Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

برطانیہ پر ’یہودی مخالف‘ ہونے کا الزام، اسرائیل کا قونصلیٹ بند کرنے کا مطالبہ

وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو جبراً بے دخل کیا جا رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
برطانوی حکومت نے مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں پر پابندیاں عائد کر دیں ہیں جس سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات شدید متاثر ہوئے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق یہ اقدام فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ایک سال بعد سامنے آیا۔ برطانیہ نے اسرائیل کو اسلحہ برآمد کرنے پر سخت پابندیاں لگائیں، بستیوں سے آنے والی اشیا پر مکمل پابندی عائد کی اور تعمیرات، مالیات، انفراسٹرکچر، رئیل اسٹیٹ اور اشتہارات جیسی خدمات پر بھی روک لگا دی۔
وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو جبراً بے دخل کیا جا رہا ہے ہے اور اسرائیلی حکومت اکثر اس پر آنکھیں بند کر لیتی ہے۔
کینیڈا اور فرانس سمیت کئی یورپی ممالک نے بھی بستیوں کے خلاف اسی نوعیت کی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا۔ اسرائیل نے برطانیہ کو ’یہودی مخالف‘ قرار دیا۔
وزیرِ خزانہ بیزلیل سموترچ نے کہا کہ اسرائیل کسی ’اسلامی شدت پسندی سے متاثرہ ملک‘ کے دباؤ میں نہیں آئے گا۔ وزیرِ خارجہ گدعون سار نے اعلان کیا کہ اسرائیل برطانوی قونصلیٹ یروشلم میں بند کرے گا، فلسطینی اتھارٹی کی تربیت میں برطانیہ کا کردار ختم کرے گا اور 12 برطانوی سیاستدانوں کو اسرائیل میں داخلے سے روک دے گا۔
برطانیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور دو ریاستی حل کی حمایت کو عملی شکل دیتا ہے۔ فلسطینی سفیر حسام زملوط نے اس فیصلے کو ’بہت دیر سے لیا گیا مگر تاریخی‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ برطانیہ کے فلسطین کے ساتھ تعلقات میں ایک ’ٹرننگ پوائنٹ‘ ہے۔

یہ اقدام برطانیہ کی پالیسی میں ایک بڑے موڑ کی نشاندہی کرتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

یوگوو پول کے مطابق 50 فیصد برطانوی عوام بستیوں پر پابندی کے حق میں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام برطانیہ کی پالیسی میں ایک ’ری سیٹ‘ ہے، جو بین الاقوامی قانون اور فلسطینی ریاست کے حق میں عملی قدم ہے۔ برطانیہ کے سابق قونصل جنرل سر ونسنٹ فیان نے کہا کہ ’یہ ضروری اقدام ہے کیونکہ کوئی امن عمل آگے نہیں بڑھ رہا اور غزہ میں نسل کشی، مغربی کنارے میں جبری بے دخلی اور بستیوں کی غیر قانونی توسیع جاری ہے۔‘
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف برطانیہ اور اسرائیل کے تعلقات میں کشیدگی بڑھا رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بستیوں کے خلاف ایک متحدہ موقف کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ برطانیہ کا مقصد یہ ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بعد بستیوں کے خلاف عملی اقدامات کر کے دو ریاستی حل کو تقویت دی جائے۔
یہ اقدام برطانیہ کی پالیسی میں ایک بڑے موڑ کی نشاندہی کرتا ہے، جسے ماہرین ’ری سیٹ‘ قرار دے رہے ہیں۔ اس کا مقصد اسرائیلی بستیوں کے خلاف عملی دباؤ ڈالنا اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے زمینی حقائق کو مضبوط کرنا ہے۔

 

شیئر: