اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کا شہر بھر کے تمام شیشہ کیفیز کو فوری طور پر بند کرنے کا اعلان
بدھ 9 ستمبر 2026 15:49
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر کے تمام شیشہ کیفیز کو فوری طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بدھ کو ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر فوری عمل درآمد کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت میں شیشہ کیفے چلانے پر تاحکمِ ثانی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘
ڈپٹی کمشنر نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اس پابندی کے تحت این او سی کے حامل تمام شیشہ کیفیز، خواہ وہ آؤٹ ڈور ہوں یا اِن ڈور کو شیشہ کا کاروبار چلانے سے روک دیا گیا ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’احکامات کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں کیفے کو فوراً سیل کر دیا جائے گا اور مالک کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا جائے گا، جبکہ اسسٹنٹ کمشنرز بلاتفریق کارروائیاں کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر انسپیکشن یقینی بنائیں گے۔‘
تاہم یہاں یہ سوال اہم ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے شیشہ کیفے کے خلاف کیا احکامات جاری کیے ہیں؟
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں شیشہ کیفیز کی تعداد، این او سی کی خلاف ورزیوں اور اُن کے خلاف کارروائی سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو ایک ماہ کے اندر باقاعدہ قواعد و ضوابط (رُولز) بنانے کی ہدایت کی ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے انتظامیہ کو واضح حکم دیا کہ بغیر رُولز کے اِن کیفیز کو نہیں چلنے دیا جائے گا اور جہاں بھی غیر قانونی سرگرمی یا خلاف ورزی کا پتا چلے، فوری طور پر کیفے سیل کر دیا جائے۔
عدالتی احکامات کا فوری نتیجہ، شہر بھر میں شیشہ کیفیز پر مکمل پابندی
عدالت عالیہ کے اِن احکامات کے فوری بعد اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر کے تمام شیشہ کیفیز فوری طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں مزید بتایا گیا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر فوراً عمل درآمد کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت میں شیشہ کیفے چلانے پر تاحکمِ ثانی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘
یہ پیش رفت اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر اِن درخواستوں کی سماعت کے دوران سامنے آئی جن میں شہر میں چلنے والے شیشہ کیفیز کی تفصیلات اور این او سی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایکشن کی رپورٹ طلب کی گئی تھی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے سامنے آئی جی پولیس اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔ اس کے علاوہ ایڈووکیٹ جنرل نوید حیات ملک اور قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل منظور احمد ججہ بھی عدالت میں حاضر ہوئے۔
چیف جسٹس کا اظہارِ برہمی
چیف جسٹس نے کاروبار کی آڑ میں نوجوان نسل کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے کاروبار کا بہت احترام ہے مگر پورے کا پورا شہر تباہ نہ کریں۔ ایسا نہ ہو کہ کل آپ کا بھائی یا آپ کے گھر کا کوئی شخص اس کا شکار ہو جائے۔‘
اُنہوں نے مزید کہا کہ ’تمباکو کے ساتھ اگر چَرس کو ملا دیا جائے تو اس کو سموکنگ ہی کہیں گے۔ ایک اوپن جگہ بیٹھ کر یہ سب کچھ ہو رہا ہے، یہ تو آپ اپنی نسلیں تباہی کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔‘
سماعت کے دوران آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ ’عدالتی احکامات کے بعد سخت ایکشن لیا گیا ہے، کچھ افراد پر ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں اور آگاہی مہم بھی شروع کی گئی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’چھاپوں کے دوران 14 اور 15 سال کے بچے بھی کیفیز میں موجود پائے گئے، جبکہ متعدد مقامات پر مالکان کی طرف سے مزاحمت اور ریڈ کے وقت دروازے بند کرنے کا سامنا کرنا پڑا۔‘
قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل منظور احمد ججہ نے کہا کہ ’شیشہ بیچنے والوں میں بھی 18 سال یا اس سے کم عمر کے بچے شامل ہیں۔‘ انہوں نے عدالت سے وزارتِ صحت اور حکومت کو رُولز بنانے کی ڈائریکشن جاری کرنے کی استدعا کی۔‘
ضلعی انتظامیہ کا عدالت میں جمع کروایا گیا تحریری جواب
کیس کی سماعت کے دوران پر چیف کمشنر اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عدالت میں اپنا تحریری جواب بھی جمع کروایا گیا۔
جواب میں بتایا گیا ہے کہ ’وفاقی حکومت کی جانب سے باقاعدہ قوانین کی منظوری تک شیشہ کیفے کے این او سی عارضی انتظام کے تحت بغیر کسی فیس کے جاری کیے جا رہے ہیں۔‘
’ہائی کورٹ اور عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کی روشنی میں شیشہ صرف کُھلی اور بغیر چھت والی جگہوں پر فراہم کرنے کی اجازت ہے۔‘
بیان کے مطابق ’کھلی جگہ پر شیشہ سَرو کرنے کے لیے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر سے الگ تحریری ’ٹیرس پرمٹ‘ حاصل کرنا لازمی ہے۔ریسٹورنٹ کے اندرونی حصے یا چھت والی کسی بھی جگہ تمباکو نوشی اور شیشہ پیش کرنے پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔’
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’شیشہ اور دیگر تمباکو مصنوعات صرف بالغ افراد کو پیش کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔‘ ’اس کے علاوہ، شیشہ کیفیز میں کوئلہ اور متعلقہ سامان غیر محفوظ طریقے سے رکھنے کے باعث آتشزدگی کے خطرے کے پیشِ نظر ٹیموں کو فائر سلنڈرز کی میعاد اور سیفٹی چیک کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔‘
