’نئی زندگی ملی‘: ملبے میں دبی سُرنگ کے اندر 2 نیپالی شہری 9 روز تک کیسے زندہ رہے؟
’نئی زندگی ملی‘: ملبے میں دبی سُرنگ کے اندر 2 نیپالی شہری 9 روز تک کیسے زندہ رہے؟
منگل 8 ستمبر 2026 9:58
کبیر مہرجن اور سنجے ساہ کو نو روز بعد ایک سرنگ میں سے زندہ نکالا گیا تھا (فوٹو: روئٹرز)
ان کی حالت خراب ہو رہی تھی، وہ کیچڑ میں دھنسے ہوش اور بے ہوشی کی درمیانی کیفیت میں تھے اور ان کو لگا کہ شاید آخری وقت آ گیا ہے، مگر پھر اچانک ٹارچ کی روشنی دکھائی دی اور کچھ آوازیں بھی سنیں۔
یہ تھے نیپال کے کبیر مہرجن جو اس سرنگ کے اندر 9 روز سے موجود تھے جو تباہ کن سیلاب آنے کے بعد کیچڑ اور ملبے میں دب گئی تھی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس طویل مشکل سے گزرنے کے بعد جب کبیر مہرجن کو ہسپتال میں ہوش آیا تو وہ اپنی اہلیہ کو بھی نہ پہچان سکے۔
کبیر مہرجن بھی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے ان سینکڑوں کارکنوں میں شامل تھے جو 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب کے وقت سرنگوں میں پھنس گئے تھے۔ اس واقعے ایک ہزار تین سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ہزاروں لاپتہ ہوئے۔
امدادی کارروائی میں شامل، ٹنلز کے ماہر انجینیئر اور رکن پارلیمان شری رام نیوپانے کا کہنا ہے کہ کبیر مہرجن اور فورمین سنجے ساہ کسی طرح سرنگ کے اس حصے میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے جہاں آکسیجن موجود تھی۔
ان دو افراد کے معجراتی طور پر زندہ بچ جانے کی خبر نے امدادی کارروائیوں میں نئی جان ڈال دی تھی اور مزید افراد کے زندہ ملنے کی امید بھی بندھ گئی تھی۔
دو افراد کے زندہ ملنے کے بعد سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا گیا (فوٹو: روئٹرز)
روئٹرز کی رپورٹ میں مذکورہ دونوں افراد کی کہانی کے لیے درجن بھر سے زائد لوگوں سے بات چیت کی جن میں ان کے رشتہ دار، انجینیئر، سرکاری حکام اور امدادی کارکن شامل تھے۔
اسی طرح واقعے سے متعلق دستاویزات، نقشوں اور امدادی کارکنوں کے درمیان ہونے والی اندرونی گفتگو کا بھی جائزہ لیا۔
کبیر مہرجن نے صبح ساڑھے سات بجے تریشولی تھری اے ہائیڈرو منصوبے کے مرکز میں اپنی ڈیوٹی شروع کرنے سے قبل اپنی اہلیہ کو فون کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’مجھے سرنگ کے اندر جانا ہے، وہاں موبائل نیٹ ورک نہیں ہو گا، اس لیے جب واپس آؤں گا تو رابطہ کروں گا۔‘
ان کے سرنگ میں جانے کے بعد قریباً ایک گھنٹے بعد گلیشیئر کا وہ ٹکڑا دریا میں گرا جس نے تھوڑی دیر بعد قیامت ڈھا دی، باہر ہونے والی تباہی تو اپنی جگہ مگر 900 کے قریب کارکن بھی سرنگوں کے اندر ہی پھنس گئے۔
سیلاب سے نیپال میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی (فوٹو: اے ایف پی)
دارالحکومت کھٹمنڈو میں پاور پروجیکٹ کے مرکزی دفتر میں سرنگوں کے اندر کی مانیٹرنگ بھی ہو رہی تھی مگر پھر ایک ایک کر کے سکرینز کالی ہوتی گئیں اور سب رابطے منقطع ہو گئے۔
نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی کے انچارج انجینیئر سورج دہال جو امدادی کارروائیوں میں بھی شامل رہے، نے بتایا کہ شروع میں زیادہ پریشان نہیں ہوئے کیونکہ نیپال میں سیلاب معمول کی بات ہے مگر پھر اندازہ ہوا کہ صورت حال معمول سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔
کبیر مہرجن کی اہلیہ شوبھا مہرجن اپنے شوہر سے بار بار رابطے کی کوشش کرتی رہیں مگر ناکام رہیں۔
پاور ہاؤس کے کنٹرول روم میں کام کرنے والے سنجے ساہ نے کارکنوں کو فوری طور پر باہر نکلنے کی ہدایت کی۔
اس کے نتیجے میں کچھ کارکن سرنگوں سے نکلنے میں کامیاب بھی رہے مگر وہ لہروں کی نذر ہو گئے جو کہ نگرانی کے لیے لگی ویڈیوز کیمروں کی ویڈیوز میں دکھائی دیتے ہیں۔
سیلاب سے ہونے والی تباہی کے مناظر اب بھی نیپال میں دیکھے جا سکتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
انجینیئرگ ڈرائنگ کے مطابق جس ٹنل میں سے ان دونوں افراد کو بچایا گیا اس کے اندر جانے کے چار راستے ہیں جو کہ کیچڑ میں ڈوبے ہوئے تھے اور وہاں کسی کے زندہ ہونے کی امید نہیں تھی تاہم کچھ کارکن اندر داخل ہوئے۔
تاہم پھر شری رام نیوپانے کو ایک ایسی جگہ دکھائی دی جو سرنگ کے اندر ایک طرف کو نکلا ایک کھوکھلا حصہ تھا اور یہی وہی مقام تھا جہاں کبیر مہرجن اور سنجے ساہ موجود تھے اور یہ جگہ سرنگ سے دہانے سے 160 میٹر کے فاصلے پر تھی۔
کبیر نے بعد میں اہلیہ کو بتایا کہ سرنگ کا وہ کونا ہمارے لیے ایک ایسا قید خانہ بنا جس کی وجہ سے زندگی بچی جبکہ ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ اسی کی بدولت ہی انہیں نئی زندگی ملی۔
ان کا کہنا تھا کہ جس کیچڑ بھرے پانی میں سوتے پیاس لگنے پر اسی کو پیتے تھے۔