امریکہ کے کسی ہوائی اڈے سے کمرشل پرواز پر سفر کرنے کے لیے عام طور پر مسافر کے پاس بورڈنگ پاس کا ہونا ضروری ہوتا ہے، اور تب ہی وہ گیٹ کے قریب جا سکتا ہے۔ بعد ازاں وفاقی حکومت کے زیرِ نگرانی سکیورٹی چیکنگ سے گزرنا پڑتا ہے اور ہینڈ لگیج میں موجود اشیا پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔
لیکن ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ ایک وقت تھا جب مسافر ایسے سکیورٹی چیک پوائنٹس سے گزرتے تھے جہاں ایئرلائنز کی جانب سے منتخب کیے گئے نجی کنٹریکٹرز تعینات ہوتے تھے۔ شیمپو کی بڑی بوتلیں یا شیونگ کریم کے کین مائع اشیا کی مقررہ حد سے زیادہ ہونے کی وجہ سے ضبط نہیں کیے جاتے تھے۔
دوست اور اہلِ خانہ روانہ ہونے والے مسافروں کو رُخصت کرنے کے لیے اُن کے ساتھ بورڈنگ گیٹ تک جا سکتے تھے اور پرواز کے وقت گلے مل کر الوداع بھی کہہ سکتے تھے۔
مزید پڑھیں
-
طیارہ ہائی جیکنگ: جنرل ضیا کی سازش یا الذوالفقار کا انتقام؟Node ID: 545066
آج فضائی مسافروں کو جس سکیورٹی نظام اور تلاشی کے طریقۂ کار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ وقت کے ساتھ بتدریج تشکیل پایا ہے۔ اس نظام میں کسی حملے یا حملے کی کوشش کے بعد جب سکیورٹی کی کوئی نئی کمزوری سامنے آئی تو تبدیلی کی گئی، یہ کمزوری کبھی سامان میں چھپائے گئے بم کی صورت میں اور کبھی ایسے ہائی جیکرز کی شکل میں ظاہر ہوئی جنہوں نے طیاروں کو ہی ہتھیار میں بدل ڈالا۔
ایوی ایشن ڈیزاسٹر کی وکیل میری شیاوو کے مطابق، ہوا بازی پر ہونے والے حملوں کا اثر کسی بھی دوسری چیز پر ہونے والے حملوں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ دنیا کی توجہ فضائی سفر پر ہوتی ہے، جو پوری دنیا کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔
11 ستمبر کے دہشت گرد حملوں کی 25 ویں برسی قریب آنے کے موقع پر یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ ان حملوں، اس سے پہلے پین ایم فلائٹ 103 پر ہونے والے بم دھماکے اور بعد میں منظرِعام پر آنے والی دہشت گردی کی سازشوں نے ایئرلائنز اور ہوائی اڈوں کی سکیورٹی کو کس طرح تبدیل کیا؟
نائن الیون کے بعد طیاروں کے اغوا کا خطرہ
11 ستمبر 2001 سے زیادہ کسی ایک دن نے فضائی سفر کو تبدیل نہیں کیا۔ اس روز القاعدہ کے 19 ہائی جیکرز نے چار کمرشل طیاروں کو اغوا کیا۔ دو طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا گئے، ایک پینٹاگون سے جا ٹکرایا جبکہ چوتھا پنسلوانیا کے ایک کھیت میں گر کر تباہ ہوا۔

میری شیاوو 1990 سے 1996 تک امریکی محکمۂ ٹرانسپورٹیشن کی انسپکٹر جنرل رہ چکی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ’نائن الیون سے قبل حکام یہ سمجھتے تھے کہ طیارے اغوا کرنے والے افراد اپنے مطالبات منوانے کے لیے مذاکرات کریں گے، اور جان بوجھ کر طیارے کو حملے کی حکمتِ عملی کے طور پر تباہ نہیں کریں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اُس وقت عمومی طور پر توجہ خودکش حملہ آوروں پر نہیں تھی۔‘
امریکہ کی وفاقی ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے فوری طور پر ہوائی اڈوں پر گیٹس تک رسائی صرف ٹکٹ رکھنے والے مسافروں تک محدود کر دی اور ہاتھ کے سامان میں چھریاں اور باکس کٹر رکھنے پر پابندی عائد کر دی۔ نائن الیون کے ہائی جیکرز نے مسافروں کو دھمکانے، عملے کے ارکان پر حملہ کرنے اور طیاروں کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے چھوٹی چھریوں کا استعمال کیا تھا۔
امریکی کانگریس نے ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی ایڈمنسٹریشن، یعنی ٹی ایس اے قائم کی اور مسافروں، سامان اور دیگر کارگو کی سکیورٹی جانچ کی ذمہ داری وفاقی حکومت کے ملازمین کو منتقل کر دی گئی۔ نومبر 2001 میں منظور ہونے والے ایک قانون کے تحت کاک پٹ کے دروازوں کو مضبوط بنانا، پروازوں میں مزید وفاقی ایئر مارشلز تعینات کرنا اور تمام چیک اِن کیے گئے سامان کو دھماکا خیز مواد کے خدشے کے پیشِ نظر اُس کا سکین کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا۔
سکاٹ لینڈ: طیارے میں بم دھماکے کے بعد نئی پاپندیاں
نائن الیون سے تقریباً 13 سال قبل سکاٹ لینڈ کے علاقے لاکربی کے اوپر 31 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے ایک امریکی ایئرلائن کے جمبو جیٹ میں بم دھماکا ہوا اور طیارہ تباہ ہو گیا۔ اس واقعے میں طیارے میں سوار تمام 259 افراد اور زمین پر موجود 11 افراد ہلاک ہوئے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ دھماکا خیز مواد ایک ریڈیو-کیسٹ پلیئر میں چھپایا گیا تھا، جو ایک ایسے سوٹ کیس کے اندر رکھا گیا تھا جسے مالٹا میں چیک اِن کیا گیا تھا۔ بعد ازاں یہ سوٹ کیس پین ایم فلائٹ 103 میں منتقل کر دیا گیا، جبکہ اس سامان کے ساتھ سفر کرنے والا کوئی مسافر بھی موجود نہیں تھا۔
21 دسمبر 1988 کو لندن سے نیویارک جانے والی پرواز پر ہونے والے حملے نے فضائی سکیورٹی میں ایسی بڑی تبدیلیوں کی بنیاد رکھی جو 1970 کی دہائی کے اوائل کے بعد سب سے اہم قرار دی جاتی ہیں۔

