Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وزیراعظم شہباز شریف کی حوثی حملوں کی مذمت، سعودی قیادت سے اظہارِ یکجہتی

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں سعودی عرب میں حوثیوں کے بزدلانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں (فوٹو: اے پی پی)
وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز سعودی عرب میں شہری اور توانائی کی تنصیبات پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جن میں 70 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے خلیج میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے مزید پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر سعودی عرب کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا، جو یمن کے دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے متعدد گنجان آباد علاقوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 شہری زخمی ہوئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’میں سعودی عرب میں شہری اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے بزدلانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی عرب کے برادر عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘
یہ حملے بظاہر فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد سعودی عرب پر حوثیوں کے سب سے سنگین حملوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اس صورتِ حال کو ’خطرناک‘ قرار دیا اور کہا کہ اتحادی افواج حوثیوں کو روکنے اور اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کریں گی۔
سعودی عرب ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والے عرب اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس تنازع کی شدت میں کمی آئی تھی، تاہم بعد میں جنگ بندی ختم ہوگئی۔ دوسری جانب حوثیوں نے خطے میں وسیع تر جنگ کے شدت اختیار کرنے کے ساتھ ہی بحیرۂ احمر کے اطراف میں تجارتی جہاز رانی کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی ہیں۔
تازہ حملوں نے مشرق وسطیٰ سے توانائی کی ترسیل میں مزید خلل کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری لڑائی پہلے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھا چکی ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری تجارت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

سعودی عرب ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والے عرب اتحاد کی قیادت کر رہا ہے (فائل فوٹو: اے پی)

سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت اپنی سرزمین اور وسائل پر حملوں کو برداشت نہیں کرے گی اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ رکھنے والا پاکستان مملکت کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’اس طرح کے بزدلانہ حملے بے گناہ انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ خطے کے امن اور سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔‘

شیئر: