Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کلسٹر بموں سے 2025 میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک یا زخمی، 87 فیصد عام شہری: رپورٹ

سنہ 2025 میں کلسٹر بموں کے متاثرین میں 87 فیصد عام شہری شامل تھے (فائل فوٹو: روئٹرز)
کلسٹر بموں کے استعمال سے گزشتہ برس یعنی 2025 کے دوران دنیا بھر میں کم از کم ایک ہزار 63 افراد ہلاک یا زخمی ہوئے جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی تھی۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کلسٹر بموں سے متاثر ہونے والے سب سے زیادہ تعداد یوکرین کے شہریوں کی تھی۔
منگل کو کلسٹر میونیشن کولیشن (سی ایم سی) کی جانب سے جاری کی گئی سالانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال نو ممالک میں کلسٹر بموں کے نتیجے میں کم از کم 1,063 افراد ہلاک یا زخمی ہوئے، جو سالانہ بنیادوں پر ریکارڈ کیے گئے بلند ترین اعداد و شمار میں سے ایک ہے۔
رپورٹ کے مطابق روس کی جانب سے فروری 2022 میں یوکرین پر وسیع پیمانے پر حملے کے بعد سے جاری صورتحال کے تناظر میں، یوکرین میں سب سے زیادہ نو سو 27 افراد کلسٹر بموں کا نشانہ بنے، جو مجموعی متاثرین کا 87 فیصد ہیں۔
کلسٹر بموں سے افغانستان، کمبوڈیا، عراق، لاؤس، لبنان، میانمار، روس، شام اور یوکرین میں بھی ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات رپورٹ کیے گئے۔
کلسٹر بم عام طور پر طیاروں سے گرائے جاتے ہیں یا توپ خانے کے ذریعے فائر کیے جاتے ہیں۔ یہ فضا میں پھٹنے کے بعد ایک وسیع علاقے میں بڑی تعداد میں چھوٹے بم یا بارودی مواد پھیلا دیتے ہیں۔
ان ہتھیاروں کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ان میں سے متعدد چھوٹے بم زمین پر گرنے کے باوجود پھٹتے نہیں اور برسوں تک بارودی سرنگوں کی طرح موجود رہ سکتے ہیں، جو بعد میں کسی بھی وقت دھماکے کا سبب بن سکتے ہیں۔
انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے ویپن کنٹیمنیشن یونٹ کے سربراہ ایرک ٹولفسن نے گزشتہ ہفتے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ چھوٹے بم اکثر رنگ برنگے ہوتے ہیں اور خاص طور پر بچوں کے لیے پرکشش ثابت ہو سکتے ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 میں کلسٹر بموں کے متاثرین میں 87 فیصد عام شہری شامل تھے۔
سی ایم سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’گزشتہ سال پانچ ممالک کی جانب سے کلسٹر بموں کے استعمال کی تصدیق ہوئی۔ روس اور یوکرین نے دونوں ممالک کی سرزمین پر ان ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھا، جبکہ میانمار نے ملک کے اندر کلسٹر بم استعمال کیے۔‘
رپورٹ کے مطابق ’ایران نے اسرائیل میں ان ہتھیاروں کا استعمال کیا، جبکہ تھائی لینڈ نے کمبوڈیا کے ساتھ سرحدی تنازع کے دوران کلسٹر بم استعمال کیے۔‘
مزید یہ کہ مالی میں بھی کلسٹر بموں کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم رپورٹ کے مطابق ان کے استعمال میں ملوث عناصر کی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ’کلسٹر بم استعمال کرنے والے ممالک میں سے کوئی بھی سنہ 2008 کے کنونشن آن کلسٹر میونیشنز کے 112 رکن ممالک میں شامل نہیں۔‘ یہ معاہدہ کلسٹر بموں کے استعمال، منتقلی، پیداوار اور ذخیرہ کرنے پر پابندی عائد کرتا ہے۔
گزشتہ سال ایسے کئی ممالک کی جانب سے بھی کلسٹر بموں کے استعمال کی اطلاعات یا الزامات سامنے آئے جو اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں، جن میں اسرائیل، پاکستان اور امریکہ شامل ہیں۔ رپورٹ میں یمن کے ایران حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حوالے سے بھی ایسے الزامات کا ذکر کیا گیا۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کنونشن کے رکن ممالک اگلے ہفتے لاؤس میں معاہدے کی تیسری جائزہ کانفرنس کے لیے جمع ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔

مالی میں بھی کلسٹر بموں کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئیں ہیں (فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

ماہرین نے تشویش ظاہر کی ہے کہ دنیا بھر میں کلسٹر بموں کے استعمال کے خلاف موجود نفرت اور پابندی کا رجحان کمزور ہو سکتا ہے۔
کلسٹر میونیشن کولیشن کی سربراہ تمر گیبلنک نے اپنے بیان میں کہا کہ کنونشن متاثرہ کمیونٹیز کے لیے مثبت نتائج فراہم کر رہا ہے، تاہم بڑھتی ہوئی انسانی ہلاکتیں، نئے اور مسلسل استعمال، پیداوار اور ان ہتھیاروں کی منتقلی اس بات کی واضح تنبیہ ہے کہ ان کامیابیوں کو یقینی نہیں سمجھا جا سکتا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ’بین الاقوامی ترقیاتی اور امدادی فنڈنگ میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں نے متاثرہ علاقوں میں بارودی مواد کی صفائی اور متاثرین کی معاونت کے اقدامات کو نقصان پہنچایا ہے۔‘
ماہرین کے مطابق ایک اور تشویشناک پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب لتھوانیا گزشتہ سال کلسٹر بموں سے متعلق کنونشن سے دستبردار ہونے والا پہلا رکن ملک بن گیا۔
لتھوانیا کے علاوہ پولینڈ، لٹویا، ایسٹونیا اور فن لینڈ نے بھی روس کی جانب سے ممکنہ خطرات اور سرحدی تحفظ کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بارودی سرنگوں پر پابندی کے معاہدے سے علیحدگی اختیار کی۔
آئی سی آر سی کے قانونی مشیر فہد احمد نے کہا کہ ’ریاستوں کو اپنی سرحدوں کے دفاع اور تحفظ کا حق حاصل ہے، تاہم ممنوعہ ہتھیاروں پر پابندی کی ایک وجہ ہے۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ ’اگر دنیا یہ سوچنا شروع کر دے کہ بعض ممنوعہ ہتھیار قابل قبول ہو سکتے ہیں تو یہ ایک خطرناک راستہ ثابت ہوگا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کو معمول بنایا گیا تو پھر سوال پیدا ہوگا کہ اس کی حد کہاں تک جائے گی اور کیا مستقبل میں کیمیائی، حیاتیاتی یا جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو بھی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے اسے ایک انتہائی خطرناک راستہ قرار دیا۔

شیئر: