Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غیر قانونی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد پر پابندی، اسرائیل کا برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ برطانیہ اب ناانصافی اور انسانی تکالیف کی صرف ’نشاندہی‘ کرکے خاموش نہیں رہ سکتا (فوٹو: اے بی سی نیوز)
برطانیہ نے منگل کے روز فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں میں تیار کی جانے والی اشیا پر تجارتی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اسرائیل کے خلاف عائد کی جانے والی تازہ ترین پابندی ہے، جو ایک ایسے وقت پر عائد کی گئی ہے جب اسرائیل کو بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانیہ اب ناانصافی اور انسانی تکالیف کی صرف ’نشاندہی‘ کرکے خاموش نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے ایوانِ زیریں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’برطانیہ کو اب یہودی بستیوں کی توسیع کی مخالفت کے لیے ’عملی اقدامات‘ کرنا ہوں گے۔‘
ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ’آج ہم مزید تکالیف اور دو ریاستی حل کی تباہی کے محض تماشائی بننے سے انکار کرتے ہیں۔‘ وہ دو ریاستی حل کے لیے برطانیہ کی طویل عرصے سے جاری حمایت کا حوالہ دے رہے تھے، جس کی اسرائیل مخالفت کرتا رہا ہے۔
امریکہ اسرائیل میں تعینات اپنے سفیر کے ذریعے برطانیہ کی نئی پابندیوں پر پہلے ہی تنقید کر چکا ہے، جبکہ اسرائیل کے دو وزرا نے برطانیہ کے خلاف اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جولائی میں برطانوی وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے والے ایڈ ملی بینڈ نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ کا مؤقف ہے کہ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضہ غیر قانونی ہے اور لندن کا خیال ہے کہ مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں فلسطینیوں کی نسلی صفائی کی جا رہی ہے۔
سالانہ 6 ارب پاؤنڈ (8.12 ارب ڈالر) کی دو طرفہ تجارت پر اس پابندی کے اثرات غالباً معمولی ہوں گے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ برطانیہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا اور اسرائیل میں تیار ہونے والی مصنوعات میں کس طرح فرق کرے گا۔
اسرائیل کا ردِعمل
اسرائیل نے منگل کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد پر برطانیہ کی جانب سے مغربی ممالک کی پابندیوں کی قیادت کیے جانے کے جواب میں یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسرائیل نے کہا کہ وہ غزہ میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی منصوبے کی نگرانی کرنے والے ایک مرکز میں تعینات برطانوی سفارت کاروں کو بھی ملک سے نکال دے گا۔ اس کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کی فورسز کے لیے برطانیہ کی جانب سے دی جانے والی تربیت پر پابندی عائد کی جائے گی اور 12 برطانوی حکام کے اسرائیل میں داخلے پر بھی پابندی عائد ہوگی۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے کہا کہ ’برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے جب مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں پر ’نسل صفائی‘ کا الزام عائد کیا تو برطانوی پارلیمان میں ان کے بیان کردہ الزامات ’اشتعال انگیز جھوٹ‘ پر مبنی تھے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’برطانیہ کا یہ اقدام اخلاقی طور پر گمراہ کن ہے اور ایک خودمختار ریاست کے معاملات اور اس کے انتخابی عمل میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے۔‘
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 27 اکتوبر کو ہونے والے کانٹے دار متوقع انتخابات میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے قیام کی حمایت کر رہے ہیں۔

برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے غیرقانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار کی جانے والی اشیا پر تجارتی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

گیڈون سار نے کہا کہ اسرائیل برطانوی قونصل خانہ بند کر رہا ہے جو مشرقی یروشلم میں واقع ہے۔ مشرقی یروشلم تاریخی طور پر فلسطینی علاقے کا حصہ ہے جس پر اسرائیل نے 1967 کی چھ روزہ جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔
اسرائیل یروشلم کو اپنا غیر تقسیم شدہ حصہ قرار دیتا ہے، تاہم عالمی سطح پر اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ البتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ سمیت چند ممالک اس مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔
گیڈون سار نے کہا کہ ’متحدہ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے اور اس پر مکمل اسرائیلی خودمختاری ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس علاقے میں کسی بھی غیر ملکی سرگرمی کو منظور شدہ اور متفقہ ذرائع کے ذریعے انجام دیا جانا چاہیے اور اسرائیل کی خودمختاری کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔‘
اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے تل ابیب میں تعینات برطانوی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے نیتن یاہو سے مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے بھی برطانیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ اکتوبر کے آخر میں ہونے والے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کر رہا ہے۔

شیئر: