’بھائی اور والد ملوث‘، ٹریفک حادثے میں لڑکی کی موت غیرت کے نام پر قتل نکلی
پولیس کے مطابق 22 سالہ صوفیہ کو ویران مقام پر لے جا کے ہتھوڑے سے قتل کیا گیا (فوٹو: انڈین میڈیا)
انڈیا میں بظاہر سڑک کے حادثے میں جان جانے والی 22 سالہ لڑکی کی موت مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل نکلی جو والد اور بھائی نے مل کر کیا۔
دی ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق واقعہ ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے علاقے سرکھیج میں پیش آیا۔ قریباً تین ماہ قبل 22 سالہ صوفیہ فاروق کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں ان کے ساتھ ایک لڑکا دکھائی دیا تھا۔
پولیس کہنا ہے کہ واقعے کے ملزموں کی شناخت 56 سالہ فاروق نواب خان اور 38 سالہ حبیل فاروق کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ دونوں فیبریکیشن کے کام سے وابستہ ہیں۔
پولیس کے مطابق وہ صوفیہ کو سرکھیج کے علاقے گھلیجی کے ایک ویران مقام پر لے گئے اور پھر ہتھوڑے سے حملہ کر دیا جبکہ بعدازاں واقعے کو روڈ ایکسیڈنٹ کا رنگ دے دیا۔
صوفیہ فاروق جوہاپورہ کے ایک ہسپتال میں ریسپشنسٹ کے طور پر کام کرتی تھیں۔
ابتدائی طور پر اس واقعے کو ہِٹ اینڈ رن کیس سمجھا گیا کیونکہ اس کے رشتہ داروں نے پولیس کو بتایا تھا کہ صوفیہ اپنے بھائی حبیل کے ساتھ موٹر سائیکل پر جا رہی تھی کہ سمرود ڈیری کے قریب ایک نامعلوم نے پیچھے سے ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں صوفیہ کے سر کے پچھلے حصے اور ٹانگوں پر شدید چوٹیں آئیں ان کو ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ان کو مردہ قرار دیا گیا۔
پولیس انسپکٹر یو بی دھاکاڈا کے مطابق واقعے کے بعد پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حادثے کی کہانی گھڑی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ بہانے سے صوفیہ کو لے جایا گیا اور اس وقت حبیبل نے اپنی پتلون میں ہتھوڑا چھپا رکھا تھا۔
یو بی دھاکاڈا نے یہ بھی بتایا کہ قریباً تین ماہ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں صوفیہ ایک لڑکے کے ساتھ دکھائی دی تھی، جس پر والد اور بھائی نے ڈانٹا تھا اور لڑکوں کے ساتھ بات چیت پر اعتراض کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ویران مقام پر پہنچنے کے بعد حبیل نے خاتون کے سر پر ہتھوڑے سے وار کیے جبکہ والد فاروق نے اس کی مدد کی۔