اس حملے کے بعد ایف اے اے نے یورپ اور مشرق وسطیٰ کے ہوائی اڈوں پر کام کرنے والی امریکی ایئرلائنز کو حکم دیا کہ وہ تمام چیک اِن کیے گئے سامان کو سکین کریں یا کھول کر چیک کریں، اضافی اور اچانک تلاشی لیں اور اس بات کی تصدیق کریں کہ چیک اِن کیا گیا سامان اسی مسافر کا ہے جو پرواز میں سوار ہونے والا ہے۔
جب جوتے اور مشروبات کی بوتلیں بھی سکیورٹی کا مسئلہ بن گئیں
نائن الیون حملوں کے تین ماہ اور 11 دن بعد رچرڈ ریڈ نے پیرس سے میامی جانے والی امریکن ایئرلائنز کی فلائٹ 63 میں سوار ہوتے وقت اپنے جوتوں میں دھماکا خیز مواد چھپا رکھا تھا۔ برطانوی شہری نے دورانِ پرواز اس دھماکا خیز مواد کو آگ لگانے کی کوشش کی، لیکن فیوز جلانے میں کامیاب نہ ہو سکا، اس دوران دیگر مسافروں اور عملے کے ارکان نے اسے قابو کر لیا۔
22 دسمبر 2001 کے اس واقعے کے بعد ٹی ایس اے اور ایئرلائنز نے مسافروں سے سکیورٹی چیکنگ کے دوران رضاکارانہ طور پر جوتے اتارنے کی درخواست کی۔ پانچ سال سے بھی کم عرصے بعد جوتے اُتارنا لازمی قرار دے دیا گیا۔
یہ تبدیلیاں اُس وقت سامنے آئیں جب برطانوی حکام نے اس دوران یہ اعلان کیا کہ انہوں نے ایک ایسی سازش ناکام بنا دی ہے جس میں مشروبات کی بوتلوں میں چھپائے گئے مائع دھماکا خیز مواد کے ذریعے بحرِ اوقیانوس کے پار جانے والی سات مسافر پروازوں کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
حکام کے مطابق سازش کرنے والے افراد ان آلات کو طیاروں کے اندر تیار اور دھماکے سے اڑانے کا ارادہ رکھتے تھے اور یہ خودکش حملوں کی صورت میں کیا جانا تھا۔ بالآخر چھ افراد کو اس سازش میں مجرم قرار دیا گیا۔

ٹی ایس اے نے فوری طور پر تقریباً تمام مائع جات، جیلز اور ایروسولز کو سکیورٹی چیکنگ کے بعد مسافروں کے پاس رکھنے پر پابندی عائد کر دی۔ تاہم جلد ہی اس مکمل پابندی کی جگہ’3-1-1‘اصول نافذ کر دیا گیا۔ اس اصول کے تحت مسافر صرف 3.4 اونس یا اس سے کم مقدار والے مائع کے کنٹینرز اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں، اور یہ تمام کنٹینرز ایک کوارٹ گنجائش والے شفاف پلاسٹک بیگ میں رکھنے ضروری ہیں۔
جولائی 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے جوتوں کی وہ سکیورٹی چیکنگ ختم کر دی جس کے باعث مسافروں کو سکیورٹی کے عمل سے گزرتے ہوئے ننگے پاؤں یا صرف جرابوں میں چلنا پڑتا تھا۔
’انڈر ویئر بمبار‘ کے واقعہ کے بعد باڈی سکینرز کی تنصیب
25 دسمبر 2009 کو نارتھ ویسٹ ایئرلائنز کی فلائٹ 253 کا ایک مسافر طیارے کے ڈیٹرائٹ کے قریب پہنچنے کے دوران اپنے زیرِ جامہ میں چھپایا گیا دھماکا خیز مواد پھاڑنے کی کوشش میں تھا۔ ڈیوائس پھٹنے میں ناکام رہی، تاہم اس سے آگ لگ گئی اور مسافر شدید جھلس گیا۔ اس نوجوان عمر فاروق عبدالمطلب نے خود کو القاعدہ کا رُکن بتاتے ہوئے یمن میں تربیت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔ بعد ازاں اس نے طیارہ تباہ کرنے کی کوشش کے جرم کا اعتراف کر لیا۔
اس وقت استعمال ہونے والے روایتی میٹل ڈیٹیکٹرز عبدالمطلب کے کپڑوں کے نیچے چھپے پلاسٹک کے دھماکا خیز مواد کا سراغ نہیں لگا سکتے تھے۔ ٹی ایس اے پہلے ہی امریکہ کے بعض ہوائی اڈوں پر مکمل جسمانی سکین کرنے والے آلات کی آزمائش کر رہا تھا، تاہم اس واقعے نے حکام کو اس ٹیکنالوجی کی تنصیب اور استعمال کا عمل تیز کرنے پر اُبھارا۔













