’یہودی مخالف‘ حکومت کے لیے ’پاؤں کی دھول‘ نہیں بنے گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ’برطانوی سفیر کو آج رات ہی ملک بدر کریں! ہم ایک یہودی مخالف حکومت کے پاؤں تلے روندے جانے والی دھول نہیں ہیں، ایک ایسے ملک میں جو انتہا پسند اسلام کے قبضے میں ہے اور جو معاشی و سماجی زوال سے بچنے کے لیے یہودیوں اور اسرائیل پر حملہ کر رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل کی سرزمین پر برطانوی مینڈیٹ ختم ہو چکا ہے۔‘
منگل کو برطانوی حکومت نے مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں پر پابندیاں عائد کیں جس سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات شدید متاثر ہوئے ہیں۔

وزیرِ خزانہ بیزلیل سموترچ نے کہا کہ اسرائیل کسی ’اسلامی شدت پسندی سے متاثرہ ملک‘ کے دباؤ میں نہیں آئے گا (فوٹو: اے ایف پی)

 یہ اقدام فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ایک سال بعد سامنے آیا۔ برطانیہ نے اسرائیل کو اسلحہ برآمد کرنے پر سخت پابندیاں لگائیں، بستیوں سے آنے والی اشیا پر مکمل پابندی عائد کی اور تعمیرات، مالیات، انفراسٹرکچر، رئیل اسٹیٹ اور اشتہارات جیسی خدمات پر بھی روک لگا دی۔
وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو جبراً بے دخل کیا جا رہا ہے ہے اور اسرائیلی حکومت اکثر اس پر آنکھیں بند کر لیتی ہے۔
کینیڈا اور فرانس سمیت کئی یورپی ممالک نے بھی بستیوں کے خلاف اسی نوعیت کی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا۔ اسرائیل نے برطانیہ کو ’یہودی مخالف‘ قرار دیا۔
وزیرِ خزانہ بیزلیل سموترچ نے کہا کہ اسرائیل کسی ’اسلامی شدت پسندی سے متاثرہ ملک‘ کے دباؤ میں نہیں آئے گا۔ وزیرِ خارجہ گدعون سار نے اعلان کیا کہ اسرائیل برطانوی قونصلیٹ یروشلم میں بند کرے گا، فلسطینی اتھارٹی کی تربیت میں برطانیہ کا کردار ختم کرے گا اور 12 برطانوی سیاستدانوں کو اسرائیل میں داخلے سے روک دے گا۔
برطانیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور دو ریاستی حل کی حمایت کو عملی شکل دیتا ہے۔ فلسطینی سفیر حسام زملوط نے اس فیصلے کو ’بہت دیر سے لیا گیا مگر تاریخی‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ برطانیہ کے فلسطین کے ساتھ تعلقات میں ایک ’ٹرننگ پوائنٹ‘ ہے۔

یہ اقدام برطانیہ کی پالیسی میں ایک بڑے موڑ کی نشاندہی کرتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

یوگوو پول کے مطابق 50 فیصد برطانوی عوام بستیوں پر پابندی کے حق میں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام برطانیہ کی پالیسی میں ایک ’ری سیٹ‘ ہے، جو بین الاقوامی قانون اور فلسطینی ریاست کے حق میں عملی قدم ہے۔ برطانیہ کے سابق قونصل جنرل سر ونسنٹ فیان نے کہا کہ ’یہ ضروری اقدام ہے کیونکہ کوئی امن عمل آگے نہیں بڑھ رہا اور غزہ میں نسل کشی، مغربی کنارے میں جبری بے دخلی اور بستیوں کی غیر قانونی توسیع جاری ہے۔‘
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف برطانیہ اور اسرائیل کے تعلقات میں کشیدگی بڑھا رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بستیوں کے خلاف ایک متحدہ موقف کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ برطانیہ کا مقصد یہ ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بعد بستیوں کے خلاف عملی اقدامات کر کے دو ریاستی حل کو تقویت دی جائے۔
یہ اقدام برطانیہ کی پالیسی میں ایک بڑے موڑ کی نشاندہی کرتا ہے، جسے ماہرین ’ری سیٹ‘ قرار دے رہے ہیں۔ اس کا مقصد اسرائیلی بستیوں کے خلاف عملی دباؤ ڈالنا اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے زمینی حقائق کو مضبوط کرنا ہے۔

 

شیئر: